🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب ذهبت النبوة وبقيت المبشرات
باب: نبوت کے ختم ہونے اور بشارتوں کے باقی رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2272
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زيَادٍ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ، فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ "، قَالَ: فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " لَكِنْ الْمُبَشِّرَاتُ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: " رُؤْيَا الْمُسْلِمِ، وَهِيَ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأُمِّ كُرْزٍ، وَأَبِي أَسِيدٍ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، لہٰذا میرے بعد کوئی رسول اور کوئی نبی نہ ہو گا، انس کہتے ہیں: یہ بات لوگوں پر گراں گزری تو آپ نے فرمایا: البتہ بشارتیں باقی ہیں، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بشارتیں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: مسلمان کا خواب اور یہ نبوت کا ایک حصہ ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی مختار بن فلفل کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ، حذیفہ بن اسید، ابن عباس، ام کرز اور ابواسید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2272]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، وانظر صحیح البخاری/التعبیر 2 (6983)، (تحفة الأشراف: 1582)، وط/الرؤیا 1 (1)، و مسند احمد (3/67) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اس امت کے لیے سب سے عظیم بشارت تھی، اللہ رب العالمین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر جو احسان اس امت پر کیا ہے ایسا احسان کسی دوسری امت پر نہیں کیا، اسے اسلام جیسی نعمت سے سرفراز کیا، رب العالمین اپنے اس احسان کا ذکر کچھ اس طرح فرما رہا ہے «لقد من الله على المؤمنين إذ بعث فيهم رسولا من أنفسهم» (آل عمران: ۱۶۴)، آپ کی ذات گرامی اس امت کے لیے سراپا بشارت ہی بشارت تھی، دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد آپ کے فرمان کے مطابق بشارتوں میں سے اچھے خواب کے علاوہ کوئی دوسری چیز باتی نہ رہ گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥مختار بن فلفل القرشي
Newمختار بن فلفل القرشي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← مختار بن فلفل القرشي
ثقة
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان
Newعفان بن مسلم الباهلي ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة ثبت
👤←👥الحسن بن محمد الزعفراني، أبو علي
Newالحسن بن محمد الزعفراني ← عفان بن مسلم الباهلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6987
رؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
صحيح البخاري
6983
الرؤيا الحسنة من الرجل الصالح جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
صحيح مسلم
5909
رؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
جامع الترمذي
2271
رؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
جامع الترمذي
2272
رؤيا المسلم وهي جزء من أجزاء النبوة
سنن أبي داود
5018
رؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
سنن ابن ماجه
3893
الرؤيا الحسنة من الرجل الصالح جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
618
الرؤيا الحسنة من الرجل الصالح جزء من ستة واربعين جزءا من النبوة
المعجم الصغير للطبراني
1179
الرؤيا الصادقة الصالحة جزء من سبعين جزءا من النبوة
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2272 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2272
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اس امت کے لیے سب سے عظیم بشارت تھی،
اللہ رب العالمین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کومبعوث فرما کر جو احسان اس امت پرکیا ہے ایسا احسان کسی دوسری امت پرنہیں کیا،
اسے اسلام جیسی نعمت سے سرفرازکیا،
رب العالمین اپنے اس احسان کا ذکرکچھ اس طرح فرما رہا ہے ﴿لَقَدْ مَنَّ اللهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ ...﴾ (آل عمران: 164) آپ کی ذات گرامی اس امت کے لیے سراپا بشارت ہی بشارت تھی،
دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق بشارتوں میں سے اچھے خواب کے علاوہ کوئی دوسری چیز باقی نہ رہ گئی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2272]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 618
یہ ضروری نہیں کہ خواب من وعن پورا ہو بلکہ اس کی تعبیر ممکن ہے
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: الرؤيا الحسنة من الرجل الصالح جزء من ستة واربعين جزءا من النبوة . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک آ دمی کا اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 618]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 6983، من حديث مالك به]

تفقه:
➊ نبوت کے بہت سے حصے ہیں مثلاً وحی، جبریل علیہ السلام کا آنا، براہ راست کلام، پردے کے پیچھے سے کلام، الہام، کشف، فرشتے کا انسانی صورت میں وحی لانا، غیب کی خبریں اور سچے خواب وغیرہ۔ ان میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کے بعد اب نبوت کی تمام قسمیں، حصے اور اجزاء ہمیشہ کے لئے ختم اور منقطع ہیں سوائے سچے خوابوں کے جنہیں نیک آدمی کبھی کبھار دیکھتا ہے۔ اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ جو شخص سچے خواب دیکھتا ہے وہ نبی یا رسول ہے بلکہ نبوت اور رسالت کا دروازہ قیامت تک ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا ہے لہٰذا اب نہ کوئی نبی پیدا ہوگا اور نہ رسول پیدا ہوگا۔
➋ بہت سے اہل بدعت کے مذاہب کا دارومدار جھوٹے، خود ساختہ اور شیطانی خوابوں پر ہے جن کے ذریعے سے وہ قرآن و حدیث اور اجماع کو رد کر دیتے ہیں۔
➌ یہ ضروری نہیں کہ خواب من و عن پورا ہو بلکہ اس کی تعبیر ممکن ہے اور خواب میں رموز و اشارات اور مجاز وغیرہ ہو سکتا ہے۔
➍ مشہور ثقہ امام قاضی ابوجعفر احمد بن اسحاق بن بہلول بن حسان بن سنان التنوخی البغدادی رحمہ اللہ (متوفي 318ھ) نے کہا: میں عراقیوں کے مذہب پر تھا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ آپ پہلی تکبیر میں اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع الیدین کرتے تھے۔ [سنن الدار قطني 1/292 ح1112، وسنده صحيح]
ظاہر ہے کہ حنفی حضرات اس سچے اور نیک آدمی کے خواب کو صحیح نہیں مانتے لہٰذا ثابت ہوا کہ صحابہ کرام کے بعد کسی امتی کا خواب حجت نہیں ہے اگرچہ وہ یہ دعویٰ کرے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے۔
➎ نیز دیکھئے: [ح127، 375، 512]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 121]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5018
خواب کا بیان۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5018]
فوائد ومسائل:

