سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب قوله (لهم البشرى في الحياة الدنيا )
باب: آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ کی تفسیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2275
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، وَعِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: نُبِّئْتُ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ: لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة يونس آية 64، قَالَ: " هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُؤْمِنُ أَوْ تُرَى لَهُ "، قَالَ حَرْبٌ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد اچھے اور نیک خواب ہیں جسے مومن دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- حرب نے اپنی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے «عنعنہ» کے بجائے صیغہ تحدیث «حدثني» کے صیغے کے ساتھ روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2275]
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- حرب نے اپنی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے «عنعنہ» کے بجائے صیغہ تحدیث «حدثني» کے صیغے کے ساتھ روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2275]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الرؤیا 1 (3898) (تحفة الأشراف: 5123) (صحیح) (ابن ماجہ کی سند متصل ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1786)
قال الشيخ زبير على زئي:(2275) إسناده ضعيف
السند منقطع و يحيي بن أبى كثير عنعن (تقدم:1136)
السند منقطع و يحيي بن أبى كثير عنعن (تقدم:1136)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبادة بن الصامت الأنصاري، أبو الوليد | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عبادة بن الصامت الأنصاري | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر يحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل | |
👤←👥عمران بن داور العمي، أبو العوام عمران بن داور العمي ← يحيى بن أبي كثير الطائي | ورمي برأي الخوارج، صدوق يهم | |
👤←👥حرب بن شداد اليشكري، أبو الخطاب حرب بن شداد اليشكري ← عمران بن داور العمي | ثقة | |
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود أبو داود الطيالسي ← حرب بن شداد اليشكري | ثقة حافظ غلط في أحاديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← أبو داود الطيالسي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2275
| الرؤيا الصالحة يراها المؤمن أو ترى له |
سنن ابن ماجه |
3898
| الرؤيا الصالحة يراها المسلم أو ترى له |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2275 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2275
اردو حاشہ:
نوٹ:
(ابن ماجہ کی سند متصل ہے)
نوٹ:
(ابن ماجہ کی سند متصل ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2275]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3898
مسلمان اچھا خواب دیکھے یا اس کے بارے میں دیکھا جائے اس کا بیان۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «لهم البشرى في الحياة الدنيا وفي الآخرة» (سورة يونس: ۶۳) ”ان کے لیے دنیا کی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے“ کے بارے میں سوال کیا (کہ اس آیت کا کیا مطلب ہے؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اچھے خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لیے کوئی اور دیکھتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3898]
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «لهم البشرى في الحياة الدنيا وفي الآخرة» (سورة يونس: ۶۳) ”ان کے لیے دنیا کی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے“ کے بارے میں سوال کیا (کہ اس آیت کا کیا مطلب ہے؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اچھے خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لیے کوئی اور دیکھتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3898]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اچھا خواب اپنے بارے میں بھی ہوسکتاہے۔
اور کسی دوسرے مسلمان کے بارے میں بھی دونوں صورتوں میں یہ خوشخبری ہے۔
مثلاً ایک آدمی دیکھتا ہے کہ وہ کعبہ کا طواف کررہا ہے۔
یہ اس کا اپنے بارے میں خواب ہے۔
یا دیکھتا ہے کہ اس کا والد طواف کررہا ہے تو یہ اس کے والد کےبارے میں خوشخبری ہے۔
(2)
آخرت میں مومن کو جنت میں داخلے کی خوشخبری ملے گی۔
یہ روح قبض ہوتے وقت بھی ملتی ہے۔
اور قبر کے سوالات کے بعد بھی ملتی ہے۔
دایئں ہاتھ میں اعمال نامہ ملنا بھی خوشخبری ہوگی۔
اعمال کا وزن ہوتے وقت نیکیوں کے پلڑے کا بھاری ہوجانا بھی خوشخبری ہے۔
(3)
فوت شدہ کواچھی حالت میں دیکھنا بھی خوش خبری ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اچھا خواب اپنے بارے میں بھی ہوسکتاہے۔
اور کسی دوسرے مسلمان کے بارے میں بھی دونوں صورتوں میں یہ خوشخبری ہے۔
مثلاً ایک آدمی دیکھتا ہے کہ وہ کعبہ کا طواف کررہا ہے۔
یہ اس کا اپنے بارے میں خواب ہے۔
یا دیکھتا ہے کہ اس کا والد طواف کررہا ہے تو یہ اس کے والد کےبارے میں خوشخبری ہے۔
(2)
آخرت میں مومن کو جنت میں داخلے کی خوشخبری ملے گی۔
یہ روح قبض ہوتے وقت بھی ملتی ہے۔
اور قبر کے سوالات کے بعد بھی ملتی ہے۔
دایئں ہاتھ میں اعمال نامہ ملنا بھی خوشخبری ہوگی۔
اعمال کا وزن ہوتے وقت نیکیوں کے پلڑے کا بھاری ہوجانا بھی خوشخبری ہے۔
(3)
فوت شدہ کواچھی حالت میں دیکھنا بھی خوش خبری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3898]
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عبادة بن الصامت الأنصاري