🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
63. باب ما جاء في ذكر ابن صائد
باب: ابن صائد (ابن صیاد) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2246
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " صَحِبَنِي ابْنُ صَائِدٍ إِمَّا حُجَّاجًا، وَإِمَّا مُعْتَمِرِينَ، فَانْطَلَقَ النَّاسُ وَتُرِكْتُ أَنَا وَهُوَ، فَلَمَّا خَلَصْتُ بِهِ اقْشَعْرَرْتُ مِنْهُ وَاسْتَوْحَشْتُ مِنْهُ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ فِيهِ، فَلَمَّا نَزَلْتُ، قُلْتُ لَهُ: ضَعْ مَتَاعَكَ حَيْثُ تِلْكَ الشَّجَرَةِ، قَالَ: فَأَبْصَرَ غَنَمًا فَأَخَذَ الْقَدَحَ فَانْطَلَقَ، فَاسْتَحْلَبَ ثُمَّ أَتَانِي بِلَبَنٍ، فَقَالَ لِي: يَا أَبَا سَعِيدٍ، اشْرَبْ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَشْرَبَ مِنْ يَدِهِ شَيْئًا لِمَا يَقُولُ النَّاسُ فِيهِ، فَقُلْتُ لَهُ: هَذَا الْيَوْمُ يَوْمٌ صَائِفٌ، وَإِنِّي أَكْرَهُ فِيهِ اللَّبَنَ، قَالَ لِي: يَا أَبَا سَعِيدٍ، هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ حَبْلًا فَأُوثِقَهُ إِلَى شَجَرَةٍ ثُمَّ أَخْتَنِقَ لِمَا يَقُولُ النَّاسُ لِي، وَفِيَّ أَرَأَيْتَ مَنْ خَفِيَ عَلَيْهِ حَدِيثِي فَلَنْ يَخْفَى عَلَيْكُمْ، أَلَسْتُمْ أَعْلَمَ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ كَافِرٌ وَأَنَا مُسْلِمٌ، أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ عَقِيمٌ لَا يُولَدُ لَهُ وَقَدْ خَلَّفْتُ وَلَدِي بِالْمَدِينَةِ، أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ أَوْ لَا تَحِلُّ لَهُ مَكَّةُ وَالْمَدِينَةُ، أَلَسْتُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ ذَا أَنْطَلِقُ مَعَكَ إِلَى مَكَّةَ، فَوَاللَّهِ مَا زَالَ يَجِيءُ بِهَذَا حَتَّى قُلْتُ فَلَعَلَّهُ مَكْذُوبٌ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّكَ خَبَرًا حَقًّا، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ وَالِدَهُ وَأَعْرِفُ أَيْنَ هُوَ السَّاعَةَ مِنَ الْأَرْضِ، فَقُلْتُ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حج یا عمرہ میں ابن صائد (ابن صیاد) میرے ساتھ تھا، لوگ آگے چلے گئے اور ہم دونوں پیچھے رہ گئے، جب میں اس کے ساتھ اکیلے رہ گیا تو لوگ اس کے بارے میں جو کہتے تھے اس کی وجہ سے میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے اور اس سے مجھے خوف محسوس ہونے لگا، چنانچہ جب میں سواری سے اترا تو اس سے کہا: اس درخت کے پاس اپنا سامان رکھ دو، پھر اس نے کچھ بکریوں کو دیکھا تو پیالہ لیا اور جا کر دودھ نکال لایا، پھر میرے پاس دودھ لے آیا اور مجھ سے کہا: ابوسعید! پیو، لیکن میں نے اس کے ہاتھ کا کچھ بھی پینا پسند نہیں کیا، اس وجہ سے جو لوگ اس کے بارے میں کچھ کہتے تھے (یعنی دجال ہے) چنانچہ میں نے اس سے کہا: آج کا دن سخت گرمی کا ہے اس لیے میں آج دودھ پینا بہتر نہیں سمجھتا، اس نے کہا: ابوسعید! میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک رسی سے اپنے آپ کو اس درخت سے باندھ لوں اور گلا گھونٹ کر مر جاؤں یہ اس وجہ سے کہ لوگ جو میرے بارے میں کہتے ہیں، بدگمانی کرتے ہیں، آپ بتائیے لوگوں سے میری باتیں بھلے ہی چھپی ہوں مگر آپ سے تو نہیں چھپی ہیں؟ انصار کی جماعت! کیا آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے سب سے بڑے جانکار نہیں ہیں؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دجال کے بارے میں) یہ نہیں فرمایا ہے کہ وہ کافر ہے؟ جب کہ میں مسلمان ہوں، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ بانجھ ہے؟ اس کی اولاد نہیں ہو گی، جب کہ میں نے مدینہ میں اپنی اولاد چھوڑی ہے، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ مدینہ اور مکہ میں داخل نہیں ہو گا؟ کیا میں مدینہ کا نہیں ہوں؟ اور اب آپ کے ساتھ چل کر مکہ جا رہا ہوں، ابو سعید خدری کہتے ہیں: اللہ کی قسم! وہ ایسی ہی دلیلیں پیش کرتا رہا یہاں تک کہ میں کہنے لگا: شاید لوگ اس کے متعلق جھوٹ بولتے ہیں، پھر اس نے کہا: ابوسعید! اللہ کی قسم! اس کے بارے میں آپ کو سچی بات بتاؤں؟ اللہ کی قسم! میں دجال کو جانتا ہوں، اس کے باپ کو جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ اس وقت زمین کے کس خطہٰ میں ہے تب میں نے کہا: تمہارے لیے تمام دن تباہی ہو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2246]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفتن 19 (2927/91) (تحفة الأشراف: 4328) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جو دلائل تم نے پیش کئے ان کی بنیاد پر تمہارے متعلق میں نے جو حسن ظن قائم کیا تھا تمہاری اس آخری بات کو سن کر میرا حسن ظن جاتا رہا اور مجھے تجھ سے بدگمانی ہو گئی (شاید یہ اس کے ذہنی مریض ہونے کی وجہ سے تھا، یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کو اس کی اول فول باتوں کی وجہ سے دجال تک سمجھنے لگے)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة
Newالمنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥سعيد بن إياس الجريري، أبو مسعود
Newسعيد بن إياس الجريري ← المنذر بن مالك العوفي
ثقة
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← سعيد بن إياس الجريري
ثقة
👤←👥سفيان بن وكيع الرؤاسي، أبو محمد
Newسفيان بن وكيع الرؤاسي ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي
مقبول
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
7349
ألم يقل رسول الله إنه يهودي وقد أسلمت قال ولا يولد له وقد ولد لي وقال إن الله قد حرم عليه مكة وقد حججت
صحيح مسلم
7350
ألم يقل رسول الله هو كافر وأنا مسلم أوليس قد قال رسول الله هو عقيم لا يولد له وقد تركت ولدي بالمدينة أوليس قد قال رسول الله لا يدخل المدينة ولا مكة وقد أقبلت من المدينة وأنا أريد مكة
جامع الترمذي
2246
ألم يقل رسول الله إنه كافر وأنا مسلم ألم يقل رسول الله إنه عقيم لا يولد له وقد خلفت ولدي بالمدينة ألم يقل رسول الله لا يدخل أو لا تحل له مكة والمدينة ألست من أهل المدينة وهو ذا أنطلق معك إلى مكة
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2246 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2246
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جو دلائل تم نے پیش کئے ان کی بنیاد پر تمہارے متعلق میں نے جو حسن ظن قائم کیا تھا تمہاری اس آخری بات کو سن کر میرا حسن ظن جاتا رہا اور مجھے تجھ سے بد گمانی ہوگئی (شاید یہ اس کے ذہنی مریض ہونے کی وجہ سے تھا،
یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کو اس کی اول فول باتوں کی وجہ سے دجال تک سمجھنے لگے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2246]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7349
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ابن صیاد نے مجھے ایک بات کہی اس سے مجھے شرم و حیاء آگئی اس مسئلہ میں میں لوگوں کو معذور سمجھتا ہوں لیکن اے محمد کے ساتھیو! تم میرے بارے میں ایسی باتیں کیوں کرتے ہو۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا ہے۔"وہ یہودی ہے۔"اور میں تو اسلام کا اظہار کر چکا ہوں، آپ نے فرمایا:"اور اس کی اولاد نہیں ہوگی۔"اور میری اولاد ہے اور آپ نے فرمایا:" اللہ نے اس پر مکہ کا داخلہ حرام قراردیا ہے۔"اور میں حج کر... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7349]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
دعویٰ اسلام کے باوجود،
اس قسم کی باطل باتیں کرنا اور دجال ہونے کو ناپسند نہ کرنا،
اس سے یہ معلوم ہوتا ہے،
آخری دور میں یہی دجال کا روپ دھارے گا،
ابھی یہ پردہ اخفاء میں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7349]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 2246 in Urdu