سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب ما جاء في أسماء النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اسماء گرامی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2840
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ "، وَفِي الْبَابِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے کئی نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں وہ ماحی ہوں جس کے ذریعہ اللہ کفر کو مٹاتا ہے، میں وہ حاشر ہوں جس کے قدموں پر لوگ جمع کیے جائیں گے ۱؎ میں وہ عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہ پیدا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں حذیفہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2840]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں حذیفہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2840]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 17 (3532)، وتفسیر سورة الصف 1 (4896)، صحیح مسلم/الفضائل 34 (2354) (تحفة الأشراف: 3191)، و مسند احمد (4/80، 81، 84)، وسنن الدارمی/الرقاق 59 (2817) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی میدان حشر میں لوگ میرے پیچھے ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مختصر الشمائل (315) ، الروض النضير (1 / 340)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جبير بن مطعم القرشي، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عدي | صحابي | |
👤←👥محمد بن جبير القرشي، أبو سعيد محمد بن جبير القرشي ← جبير بن مطعم القرشي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← محمد بن جبير القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥سعيد بن عبد الرحمن القرشي، أبو عبيد الله سعيد بن عبد الرحمن القرشي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4896
| لي أسماء أنا محمد أنا أحمد أنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر أنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي أنا العاقب |
صحيح البخاري |
3532
| لي خمسة أسماء أنا محمد أحمد أنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر أنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي أنا العاقب |
صحيح مسلم |
6106
| أنا محمد أنا أحمد أنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر أنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي أنا العاقب الذي ليس بعده أحد سماه الله رءوفا رحيما |
صحيح مسلم |
6105
| أنا محمد أنا أحمد أنا الماحي الذي يمحى بي الكبر أنا الحاشر الذي أحشر الناس أنا العاقب الذي ليس بعدي نبي |
جامع الترمذي |
2840
| لي أسماء أنا محمد أنا أحمد أنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر أنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي أنا العاقب الذي ليس بعدي نبي |
المعجم الصغير للطبراني |
842
| أنا أحمد ، ومحمد ، والحاشر ، والمقفي ، والخاتم |
مسندالحميدي |
565
| إن لي أسماء أنا محمد، وأنا أحمد، وأنا الماحي الذي يمحى بي الكفر، وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي، وأنا العاقب والعاقب الذي لا نبي بعده |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2840 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2840
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی میدان حشرمیں لوگ میرے پیچھے ہوں گے۔
وضاحت:
1؎:
یعنی میدان حشرمیں لوگ میرے پیچھے ہوں گے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2840]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:565
565- محمد بن جبیر اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے کچھ نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی (منانے والا) ہوں۔ میرے ذریعہ کفر کو مٹایا گیا۔ میں حاشر ہوں، لوگوں کو میرے قدموں میں جمع کیا جائے گا۔ میں عاقب ہوں، و عاقب (بعد میں آنے والا) جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:565]
