🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب ما جاء في تعظيم الكذب على رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2659
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ کی نسبت کی تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2659]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المقدمة 4 (30)، وانظر أیضا ماتقدم برقم 2257 (تحفة الأشراف: 9212)، و مسند احمد (1/389، 401، 402، 405، 436، 453) (صحیح متواتر)»
وضاحت: ۱؎: مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا گناہ عظیم ہے، اسی لیے ضعیف اور موضوع روایات کا علم ہو جانے کے بعد انہیں بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیئے، یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت آپ پر جھوٹ باندھتے ہوئے کی جائے یا آپ کے لیے کی جائے دونوں صورتیں گناہ عظیم کا باعث ہیں، اس سے ان لوگوں کے باطل افکار کی تردید ہو جاتی ہے جو عبادت کی ترغیب کے لیے فضائل کے سلسلہ میں وضع احادیث کے جواز کے قائل ہیں، اللہ رب العالمین ایسے فتنے سے ہمیں محفوظ رکھے، آمین۔
قال الشيخ الألباني: صحيح متواتر، ابن ماجة (30)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥زر بن حبيش الأسدي، أبو مطرف، أبو مريم
Newزر بن حبيش الأسدي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر
Newعاصم بن أبي النجود الأسدي ← زر بن حبيش الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر
Newأبو بكر بن عياش الأسدي ← عاصم بن أبي النجود الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن يزيد الرفاعي، أبو هشام
Newمحمد بن يزيد الرفاعي ← أبو بكر بن عياش الأسدي
ضعيف الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2659
من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار
سنن ابن ماجه
30
من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2659 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2659
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا گناہ عظیم ہے،
اسی لئے ضعیف اور موضوع روایات کا علم ہو جانے کے بعد انہیں بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے،
یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت آپ پر جھوٹ باندھتے ہوئے کی جائے یا آپ کے لیے کی جائے دونوں صورتیں گناہ عظیم کا باعث ہیں،
اس سے ان لوگوں کے باطل افکار کی تردید ہو جاتی ہے جو عبادت کی ترغیب کے لیے فضائل کے سلسلہ میں وضع احادیث کے جواز کے قائل ہیں،
اللہ رب العالمین ایسے فتنے سے ہمیں محفوظ رکھے،
آمین۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2659]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث30
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جان بوجھ کر جھوٹ گھڑنے پر سخت گناہ (جہنم) کی وعید۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ گھڑا تو اس کو چاہیئے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 30]
اردو حاشہ:
(1)
جھوٹ باندھنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے پاس سے کوئی بات بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دے اور اسے حدیث کے طور پر پیش کرے۔
یہ بہت بڑا گناہ ہے۔

(2)
اسی سے محدثین نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ جب کسی موقع پر کوئی ضعیف حدیث بیان کرنے کی ضرورت پڑے تو سامعین کو بتا دیا جائے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔
اس سے استدلال درست نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ضعیف حدیث کے متعلق یہ یقین نہیں ہوتا کہ یہ واقعی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے یا راوی نے غلطی سے اس طرح بیان کر دی ہے۔

(3)
جہنم کی آگ میں ٹھکانہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ضرور جہنم میں جائے گا۔
اسے یقین کر لینا چاہیے کہ اس کے اس گناہ کی وجہ سے جہنم میں اس کے لیے جگہ متعین ہو چکی ہے، لیکن اگر وہ توبہ کر لے اور سب کو بتا دے کہ اس کی بیان کردہ فلاں فلاں حدیث خود ساختہ ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ اس کا گناہ معاف ہو جائے گا۔
تاہم محدثین اس کے بعد بھی اس کی روایت قبول نہیں کرتے۔

(4)
یہ حدیث (مُتَوَاتِر)
ہے۔
حافظ ابن صلاح رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اسے باسٹھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 30]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 2659 in Urdu