سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب منه
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 2465
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ صَبِيحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ وَهُوَ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ هَمَّهُ جَعَلَ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ، وَمَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ جَعَلَ اللَّهُ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَفَرَّقَ عَلَيْهِ شَمْلَهُ وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا قُدِّرَ لَهُ ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا مقصود زندگی آخرت ہو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں استغناء و بےنیازی پیدا کر دیتا ہے، اور اسے دل جمعی عطا کرتا ہے ۱؎، اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے اور جس کا مقصود طلب دنیا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی محتاجی اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے اور اس کی جمع خاطر کو پریشان کر دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس اتنی ہی آتی ہے جو اس کے لیے مقدر ہے“۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2465]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1674) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جس کی نیت طلب آخرت ہو گی اللہ رب العالمین اسے معمولی زندگی پر بھی صابر و قانع بنا دے گا تاکہ وہ دنیا کا حریص اور اس کا طالب بن کر نہ رہے، اس کے پراگندہ دنیاوی خیالات کو جمع کر دے گا، اسے دل جمعی نصیب ہو گی، اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آئے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح (947 - 948)
قال الشيخ زبير على زئي:(2465) إسناده ضعيف
يزيد بن أبان زاهد ضعيف (تقدم: 1398)
يزيد بن أبان زاهد ضعيف (تقدم: 1398)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2465
| من كانت الآخرة همه جعل الله غناه في قلبه وجمع له شمله وأتته الدنيا وهي راغمة ومن كانت الدنيا همه جعل الله فقره بين عينيه وفرق عليه شمله ولم يأته من الدنيا إلا ما قدر له |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2465 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2465
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جس کی نیت طلب آخرت ہوگی اللہ رب العالمین اسے معمولی زندگی پر بھی صابر و قانع بنا دے گا تاکہ وہ دنیا کا حریص اوراس کا طالب بن کر نہ رہے،
اس کے پراگندہ دنیاوی خیالات کو جمع کردے گا،
اسے دل جمعی نصیب ہوگی،
اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہوکر آئے گی۔
وضاحت:
1؎:
یعنی جس کی نیت طلب آخرت ہوگی اللہ رب العالمین اسے معمولی زندگی پر بھی صابر و قانع بنا دے گا تاکہ وہ دنیا کا حریص اوراس کا طالب بن کر نہ رہے،
اس کے پراگندہ دنیاوی خیالات کو جمع کردے گا،
اسے دل جمعی نصیب ہوگی،
اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہوکر آئے گی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2465]
يزيد بن أبان الرقاشي ← أنس بن مالك الأنصاري