🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب منه
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2472
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي وَلِبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا شَيْءٌ يُوَارِيهِ إِبْطُ بِلَالٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ حِينَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَارِبًا مِنْ مَكَّةَ وَمَعَهُ بِلَالٌ إِنَّمَا كَانَ مَعَ بِلَالٍ مِنَ الطَّعَامِ مَا يَحْمِلُهُ تَحْتَ إِبْطِهِ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ کی راہ میں ایسا ڈرایا گیا کہ اس طرح کسی کو نہیں ڈرایا گیا اور اللہ کی راہ میں مجھے ایسی تکلیفیں پہنچائی گئی ہیں کہ اس طرح کسی کو نہیں پہنچائی گئیں، مجھ پر مسلسل تیس دن و رات گزر جاتے اور میرے اور بلال کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوتا کہ جسے کوئی جان والا کھائے سوائے تھوڑی سی چیز کے جسے بلال اپنی بغل میں چھپا لیتے تھے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- ـ اس حدیث میں وہ دن مراد ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل مکہ سے بیزار ہو کر مکہ سے نکل گئے تھے اور ساتھ میں بلال رضی الله عنہ تھے، ان کے پاس کچھ کھانا تھا جسے وہ بغل میں دبائے ہوئے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (151) (تحفة الأشراف: 341) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے کلمہ کی سربلندی اور اس کے دین کے اظہار کے لیے آپ نے کس قدر جسمانی تکالیف برداشت کی ہیں، اور اس پر مستزاد یہ کہ مسلسل کئی کئی دن گزر جاتے اور آپ بھوکے رہتے، ظاہر ہے بلال نے اپنی بغل میں جو کچھ چھپا رکھا تھا وہ کب تک ساتھ دیتا، اس حدیث میں داعیان حق کے لیے عبرت و نصیحت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (151)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥روح بن أسلم الباهلي، أبو حاتم
Newروح بن أسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي، أبو محمد
Newعبد الله بن عبد الرحمن الدارمي ← روح بن أسلم الباهلي
ثقة فاضل متقن حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2472
أخفت في الله وما يخاف أحد ولقد أوذيت في الله وما يؤذى أحد ولقد أتت علي ثلاثون من بين يوم وليلة وما لي ولبلال طعام يأكله ذو كبد إلا شيء يواريه إبط بلال
سنن ابن ماجه
151
أوذيت في الله وما يؤذى أحد ولقد أخفت في الله وما يخاف أحد ولقد أتت علي ثالثة وما لي ولبلال طعام يأكله ذو كبد إلا ما وارى إبط بلال
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2472 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2472
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ اللہ کے کلمہ کی سربلندی اور اس کے دین کے اظہار کے لیے آپ نے کس قدر جسمانی تکالیف برداشت کی ہیں،
اور اس پر مستزاد یہ کہ مسلسل کئی کئی دن گذرجاتے اور آپ بھوکے رہتے،
ظاہرہے بلال نے اپنی بغل میں جوکچھ چھپا رکھا تھا وہ کب تک ساتھ دیتا،
اس حدیث میں داعیان حق کے لیے عبرت ونصیحت ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2472]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث151
بلال رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں مجھے ایسی تکلیفیں دی گئیں کہ اتنی کسی کو نہ دی گئیں ہوں گی، اور میں اللہ کی راہ میں اس قدر ڈرایا گیا کہ اتنا کوئی نہیں ڈرایا گیا ہو گا، اور مجھ پہ مسلسل تین ایام ایسے گزرے ہیں کہ میرے اور بلال کے لیے کوئی چیز کھانے کی نہ تھی جسے کوئی ذی روح کھاتا سوائے اس کے جو بلال کی بغل میں چھپا ہوا تھا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 151]
اردو حاشہ:
(1)
چونکہ توحید کی دعوت لے کر کھڑے ہونے والے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے، اس لیے مشرکین کے ظلم و جور کا اولین نشانہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات اقدس تھی۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے پہلے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مظالم برداشت کیے ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کی طرف دعوت دینے والے کو صبرو استقامت کا مظاہرہ دوسروں سے زیادہ کرنا چاہیے تاکہ وہ دوسروں کے لیے اسوہ بن سکے۔

(2)
حضرت بلال رضی اللہ عنہ ان جاں نثار صحابہ کرام میں سے ہیں جنہوں نے اولیں دور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مصائب برداشت کیے ہیں۔
اس سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 151]