🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب ما جاء في التسمية عند الوضوء
باب: وضو کے شروع میں بسم اللہ کہنے کا بیان​۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي ثِفَالٍ الْمُرِّيِّ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حُوَيْطِبٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ , وَأَبِي سَعِيدٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: لَا أَعْلَمُ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثًا لَهُ إِسْنَادٌ جَيِّدٌ، وقَالَ إِسْحَاقُ: إِنْ تَرَكَ التَّسْمِيَةَ عَامِدًا أَعَادَ الْوُضُوءَ وَإِنْ كَانَ نَاسِيًا أَوْ مُتَأَوِّلًا أَجْزَأَهُ , قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ: أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَبَاحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أَبِيهَا , وَأَبُوهَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، وَأَبُو ثِفَالٍ الْمُرِّيُّ اسْمُهُ: ثُمَامَةُ بْنُ حُصَيْنٍ، وَرَبَاحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ أَبُو بَكْرِ بْنُ حُوَيْطِبٍ، مِنْهُمْ مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حُوَيْطِبٍ، فَنَسَبَهُ إِلَى جَدِّهِ.
سعید بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو «بسم اللہ» کر کے وضو شروع نہ کرے اس کا وضو نہیں ہوتا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، ابو سعید خدری، سہل بن سعد اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: مجھے اس باب میں کوئی ایسی حدیث نہیں معلوم جس کی سند عمدہ ہو،
۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: اگر کوئی قصداً «بسم اللہ» کہنا چھوڑ دے تو وہ دوبارہ وضو کرے اور اگر بھول کر چھوڑے یا وہ اس حدیث کی تاویل کر رہا ہو تو یہ اسے کافی ہو جائے گا،
۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے اچھی یہی مذکورہ بالا حدیث رباح بن عبدالرحمٰن کی ہے، یعنی سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کی حدیث۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 25]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 41 (398) (تحفة الأشراف: 4470) مسند احمد (4/70) و (5/381-382) و6/382) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ «بسم اللہ» کا پڑھنا وضو کے لیے رکن ہے یا شرط اس کے بغیر وضو صحیح نہیں ہو گا، کیونکہ «لاوضوئ» سے صحت اور وجود کی نفی ہو رہی ہے نہ کہ کمال کی، بعض لوگوں نے اسے کمال کی نفی پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ بغیر «بسم اللہ» کیے بھی وضو صحیح ہو جائے گا لیکن وضو کامل نہیں ہو گا، لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ «لا» کو اپنے حقیقی معنی نفی صحت میں لینا ہی حقیقت ہے، اور نفی کمال کے معنی میں لینا مجاز ہے اور یہاں مجازی معنی لینے کی کوئی مجبوری نہیں ہے، نفی کمال کے معنی میں آئی احادیث ثابت نہیں ہیں، امام احمد کے نزدیک راجح «بسم اللہ» کا وجوب ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (399)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعيد بن زيد القرشي، أبو الأعورصحابي
👤←👥أسماء بنت سعيد العدوية
Newأسماء بنت سعيد العدوية ← سعيد بن زيد القرشي
صحابي
👤←👥رباح بن عبد الرحمن القرشي، أبو بكر
Newرباح بن عبد الرحمن القرشي ← أسماء بنت سعيد العدوية
مقبول
👤←👥ثمامة بن وائل الشاعر، أبو ثقال
Newثمامة بن وائل الشاعر ← رباح بن عبد الرحمن القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الرحمن بن حرملة الأسلمي، أبو حرملة
Newعبد الرحمن بن حرملة الأسلمي ← ثمامة بن وائل الشاعر
صدوق حسن الحديث
👤←👥بشر بن المفضل الرقاشي، أبو إسماعيل
Newبشر بن المفضل الرقاشي ← عبد الرحمن بن حرملة الأسلمي
ثقة ثبت
👤←👥بشر بن معاذ العقدي، أبو سهل
Newبشر بن معاذ العقدي ← بشر بن المفضل الرقاشي
ثقة
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← بشر بن معاذ العقدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
25
لا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه
سنن ابن ماجه
398
لا صلاة لمن لا وضوء له لا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 25 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ترمذی 25
محدثین کرام اور ضعیف جمع ضعیف کی مروّجہ حسن لغیرہ کا مسئلہ؟
جلیل القدر محدثین کرام نے ایسی کئی احادیث کو ضعیف وغیر ثابت قرار دیا، جن کی بہت سی سندیں ہیں اور ضعیف جمع ضعیف کے اُصول سے بعض علماء انھیں حسن لغیرہ بھی قرار دیتے ہیں، بلکہ بعض ان میں سے ایسی روایات بھی ہیں جو ہماری تحقیق میں حسن لذاتہ ہیں۔
اس مضمون میں ایسی دس روایات پیش خدمت ہیں جن پر اکابر علمائے محدثین نے جرح کی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ضعیف جمع ضعیف والی مروّجہ حسن لغیرہ کو حجت نہیں سمجھتے تھے:
— نمبر 1 —
حدیث:
«لا وضوء لمن لم یذکر اسم اللہ علیہ»
ترجمہ: جو شخص وضو پر بسم اللہ نہ پڑھے اُس کا وضو نہیں ہوتا۔
اس حدیث کی چند اسانید درج ذیل ہیں:
1: عن سعید بن زیدرضي اللہ عنہ۔ (ترمذی: 25، ابن ماجہ: 398)
2: عن أبي ھریرۃ رضي اللہ عنہ (ابو داود: 101، ابن ماجہ: 399، احمد 2/ 418 ح 9408)
3: عن أبي سعید الخدري رضي اللہ عنہ (ابن ماجہ: 397، دارمی 697، احمد 3/ 41)
اس سلسلے کی مزید روایات کے لئے ابو اسحاق الحوینی کا رسالہ کشف المخبوء بثبوت حدیث التسمیۃ عندالوضوء دیکھیں اور اس رسالہ میں حوینی مذکور نے ضعیف جمع ضعیف والی مروّجہ حسن لغیر ہ روایت کے دفاع کی ناکام کوشش بھی کر رکھی ہے۔!!
امام ابوزرعہ الدمشقی نے فرمایا:
میں نے ابو عبداللہ احمد بن حنبل (رحمہما اللہ) سے پوچھا کہ «لا وضوء لمن لم یذکر اسم اللہ علیہ» کا کیا مطلب ہے؟
انھوں نے فرمایا: اس بارے میں احادیث قوی نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنے چہرے او ر کہنیوں تک ہاتھ دھوو، پس اللہ نے تسمیے کو واجب قرار نہیں دیا اور یہ قرآن ہے اور اس کے بارے میں سنت (حدیث) ثابت نہیں ہے۔
(تاریخ ابی زرعۃ الدمشقی: 8281)
امام ابن ہانی نے کہا:
میں نے اُن (امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ) سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص وضو کے وقت بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو؟
انھوں نے فرمایا:
«یجزۂ ذلک، حدیث النبي صلی اللہ علیہ وسلم لیس إسنادہ بقوي»
اس کا وضو ہو جائے گا، بسم اللہ کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی (طرف منسوب) حدیث کی سند قوی نہیں ہے۔
(مسائل ابن ہانئ: 17)
امام اسحاق بن منصور الکوسج نے امام احمدبن حنبل رحمہما اللہ سے پوچھا:
اگر وضو کرے اور بسم اللہ نہ پڑھے تو؟
انھوں نے فرمایا:
«لا أعلم فیہ حدیثًا لہ إسنادہ جیّد»
مجھے اس بارے میں ایسی کوئی حدیث معلوم نہیں جس کی سند اچھی ہو۔
(مسائل احمد واسحاق روایۃ اسحاق بن منصور الکوسج 1/ 68 فقرہ: 2)
ثابت ہوا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ضعیف جمع ضعیف والی مروّجہ حسن لغیر ہ روایت کو حجت نہیں سمجھتے تھے۔
تنبیہ: ہماری تحقیق میں سنن ابن ماجہ (397) وغیر ہ والی حدیث حسن لذاتہ ہے، لہٰذا وضو سے پہلے بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے اور جو شخص اقامتِ حجت کے بعد بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا وضو نہیں ہوتا۔
……… اصل مضمون ………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ (جلد 5 صفحہ 173 تا 185)
[تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 73]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 25
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ((بِسْمِ اللَّهِ)) کا پڑھنا وضو کے لیے رکن ہے یا شرط اس کے بغیر وضو صحیح نہیں ہوگا،
کیونکہ ((لاَ وُضُوءَ)) سے صحت اور وجود کی نفی ہو رہی ہے نہ کہ کمال کی،
بعض لوگوں نے اسے کمال کی نفی پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ بغیر ((بِسْمِ اللَّهِ)) کیے بھی وضو صحیح ہو جائے گا لیکن وضو کامل نہیں ہوگا،
لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ ((لَا)) کو اپنے حقیقی معنی نفی صحت میں لینا ہی حقیقت ہے اورنفی کمال کے معنی میں لینا مجاز ہے اور یہاں مجازی معنی لینے کی کوئی مجبوری نہیں ہے،
نفی کمال کے معنی میں آئی احادیث ثابت نہیں ہیں،
امام احمد کے نزدیک راجح ((بِسْمِ اللَّهِ)) کا وجوب ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 25]