فائدہ:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ناموں کا ذکر ہے بعض لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی ننانوے نام بنا رکھے ہیں، حالانکہ ان میں سے کئی نام ایسے ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اور نہ ہی ان ناموں کو یاد کرنے کی کوئی فضیلت ثابت ہے، نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ناموں کا ذکر ہے بعض لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی ننانوے نام بنا رکھے ہیں، حالانکہ ان میں سے کئی نام ایسے ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اور نہ ہی ان ناموں کو یاد کرنے کی کوئی فضیلت ثابت ہے، نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 565]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6105
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں، میرے ذریعہ کفر محو کیا جائے گا، میں حاشر ہوں، لوگ میرے پیچھے پیچھے جمع کیے جائیں گے، میں عاقب ہوں، جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6105]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
محمد:
کامل خصال محمودہ کا مالک،
جس کی بار بار تعریف کی جائے۔
احمد:
سب سے زیادہ تعریف کرنے والا،
ان دونوں چیزوں میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
جس کی تعریف خود اللہ تعالیٰ فرمائے،
اس کے محمد ہونے میں کیا شبہ اور جس کو حمد خود اللہ تعالیٰ سکھائے،
اس کے احمد ہونے میں کیا شک۔
الماحی:
مٹانے والا،
جس کے ذریعہ کفر کے دلائل و براہین کا قلع قمع کر دیا گیا،
دلیل و براہین کی رو سے وہ مٹ گیا۔
الحاشر:
اکٹھا کرنے والا،
جس کے پیچھے پیچھے لوگ میدان محشر میں جمع کیے جائیں گے،
گویا آپ کی نبوت شریعت آخری ہے،
قیامت اور آپ کے درمیان کوئی اور نبوت و شریعت نہیں ہو گی۔
عاقب:
پیچھے آنے والا،
کیونکہ آپ تمام انبیاء کے بعد آئے ہیں۔
پہلی کتابوں میں آپ کا نام احمد تھا اور قرآن میں محمد ہے۔
فوائد ومسائل:
محمد:
کامل خصال محمودہ کا مالک،
جس کی بار بار تعریف کی جائے۔
احمد:
سب سے زیادہ تعریف کرنے والا،
ان دونوں چیزوں میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
جس کی تعریف خود اللہ تعالیٰ فرمائے،
اس کے محمد ہونے میں کیا شبہ اور جس کو حمد خود اللہ تعالیٰ سکھائے،
اس کے احمد ہونے میں کیا شک۔
الماحی:
مٹانے والا،
جس کے ذریعہ کفر کے دلائل و براہین کا قلع قمع کر دیا گیا،
دلیل و براہین کی رو سے وہ مٹ گیا۔
الحاشر:
اکٹھا کرنے والا،
جس کے پیچھے پیچھے لوگ میدان محشر میں جمع کیے جائیں گے،
گویا آپ کی نبوت شریعت آخری ہے،
قیامت اور آپ کے درمیان کوئی اور نبوت و شریعت نہیں ہو گی۔
عاقب:
پیچھے آنے والا،
کیونکہ آپ تمام انبیاء کے بعد آئے ہیں۔
پہلی کتابوں میں آپ کا نام احمد تھا اور قرآن میں محمد ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6105]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4896
4896. حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بلاشبہ میرے کئی ایک نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں۔ میری وجہ سے اللہ تعالٰی کفر کو مٹائے گا۔ میں حاشر ہوں، سب لوگ میرے قدموں پر جمع کیے جائیں گے اور میں عاقب ہوں۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4896]
حدیث حاشیہ:
یعنی سب پیغمبروں کے بعد آنے والا ہوں۔
یعنی سب پیغمبروں کے بعد آنے والا ہوں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4896]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3532
3532. حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں احمد ہوں اور ماحی ہوں کیونکہ میرےذریعے سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹاتا ہے۔ میں حاشر ہوں۔ تمام لوگ میرے پیچھے جمع کیے جائیں گے۔ اور میں عاقب ہوں، یعنی سب کے بعد آنے والا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3532]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے روز روشن کی طرح واضح ہواکہ آپ کے بعد کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ودجال ہے۔
اس حدیث سے روز روشن کی طرح واضح ہواکہ آپ کے بعد کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ودجال ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3532]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3532
3532. حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں احمد ہوں اور ماحی ہوں کیونکہ میرےذریعے سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹاتا ہے۔ میں حاشر ہوں۔ تمام لوگ میرے پیچھے جمع کیے جائیں گے۔ اور میں عاقب ہوں، یعنی سب کے بعد آنے والا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3532]
