🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. باب ما جاء في كراهية الصف بين السواري
باب: ستونوں کے درمیان صف لگانے کی کراہت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 229
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئِ بْنِ عُرْوَةَ الْمُرَادِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ، قَالَ: صَلَّيْنَا خَلْفَ أَمِيرٍ مِنَ الْأُمَرَاءِ فَاضْطَرَّنَا النَّاسُ فَصَلَّيْنَا بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ، فَلَمَّا صَلَّيْنَا، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: " كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَفِي الْبَاب عَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُصَفَّ بَيْنَ السَّوَارِي، وَبِهِ يَقُولُ: أحمد، وإسحاق، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ.
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ ہم نے امراء میں سے ایک امیر کے پیچھے نماز پڑھی، لوگوں نے ہمیں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے پر مجبور کر دیا ۱؎ جب ہم نماز پڑھ چکے تو انس بن مالک رضی الله عنہ نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس سے بچتے تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں قرۃ بن ایاس مزنی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۳- علماء میں سے کچھ لوگوں نے ستونوں کے درمیان صف لگانے کو مکروہ جانا ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، اور علماء کچھ نے اس کی اجازت دی ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 229]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 95 (673)، سنن النسائی/الإمامة 33 (822)، (تحفة الأشراف: 980)، مسند احمد (3/131) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اتنی بھیڑ ہو گئی کہ مسجد میں جگہ نہیں رہ گئی مجبوراً ہمیں دونوں ستونوں کے درمیان کھڑا ہونا پڑا۔
۲؎: اگر مجبوری ہو تب ستونوں کے درمیان صف لگائی جائے، ورنہ عام حالات میں اس سے پرہیز کیا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1002)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عبد الحميد بن محمود المعولي
Newعبد الحميد بن محمود المعولي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥يحيى بن هانئ المرادي، أبو داود
Newيحيى بن هانئ المرادي ← عبد الحميد بن محمود المعولي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← يحيى بن هانئ المرادي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
229
كنا نتقي هذا على عهد رسول الله
سنن أبي داود
673
كنا نتقي هذا على عهد رسول الله
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 229 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 229
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی اتنی بھیڑ ہو گئی کہ مسجد میں جگہ نہیں رہ گئی مجبوراً ہمیں دونوں ستونوں کے درمیان کھڑا ہونا پڑا۔

2؎:
اگر مجبوری ہو تب ستونوں کے درمیان صف لگائی جائے،
ورنہ عام حالات میں اس سے پرہیز کیا جائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 229]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 673
ستونوں کے درمیان صف بندی کا بیان۔
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن نماز پڑھی تو (ازدحام کی وجہ سے) ہمیں ستونوں کی طرف دھکیل دیا گیا۔ چنانچہ ہم (ستونوں سے) آگے پیچھے ہو گئے (یعنی ستونوں کے درمیان کھڑے نہیں ہوئے) اس پر انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہم اس سے بچا کرتے تھے (یعنی ستونوں کے درمیان صفیں نہیں بناتے تھے)۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 673]
673۔ اردو حاشیہ:
چونکہ ستونوں کی وجہ سے صف کٹ جاتی ہے، اس لیے جائز نہیں۔ ہاں اگر ازدحام شدید اور انبوہ کثیر کی وجہ سے کہیں اور جگہ نہ مل رہی ہو تو اضطراراً مباح ہے مگر حتی الامکان بچنا چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 673]