سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب
باب: مریض کی عیادت سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 2087
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُّونِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ فَنَفِّسُوا لَهُ فِي أَجَلِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا وَيُطَيِّبُ نَفْسَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مریض کے پاس جاؤ تو موت کے سلسلے میں اس کا غم دور کرو ۱؎ یہ تقدیر تو نہیں بدلتا ہے لیکن مریض کا دل خوش کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2087]
یہ حدیث غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2087]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجنائز 1 (1438) (تحفة الأشراف: 4292) (ضعیف جداً) (سند میں موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمي منکر الحدیث راوی ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کے لیے درازی عمر اور صحت یابی کی دعا کرو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (1438) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (303) ، المشكاة (1572) ، ضعيف الجامع الصغير (488) ، الضعيفة (184) //
قال الشيخ زبير على زئي:(2087) إسناده ضعيف /جه 1438
موسي بن محمد : منكر الحديث (تقدم: 1823)
موسي بن محمد : منكر الحديث (تقدم: 1823)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2087
| إذا دخلتم على المريض فنفسوا له في أجله فإن ذلك لا يرد شيئا ويطيب نفسه |
سنن ابن ماجه |
1438
| إذا دخلتم على المريض فنفسوا له في الأجل فإن ذلك لا يرد شيئا وهو يطيب بنفس المريض |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2087 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2087
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اس کے لیے درازی عمر اور صحت یابی کی دعا کرو۔
نوٹ:
(سند میں موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمي منکر الحدیث راوی ہے)
وضاحت:
1؎:
یعنی اس کے لیے درازی عمر اور صحت یابی کی دعا کرو۔
نوٹ:
(سند میں موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمي منکر الحدیث راوی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2087]
محمد بن إبراهيم القرشي ← أبو سعيد الخدري