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی نام ہیں۔
اس حدیث میں صرف پانچ ناموں پر اکتفا کیا گیا ہے کیونکہ یہ نام پہلی کتابوں میں موجود ہیں اور پہلی امتیں ان ناموں کو جانتی ہیں۔
پھر عدد کے مفہوم کا اعتبار نہیں ہوتا کیونکہ ایک عدد اپنے سے زیادہ عدد کی نفی نہیں کرتا۔
2۔
آخری نام عاقب ہے۔
اس کی تفسیر اس طرح کی گئی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نیا پیغمبر نہیں آئے گا،گویا آپ تمام انبیائے کرام ؑ کے بعد تشریف لائے ہیں،چنانچہ آپ کے بعد جو شخص بھی نبوت کادعویٰ کرے وہ جھوٹا دجال ہے۔
3۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار اسمائے گرامی قرآن میں مذکور ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے نناوے ناموں کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نناوے ناموں کی کھوج لگانا محل نظر ہے۔
بدعتی حضرات نے آپ کی طرف چند ایسے نام منسوب کررکھے ہیں جن میں انتہائی غلو پایا جاتا ہے،جیسے:
اسے عرش الٰہی کی قندیل!اس طرح کے اسلوب وانداز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی نام ہیں۔
اس حدیث میں صرف پانچ ناموں پر اکتفا کیا گیا ہے کیونکہ یہ نام پہلی کتابوں میں موجود ہیں اور پہلی امتیں ان ناموں کو جانتی ہیں۔
پھر عدد کے مفہوم کا اعتبار نہیں ہوتا کیونکہ ایک عدد اپنے سے زیادہ عدد کی نفی نہیں کرتا۔
2۔
آخری نام عاقب ہے۔
اس کی تفسیر اس طرح کی گئی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نیا پیغمبر نہیں آئے گا،گویا آپ تمام انبیائے کرام ؑ کے بعد تشریف لائے ہیں،چنانچہ آپ کے بعد جو شخص بھی نبوت کادعویٰ کرے وہ جھوٹا دجال ہے۔
3۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار اسمائے گرامی قرآن میں مذکور ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے نناوے ناموں کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نناوے ناموں کی کھوج لگانا محل نظر ہے۔
بدعتی حضرات نے آپ کی طرف چند ایسے نام منسوب کررکھے ہیں جن میں انتہائی غلو پایا جاتا ہے،جیسے:
اسے عرش الٰہی کی قندیل!اس طرح کے اسلوب وانداز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3532]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4896
4896. حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بلاشبہ میرے کئی ایک نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں۔ میری وجہ سے اللہ تعالٰی کفر کو مٹائے گا۔ میں حاشر ہوں، سب لوگ میرے قدموں پر جمع کیے جائیں گے اور میں عاقب ہوں۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4896]
حدیث حاشیہ:
1۔
لفظ احمد کے دو معنی ہیں۔
۔
اپنے پروردگار کی بہت زیادہ حمد کرنے والا۔
۔
جس کی بندوں میں سب سے زیادہ تعریف کی گئی ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں معنوں کا مصداق ہیں اور یہ دونوں صفات آپ کی ذات اقدس میں پائی جاتی ہیں لیکن موجودہ تورات وانجیل میں یہ نام نہیں ہیں کیو نکہ ان میں تحریف کردی گئی ہے تحریف کے باوجود اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی واضح صفات اب بھی مذکور ہیں جن کے پیش نظر آپ کو پہنچانا جا سکتا ہے۔
2۔
اہل کتاب میں بعض منصف مزاج لوگ انھی صفات کی بنا پر ایمان بھی لے آئے تھے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ مشہور ہے۔
شاہ حبشہ حضرت نجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس صفات کی تصدیق کی تھی۔
واللہ اعلم۔
1۔
لفظ احمد کے دو معنی ہیں۔
اپنے پروردگار کی بہت زیادہ حمد کرنے والا۔
جس کی بندوں میں سب سے زیادہ تعریف کی گئی ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں معنوں کا مصداق ہیں اور یہ دونوں صفات آپ کی ذات اقدس میں پائی جاتی ہیں لیکن موجودہ تورات وانجیل میں یہ نام نہیں ہیں کیو نکہ ان میں تحریف کردی گئی ہے تحریف کے باوجود اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی واضح صفات اب بھی مذکور ہیں جن کے پیش نظر آپ کو پہنچانا جا سکتا ہے۔
2۔
اہل کتاب میں بعض منصف مزاج لوگ انھی صفات کی بنا پر ایمان بھی لے آئے تھے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ مشہور ہے۔
شاہ حبشہ حضرت نجاشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس صفات کی تصدیق کی تھی۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4896]
محمد بن جبير القرشي ← جبير بن مطعم القرشي