صاحب ایمان کی یہ فضیلت ہے۔
کہ اس کے خواب بالعموم سچے ہوتے ہیں۔
مومن کے خواب کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ کہنے کی ایک توجیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دور نبوت تیئس سال کا ہے اور ان میں پہلے چھ ماہ تک آپ کو محض خواب آیا کرتے تھے۔
جو اس قدر سچے اور حقیقت ہوتے تھے، جیسے رات کے اندھیرے کے بعد صبح صادق کا طلوع ہونا۔
تو یہ چھ ماہ تیئس سال کا چھیالیسواں حصہ ہے۔
تو اسی نسبت سے مومن کے خواب کے متعلق یہ کہا گیا ہے۔
واللہ اعلم۔


جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ اس کے خواب سچے ہوا کریں تو اسے چاہیے کہ اپنے ایمان وعمل کو خالص بنانے میں محنت کرے۔
اور ہمیشہ سچ بولنے کو اپنا معمول بنائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5018]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3893
مسلمان اچھا خواب دیکھے یا اس کے بارے میں دیکھا جائے اس کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3893]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
نبی کا خواب ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔
کیونکہ اس پر شیطان کا اثر نہیں ہوتا البتہ بعض اوقات وہ خواب ایسا ہوتا ہے۔
جس کی تعبیر کی ضرورت ہوتی ہے۔
نیک آدمی کو کبھی غلط خواب بھی آتے ہیں کیونکہ وہ معصوم نہیں ہوتا۔
تاہم جتنا زیادہ نیک ہو اتنا زیادہ اس کے خواب سچا ہونے کی اُمید ہوتی ہے۔

(2)
حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
ان کے بعد کوئی آدمی نبی نہیں ہوسکتا۔
اس لئے خواب کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ خواب دیکھنے والا شرف نبوت میں شریک ہوجاتا ہے۔
بلکہ مطلب یہ ہے کہ نبوت کے چھیالیس یا ستر حصے ہیں۔
اور ان میں سے ایک حصہ اچھے خواب بھی ہیں۔
اگرچہ نبوت اب باقی نہیں رہی مگر اس کا یہ حصہ قیامت تک باقی ہے۔
اس کی ایک توجیہہ یہ بیان کی جاتی ہے۔
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دور نبوت تیئس سال کا ہے۔
اور ان میں پہلے چھ ماہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محض خواب آیا کرتے تھے۔
جو اس قدر سچے اور حقیقت پر مبنی ہوتے تھے جیسے رات کے اندھیرے کے بعد صبح صادق کاطلوع ہونا چونکہ یہ چھ ماہ تیئس سال کا چھیا لیسواں حصہ ہے اس نسبت سے مومن کے خواب کے متعلق یہ کہا گیا ہے۔
واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3893]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6983
6983. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6983]
حدیث حاشیہ:
ان چھیالیس حصوں کا علم اللہ ہی کو ہے ممکن ہے اللہ نے اپنے رسول پاک کو بھی ان سے آگاہ فرما دیا ہو ان حصوں کی تعداد کے بارے میں مختلف روایات ہیں جن سے زیادہ سے زیادہ نیک خواب کی فضیلت مراد ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6983]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6983
6983. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6983]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود خواب کو حسنہ کہا ہے اور نیک لوگوں کے اچھے خوابوں کو نبوت کا چھیالسیواں حصہ قراردیا ہے،یعنی ضروری نہیں کہ ہر خواب مزاج کے اتارچڑھاؤ یا ذاتی رجحانات ہی کا نتیجہ ہو،اگرچہ ایک روایت میں مومن کے ہر خواب کے لیے یہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔
(صحیح البخاري، التعبیر، حدیث 6994)
لیکن اس حدیث کے مطابق مومن کے اچھے خوابوں کو یہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ وہ نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوتے ہیں۔

یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ بعض اوقات مومن بھی پراگندہ خوابوں سے دوچار ہو جاتا ہے لیکن ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے کیونکہ مومن کے متعلق شیطان کی دخل اندازی بہت کم ہوتی ہے، اچھے خواب کے متعلق نبوت کے چھیالیسواں حصے کی تشریح ہم آئندہ کریں گے۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6983]