🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب منه
باب: آخرت کے مقابلے میں دنیا سمندر کے ایک قطرے کی مانند ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2323
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَال: سَمِعْتُ مُسْتَوْرِدًا أَخَا بَنِي فِهْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَاذَا يَرْجِعُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، وَوَالِدُ قَيْسٍ أَبُو حَازِمٍ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ عَوْفٍ، وَهُوَ مِنَ الصَّحَابَةِ.
مستورد بن شداد فہری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی مثال آخرت کے سامنے ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کی انگلی سمندر کا کتنا پانی اپنے ساتھ لائی ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اسماعیل بن ابی خالد کی کنیت ابوعبداللہ ہے،
۳- قیس کے والد ابوحازم کا نام عبد بن عوف ہے اور یہ صحابی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/صفة الجنة 14 (2858)، سنن ابن ماجہ/الزہد 3 (4108) (تحفة الأشراف: 11255)، و مسند احمد (4/229، 230) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں آخرت کی نعمتوں اور اس کی دائمی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی قدر و قیمت اور اس کی زندگی کا تناسب بیان کیا گیا ہے، یہ تناسب ایسے ہی ہے جیسے ایک قطرہ پانی اور سمندر کے پانی کے درمیان تناسب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (4108)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المستورد بن شداد القرشيصحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← المستورد بن شداد القرشي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
7197
ما الدنيا في الآخرة إلا مثل ما يجعل أحدكم إصبعه هذه
جامع الترمذي
2323
ما الدنيا في الآخرة إلا مثل ما يجعل أحدكم إصبعه في اليم فلينظر بماذا يرجع
سنن ابن ماجه
4108
ما مثل الدنيا في الآخرة إلا مثل ما يجعل أحدكم إصبعه في اليم فلينظر بم يرجع
المعجم الصغير للطبراني
1008
ما الدنيا من أولها إلى آخرها في الآخرة إلا كما يجعل أحدكم أصبعه في اليم فلينظر بما يرجع
مسندالحميدي
878
ما الدنيا في الآخرة إلا كما يجعل أحدكم إصبعه في اليم، ثم ينظر بم يرجع إليه
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2323 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2323
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں آخرت کی نعمتوں اور اس کی دائمی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی قدروقیمت اور اس کی زندگی کا تناسب بیان کیا گیا ہے،
یہ تناسب ایسے ہی ہے جیسے ایک قطرہ پانی اور سمندرکے پانی کے درمیان تناسب ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2323]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4108
دنیا کی مثال۔
مستورد رضی اللہ عنہ (جو بنی فہر کے ایک فرد تھے) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے، اور پھر دیکھے کہ کتنا پانی اس کی انگلی میں واپس آتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4108]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دنیا کی زندگی انتہائی قلیل ہےجب کہ آخرت کی زندگی ابدی ہے جس کی انتہا نہیں۔

(2)
جنت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں کے مقابلے میں اس قدر قیمتی ہیں کہ جنت میں چند انچ خالی زمین کی قیمت دنیا کی تمام دولت اور خزانوں سے زیادہ ہے پھر اس کے محلات اور باغات اور ان میں موجود نعمتیں، پاک باز بیویاں، خدام وغیرہ ان کی قدر وقیمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
خصوصاً دیدار الہی تو ایسی ہے کہ اس کے مقابلے میں جنت کی بڑی نعمت ہیچ ہے۔

(3)
مثال دیکر بیان کرنے سے مسئلہ زیادہ واضح اور قابل فہم ہوجاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4108]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:878
878- سیدنا مستور دفہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنی انگلی کو سمندر میں ڈالے اور پھر اس بات کا جائزہ لے کہ اس انگلی پر کتنا پانی آیا ہے؟ سفیان کہتے ہیں: ابن ابوخالد یہ روایت نقل کرتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ میں نے یہ روایت سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ سے سنی ہے جن کا تعلق بنو فہر سے ہے، تو وہ یہ الفاظ استعمال کرتے ہوئے لفظی غلطی کر جاتے تھے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:878]
فائدہ:

① دنیا کی زندگی انتہائی قلیل ہے جبکہ آخرت کی زندگی ابدی ہے جس کی انتہا نہیں۔
② جنت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں کے مقابلے میں اس قدر قیمتی ہیں کہ جنت میں چند انچ خالی زمین کی قیمت دنیا کی تمام دولت اور خزانوں سے زیادہ ہے پھر اس کے محلات اور باغات اور ان میں موجود پاک باز بیویاں، خدام وغیرہ ان کی قدر و قیمت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ خصوصا دیدار الہٰی کی نعمت توایسی ہے کہ اس کے مقابلے میں جنت کی بڑی سے بڑی نعمت ہیچ ہے۔ مثال دے کر بیان کرنے سے مسئلہ زیادہ قابل فہم ہو جاتا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 877]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7197
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے بنو فہر کے فرد حضرت مستور رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ کی قسم! دنیا کی آخرت کے مقابلہ میں مثال بس ایسی ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی اپنی ایک انگلی دریا میں ڈال کر نکال لے یحییٰ نے شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ کیا پھر دیکھ لے، پانی کی کتنی مقدار اس کے ساتھ لگ کر آئی ہے۔ اسامہ کی حدیث میں ہے اسماعیل نے انگوٹھے سے اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7197]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مدت اور لذات آخرت کے دوام و ہمیشگی اور اس کی نعمتوں کے مقابلہ میں اتنی ہی بے حقیقت اور بے وقعت ہیں،
جتنا کے دریا کے مقابلہ میں انگلی پر لگا پانی اور یہ مثال بھی درحقیقت صرف سمجھانے کے لیے دی گئی ہے،
ورنہ دراصل دنیا کو آخرت کے مقابلہ میں یہ نسبت بھی نہیں ہے،
کیونکہ یہ دنیا اور اس کی ہر چیز محدود اور متناہی،
یعنی فانی اور عارضی ہے اور آخرت لامحدود اور غیر متناہی،
یعنی دائمی اور ابدی ہے اور ریاضی کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ محدودو متناہی کو لا محدود اور غیر متناہی کے ساتھ کوئی نسبت نہیں دی جا سکتی،
اب اس شخص سے زیادہ محروم اور خسارہ والا کون ہو سکتا ہے،
جو دنیا کو حاصل کرنے کے لیے تو خوب جدوجہد کرتا ہے،
مگر آخرت کی تیاری کی طرف سے بالکل غافل،
بے نیاز اور لاپرواہ ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7197]