سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب ما جاء سباب المسلم فسوق
باب: مومن کو گالی دینا فسق ہے۔
حدیث نمبر: 2635
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: قِتَالُهُ كُفْرٌ لَيْسَ بِهِ كُفْرًا مِثْلَ الِارْتِدَادِ وَالْحُجَّةُ عَنِ الإِسْلامِ، فِي ذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قُتِلَ مُتَعَمَّدًا فَأَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءُوا قَتَلُوا وَإِنْ شَاءُوا عَفَوْا "، وَلَوْ كَانَ الْقَتْلُ كُفْرًا لَوَجَبَ الْقَتْلُ وَلَمْ يَصِحَّ الْعَفْوُ , وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَطَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا: كُفْرٌ دُونَ كُفْرٍ، وَفُسُوقٌ دُونَ فُسُوقٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی گلوچ دینا فسق ہے، اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- حدیث کے الفاظ «قتاله كفر» کا معنی و مراد یہ ہے کہ اسود عنسی کے ارتداد کے کفر جیسا کفر نہیں ہے اور اس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کر دیا گیا ہو تو اس مقتول کے اولیا و وارثین کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ چاہیں تو مقتول کے قاتل کو قصاص میں قتل کر دیں اور چاہیں تو اسے معاف کر دیں اور چھوڑ دیں۔ اگر یہ قتل کفر (حقیقی) کے درجہ میں ہوتا تو پھر قاتل کا قتل واجب ہو جاتا،
۴- ابن عباس، طاؤس، عطاء اور دوسرے بہت سے اہل علم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: یہ کفر تو ہے لیکن کمتر درجے کا کفر ہے، یہ فسق تو ہے لیکن چھوٹے درجے کا فسق ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2635]
۲- حدیث کے الفاظ «قتاله كفر» کا معنی و مراد یہ ہے کہ اسود عنسی کے ارتداد کے کفر جیسا کفر نہیں ہے اور اس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کر دیا گیا ہو تو اس مقتول کے اولیا و وارثین کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ چاہیں تو مقتول کے قاتل کو قصاص میں قتل کر دیں اور چاہیں تو اسے معاف کر دیں اور چھوڑ دیں۔ اگر یہ قتل کفر (حقیقی) کے درجہ میں ہوتا تو پھر قاتل کا قتل واجب ہو جاتا،
۴- ابن عباس، طاؤس، عطاء اور دوسرے بہت سے اہل علم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: یہ کفر تو ہے لیکن کمتر درجے کا کفر ہے، یہ فسق تو ہے لیکن چھوٹے درجے کا فسق ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 1983 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح وهو مكرر الحديث (2066)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6044
| سباب المسلم فسوق قتاله كفر |
صحيح البخاري |
48
| سباب المسلم فسوق قتاله كفر |
صحيح البخاري |
7076
| سباب المسلم فسوق قتاله كفر |
صحيح مسلم |
221
| سباب المسلم فسوق قتاله كفر |
جامع الترمذي |
2634
| قتال المسلم أخاه كفر سبابه فسوق |
جامع الترمذي |
1983
| سباب المسلم فسوق قتاله كفر |
جامع الترمذي |
2635
| سباب المسلم فسوق قتاله كفر |
سنن النسائى الصغرى |
4115
| سباب المسلم فسوق قتاله كفر |
سنن النسائى الصغرى |
4116
| سباب المسلم فسوق قتاله كفر |
سنن النسائى الصغرى |
4111
| سباب المسلم فسق قتاله كفر |
سنن النسائى الصغرى |
4114
| سباب المسلم فسوق قتاله كفر |
سنن النسائى الصغرى |
4113
| سباب المسلم فسوق قتاله كفر |
سنن ابن ماجه |
3939
| سباب المسلم فسوق قتاله كفر |
سنن ابن ماجه |
69
| سباب المسلم فسوق قتاله كفر |
بلوغ المرام |
1283
| سباب المسلم فسوق وقتاله كفر |
مسندالحميدي |
104
| سباب المسلم فسوق وقتاله كفر |
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود