سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب ومن سورة الواقعة
باب: سورۃ الواقعہ میں «فروح» کو راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2938
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ هَارُونَ الْأَعْوَرِ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَأُ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّةُ نَعِيمٍ سورة الواقعة آية 89 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَارُونَ الْأَعْوَرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «فروح وريحان وجنة نعيم» ۱؎ پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اسے ہم صرف ہارون اعور کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2938]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اسے ہم صرف ہارون اعور کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2938]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الحروف (3991) (تحفة الأشراف: 16204) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: مشہور قراءت «فَرَوحٌ» (راء پر فتحہ کے ساتھ) ہے، یعقوب کی قراءت راء کے ضمہ کے ساتھ ہے، فتحہ کی صورت میں معنی ہے اسے تو راحت ہے اور غذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے، اور ضمہ کی صورت میں معنی ہو گا: اس کی روح پھولوں اور آرام والی جنت میں نکل کر جائیگی (الواقعہ: ۸۹)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2938
| كان يقرأ فروح وريحان وجنة نعيم |
سنن أبي داود |
3991
| يقرؤها فروح وريحان |
المعجم الصغير للطبراني |
1080
| قرأ فروح وريحان |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2938 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2938
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مشہور قراء ت ﴿فَرَوحٌ﴾ (راء پر فتحہ کے ساتھ) ہے،
یعقوب کی قراء ت راء کے ضمہ کے ساتھ ہے،
فتحہ کی صورت میں معنی ہے (اسے تو راحت ہے اورغذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے) اورضمہ کی صورت میں معنی ہوگا:
﴿اس کی روح پھولوں اورآرام والی جنت میں نکل کر جائیگی) (الواقعہ: 89)
وضاحت:
1؎:
مشہور قراء ت ﴿فَرَوحٌ﴾ (راء پر فتحہ کے ساتھ) ہے،
یعقوب کی قراء ت راء کے ضمہ کے ساتھ ہے،
فتحہ کی صورت میں معنی ہے (اسے تو راحت ہے اورغذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے) اورضمہ کی صورت میں معنی ہوگا:
﴿اس کی روح پھولوں اورآرام والی جنت میں نکل کر جائیگی) (الواقعہ: 89)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2938]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3991
باب:۔۔۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «فروح وريحان» ”تو عیش و آرام ہے“ (سورۃ الواقعہ: ۸۹) ۱؎ (راء کے پیش کے ساتھ) پڑھتے ہوئے سنا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3991]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «فروح وريحان» ”تو عیش و آرام ہے“ (سورۃ الواقعہ: ۸۹) ۱؎ (راء کے پیش کے ساتھ) پڑھتے ہوئے سنا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحروف والقراءات /حدیث: 3991]
فوائد ومسائل:
جمہور کی معروف قراءت را کے فتحہ کے ساتھ ہے جس کے معنی راحت وآرام کیے جاتے ہیں۔
اگر (روح) را کے ضمہ کےساتھ پڑھا جائے تو معنی ہوں گے: اس کی روح پھولوں اور نعمتوں میں ہوگی۔
یا اس کے لیے رحمت زندگی اور بقا ہو گی اور نعمتیں ہوں گی۔
جمہور کی معروف قراءت را کے فتحہ کے ساتھ ہے جس کے معنی راحت وآرام کیے جاتے ہیں۔
اگر (روح) را کے ضمہ کےساتھ پڑھا جائے تو معنی ہوں گے: اس کی روح پھولوں اور نعمتوں میں ہوگی۔
یا اس کے لیے رحمت زندگی اور بقا ہو گی اور نعمتیں ہوں گی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3991]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 2938 in Urdu
عبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق