علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب ما جاء في مثل ابن آدم وأجله وأمله
باب: آدمی کی موت اور آرزو کی مثال۔
حدیث نمبر: 2870
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَي، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذِهِ وَمَا هَذِهِ؟ وَرَمَى بِحَصَاتَيْنِ "، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " هَذَاكَ الْأَمَلُ وَهَذَاكَ الْأَجَلُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کنکریاں پھینکتے ہوئے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے اور یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو بہتر معلوم ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ امید (و آرزو) ہے اور یہ اجل (موت) ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2870]
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأمثال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1950) (ضعیف) (سند میں بشیر بن مہاجر لین الحدیث راوی ہیں)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ انسان کی آرزوئیں بہت ہیں ان آرزؤں کی تکمیل میں وہ سرگرداں رہتا ہے، اس کی بہت ساری امیدوں کی تکمیل ابھی باقی ہے اور اچانک موت اسے اپنے آہنی شکنجے میں دبوچ لیتی ہے، گویا انسان یہ کہتا ہے کہ موت سے قبل اپنی ساری آرزوئیں پوری کر لے گا جب کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، التعليق الرغيب (4 / 133)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيب | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل عبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي | ثقة | |
👤←👥بشير بن المهاجر الغنوي بشير بن المهاجر الغنوي ← عبد الله بن بريدة الأسلمي | مقبول | |
👤←👥خلاد بن يحيى السلمي، أبو محمد خلاد بن يحيى السلمي ← بشير بن المهاجر الغنوي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن إسماعيل البخاري، أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري ← خلاد بن يحيى السلمي | جبل الحفظ وإمام الدنيا في فقه الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2870
| هذاك الأمل وهذاك الأجل |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2870 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2870
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ انسان کی آرزوئیں بہت ہیں ان آرزؤں کی تکمیل میں وہ سرگرداں رہتا ہے،
اس کی بہت ساری امیدوں کی تکمیل ابھی باقی ہے اور اچانک موت اسے اپنے آہنی شکنجے میں دبوچ لیتی ہے،
گویا انسان یہ کہتا ہے کہ موت سے قبل اپنی ساری آرزوئیں پوری کر لے گا جب کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔
نوٹ:
(سند میں بشیر بن مہاجر لین الحدیث راوی ہیں)
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ انسان کی آرزوئیں بہت ہیں ان آرزؤں کی تکمیل میں وہ سرگرداں رہتا ہے،
اس کی بہت ساری امیدوں کی تکمیل ابھی باقی ہے اور اچانک موت اسے اپنے آہنی شکنجے میں دبوچ لیتی ہے،
گویا انسان یہ کہتا ہے کہ موت سے قبل اپنی ساری آرزوئیں پوری کر لے گا جب کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔
نوٹ:
(سند میں بشیر بن مہاجر لین الحدیث راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2870]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2870 in Urdu
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي