سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب ما جاء أن فتنة هذه الأمة في المال
باب: امت محمدیہ کا فتنہ مال ہے۔
حدیث نمبر: 2336
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً، وَفِتْنَةُ أُمَّتِي الْمَالُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ.
کعب بن عیاض رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ہر امت کی آزمائش کسی نہ کسی چیز میں ہے اور میری امت کی آزمائش مال میں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- اس حدیث کو ہم معاویہ بن صالح کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2336]
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- اس حدیث کو ہم معاویہ بن صالح کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 11129)، و مسند احمد (4/160) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: فتنہ سے مراد آزمائش ہے، اس حدیث میں اس امت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ مال کی محبت میں اعتدال سے کام لے، ورنہ وہ اس آزمائش میں ناکام ہو سکتی ہے اور یہ مال جو اللہ کی نعمت ہے اس کے لیے شدید عذاب کا سبب بن سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (594)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2336
| لكل أمة فتنة وفتنة أمتي المال |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2336 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2336
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
فتنہ سے مراد آزمائش ہے،
اس حدیث میں اس امت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ مال کی محبت میں اعتدال سے کام لے،
ورنہ وہ اس آزمائش میں ناکام ہوسکتی ہے اوریہ مال جو اللہ کی نعمت ہے اس کے لیے شدیدعذاب کا سبب بن سکتا ہے۔
وضاحت:
1؎:
فتنہ سے مراد آزمائش ہے،
اس حدیث میں اس امت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ مال کی محبت میں اعتدال سے کام لے،
ورنہ وہ اس آزمائش میں ناکام ہوسکتی ہے اوریہ مال جو اللہ کی نعمت ہے اس کے لیے شدیدعذاب کا سبب بن سکتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2336]
جبير بن نفير الحضرمي ← كعب بن عياض الأشعري