🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب في قول النبي صلى الله عليه وسلم لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ جو مجھے معلوم ہے وہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے تو بہت کم ہنسو گے اور بہت زیادہ روؤ گے​۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2312
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ، أَطَتِ السَّمَاءُ وَحُقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا وَمَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلَّهِ، وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشِ، وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ شَجَرَةً تُعْضَدُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَنَسٍ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَيُرْوَى مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ، قَالَ: لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ شَجَرَةً تُعْضَدُ.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سن رہا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ بیشک آسمان چرچرا رہا ہے اور اسے چرچرانے کا حق بھی ہے، اس لیے کہ اس میں چار انگل کی بھی جگہ نہیں خالی ہے مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی اللہ کے حضور رکھے ہوئے ہے، اللہ کی قسم! جو میں جانتا ہوں اگر وہ تم لوگ بھی جان لو تو ہنسو گے کم اور رؤ گے زیادہ اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہو گے، اور یقیناً تم لوگ اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہوئے میدانوں میں نکل جاتے، (اور ابوذر رضی الله عنہ) فرمایا کرتے تھے کہ کاش میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اور یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اس کے علاوہ ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ ابوذر رضی الله عنہ فرمایا کرتے تھے: کاش میں ایک درخت ہوتا کہ جسے لوگ کاٹ ڈالتے،
۳- اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، ابن عباس اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الزہد 19 (4190) (تحفة الأشراف: 11986) (حسن) (حدیث میں ”لوددت …“ کا جملہ مرفوع نہیں ہے، ابو ذر رضی الله عنہ کا اپنا قول ہے)»
قال الشيخ الألباني: حسن دون قوله: " لوددت.... "، ابن ماجة (4190)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥مورق العجلي، أبو المعتمر
Newمورق العجلي ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← مورق العجلي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥إبراهيم بن مهاجر البجلي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن مهاجر البجلي ← مجاهد بن جبر القرشي
مقبول
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← إبراهيم بن مهاجر البجلي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الله الزبيرى، أبو أحمد
Newمحمد بن عبد الله الزبيرى ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة ثبت قد يخطئ في حديث الثوري
👤←👥أحمد بن منيع البغوي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newأحمد بن منيع البغوي ← محمد بن عبد الله الزبيرى
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2312
أطت السماء وحق لها أن تئط ما فيها موضع أربع أصابع إلا وملك واضع جبهته ساجدا لله لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا وما تلذذتم بالنساء على الفرش ولخرجتم إلى الصعدات تجأرون إلى الله
سنن ابن ماجه
4190
السماء أطت وحق لها أن تئط ما فيها موضع أربع أصابع إلا وملك واضع جبهته ساجدا لله لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا وما تلذذتم بالنساء على الفرشات ولخرجتم إلى الصعدات تجأرون إلى الله
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2312 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2312
اردو حاشہ:
نوٹ:
(حدیث میں (لوددت ...) کا جملہ مرفوع نہیں ہے،
ابوذر رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2312]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4190
غمگین ہونے اور رونے کا بیان۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، اور سن رہا ہوں جو تم نہیں سنتے، بیشک آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کو حق ہے کہ وہ چرچرائے، اس میں چار انگل کی بھی کوئی جگہ نہیں ہے مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی اللہ کے حضور سجدے میں رکھے ہوئے ہے، اللہ کی قسم! اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، اور تم بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہوتے، اور تم میدانوں کی طرف نکل جاتے اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہوئے، اللہ کی قسم! میری تمنا ہے کہ میں ایک درخت ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4190]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت، جہنم اور آسمانوں کے حالات دکھا دیے تھے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تقویٰ اور خوف الہی کی وہ کیفیت حاصل تھی جو دسوروں کو حاصل نہیں ہوسکتی۔

(2)
  فرشتے اللہ تعالی کی عظیم ترین مخلوق ہیں اور اللہ کی عظمت سے کما حقہ واقف ہونے کی وجہ سے وہ اللہ کے سامنے انتہائی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔

(3)
انسان کمزور اور محتاج، مخلوق ہے، اسے خشیت وانابت کی زیادہ ضرورت ہے۔

(4)
سجدہ فرشتوں کی عبادت میں بھی شامل ہے اور یہ بندے کو اللہ کے قریب کرنے والا عظیم ترین عمل ہے۔

(5)
اللہ کے خوف کا تقاضہ ہے کہ اس کی عظمت کا احساس کرکے اور اپنے گناہوں اور کمزوریوں پر نظر کرکے ندامت پیدا ہو، اور اللہ کے سامنے رو رو کر اس سے معافی مانگی جائے۔

(6)
آسمان بہت مضبوط مخلوق ہے لیکن اللہ تعالی کی عظمت کے احساس سے اس میں ایسی آواز پیدا ہوتی ہے جیسے کسی تخت یا کجاوے پر بہت زیادہ وزنی چیز رکھ دینے سے پیدا ہوتی ہے۔

(7)
آسمان کا چرچرانا عقل کے خلاف نہیں، لہٰذا اس کی تاویل کی ضرورت نہیں۔

(8)
حدیث کا آخری جملہ (والله لوددت۔
۔
۔
۔
تعضد)
 قسم ہے اللہ کی! میرا جی چاہتا ہے۔
۔
۔
۔
۔
مدرج ہے، یعنی یہ جملہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی نہیں بلکہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4190]