سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب منه
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 2490
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَيْدٍ التَّغْلَبِيِّ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَقْبَلَهُ الرَّجُلُ فَصَافَحَهُ لَا يَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ يَنْزِعُ، وَلَا يَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنْ وَجْهِهِ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَصْرِفُهُ، وَلَمْ يُرَ مُقَدِّمًا رُكْبَتَيْهِ بَيْنَ يَدَيْ جَلِيسٍ لَهُ " , قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کوئی شخص آتا اور آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہیں نکالتے جب تک وہ شخص خود اپنا ہاتھ نہ نکال لیتا، اور آپ اپنا رخ اس کی طرف سے نہیں پھیرتے، جب تک کہ وہ خود اپنا رخ نہ پھیر لیتا، اور آپ نے اپنے کسی ساتھی کے سامنے کبھی پاؤں نہیں پھیلائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2490]
یہ حدیث غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2490]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأدب 21 (3716) (تحفة الأشراف: 841) (ضعیف) (سند میں زید العمی ضعیف راوی ہیں، مگر مصافحہ والا ٹکڑا دیگر احادیث سے ثابت ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف إلا جملة المصافحة فهي ثابتة، ابن ماجة (3716)
قال الشيخ زبير على زئي:(2490) إسناده ضعيف / جه 3716
زيد العمي : ضعيف (تقدم: 1442) وتلميذه عمران بن زيد : لين (تق: 5156) وللحديث شاهد ضعيف عند أبى داود: 4794
زيد العمي : ضعيف (تقدم: 1442) وتلميذه عمران بن زيد : لين (تق: 5156) وللحديث شاهد ضعيف عند أبى داود: 4794
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥زيد بن الحواري العمي، أبو الحواري زيد بن الحواري العمي ← أنس بن مالك الأنصاري | ضعيف الحديث | |
👤←👥عمران بن زيد الثعلبي، أبو محمد، أبو يحيى عمران بن زيد الثعلبي ← زيد بن الحواري العمي | مقبول | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← عمران بن زيد الثعلبي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل سويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2490
| إذا استقبله الرجل فصافحه لا ينزع يده من يده حتى يكون الرجل ينزع ولا يصرف وجهه عن وجهه حتى يكون الرجل هو الذي يصرفه ولم ير مقدما ركبتيه بين يدي جليس له |
سنن ابن ماجه |
3716
| إذا لقي الرجل فكلمه لم يصرف وجهه عنه حتى يكون هو الذي ينصرف وإذا صافحه لم ينزع يده من يده حتى يكون هو الذي ينزعها ولم ير متقدما بركبتيه جليسا له قط |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2490 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2490
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں زید العمی ضعیف راوی ہیں،
مگر مصافحہ والا ٹکڑا دیگر احادیث سے ثابت ہے)
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں زید العمی ضعیف راوی ہیں،
مگر مصافحہ والا ٹکڑا دیگر احادیث سے ثابت ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2490]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3716
ہم نشیں اور ساتھی کی عزت و تکریم کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب کسی شخص سے ملاقات ہوتی اور آپ اس سے بات کرتے تو اس وقت تک منہ نہ پھیرتے جب تک وہ خود نہ پھیر لیتا، اور جب آپ کسی سے مصافحہ کرتے تو اس وقت تک ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک کہ وہ خود نہ چھوڑ دیتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی ساتھی کے سامنے کبھی پاؤں نہیں پھیلایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3716]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب کسی شخص سے ملاقات ہوتی اور آپ اس سے بات کرتے تو اس وقت تک منہ نہ پھیرتے جب تک وہ خود نہ پھیر لیتا، اور جب آپ کسی سے مصافحہ کرتے تو اس وقت تک ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک کہ وہ خود نہ چھوڑ دیتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی ساتھی کے سامنے کبھی پاؤں نہیں پھیلایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3716]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جب کہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت اس جملے:
جب کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مصافحہ کرتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ الگ نہ کرتے حتی کہ وہی اپنا ہاتھ الگ کرتا۔
کے سوا ضعیف ہے، نیز اس جملے کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ جملہ ثابت ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے: (الصحيحة للألباني: 5/ 635، 637 رقم: 2485)
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جب کہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت اس جملے:
جب کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مصافحہ کرتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ الگ نہ کرتے حتی کہ وہی اپنا ہاتھ الگ کرتا۔
کے سوا ضعیف ہے، نیز اس جملے کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ جملہ ثابت ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے: (الصحيحة للألباني: 5/ 635، 637 رقم: 2485)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3716]
زيد بن الحواري العمي ← أنس بن مالك الأنصاري