🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب ومن سورة آل عمران
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3010
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَال: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، قَال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: " يَا جَابِرُ، مَا لِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتُشْهِدَ أَبِي، قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا، قَالَ: أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِيَ اللَّهُ بِهِ أَبَاكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَأَحْيَا أَبَاكَ فَكَلَّمَهُ كِفَاحًا، فَقَالَ: يَا عَبْدِي، تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ، قَالَ: يَا رَبِّ، تُحْيِينِي فَأُقْتَلَ فِيكَ ثَانِيَةً، قَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يُرْجَعُونَ، قَالَ: وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا سورة آل عمران آية 169 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ كِبَارِ أَهْلِ الْحَدِيثِ، هَكَذَا عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ شَيْئًا مِنْ هَذَا.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ملے اور فرمایا: جابر! کیا بات ہے میں تجھے شکستہ دل دیکھ رہا ہوں؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد شہید کر دیئے گئے، جنگ احد میں ان کے قتل کا سانحہ پیش آیا، اور وہ بال بچے اور قرض چھوڑ گئے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس چیز کی بشارت نہ دوں جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ سے ملاقات کے وقت کہا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی کسی سے بغیر پردہ کے کلام نہیں کیا (لیکن) اس نے تمہارے باپ کو زندہ کیا، پھر ان سے (بغیر پردہ کے) آمنے سامنے بات کی، کہا: اے میرے بندے! مجھ سے کسی چیز کے حاصل کرنے کی تمنا و آرزو کر، میں تجھے دوں گا، انہوں نے کہا: رب! مجھے دوبارہ زندہ فرما، تاکہ میں تیری راہ میں دوبارہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا: میری طرف سے یہ فیصلہ پہلے ہو چکا ہے «أنهم إليها لا يرجعون» کہ لوگ دنیا میں دوبارہ نہ بھیجے جائیں گے، راوی کہتے ہیں: آیت «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» ۱؎ اسی سلسلہ میں نازل ہوئی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے،
۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل نے اس حدیث کا کچھ حصہ جابر سے روایت کیا ہے،
۳- اور اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں،
۴- اسے علی بن عبداللہ بن مدینی اور کئی بڑے محدثین نے موسیٰ بن ابراہیم کے واسطہ سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3010]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المقدمة 13 (190)، والجھاد 16 (2800) (تحفة الأشراف: 2287) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے تم ان کو مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس، روزی پاتے ہیں۔ (آل عمران: ۱۶۹)
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (190 - 2800)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن عقيل الهاشمي، أبو محمد
Newعبد الله بن عقيل الهاشمي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
مقبول
👤←👥موسى بن إبراهيم الأنصاري
Newموسى بن إبراهيم الأنصاري ← عبد الله بن عقيل الهاشمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← موسى بن إبراهيم الأنصاري
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجابر بن عبد الله الأنصاري ← علي بن المديني
صحابي
👤←👥طلحة بن خراش الأنصاري
Newطلحة بن خراش الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥موسى بن إبراهيم الأنصاري
Newموسى بن إبراهيم الأنصاري ← طلحة بن خراش الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن حبيب الحارثي، أبو زكريا
Newيحيى بن حبيب الحارثي ← موسى بن إبراهيم الأنصاري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3010
عبدي تمن علي أعطك قال يا رب تحييني فأقتل فيك ثانية قال الرب إنه قد سبق مني أنهم إليها لا يرجعون قال وأنزلت هذه الآية ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا
سنن ابن ماجه
2800
ما كلم الله أحدا إلا من وراء حجاب كلم أباك كفاحا فقال يا عبدي تمن علي أعطك قال يا رب تحييني فأقتل فيك ثانية قال إنه سبق مني أنهم إليها لا يرجعون قال يا رب فأبلغ من ورائي فأنزل الله هذه الآية ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا
سنن ابن ماجه
190
عبدي تمن علي أعطك قال يا رب تحييني فأقتل فيك ثانية فقال الرب سبحانه إنه سبق مني أنهم إليها لا يرجعون قال يا رب فأبلغ من ورائي قال فأنزل الله ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3010 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3010
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے تم ان کو مردہ نہ سمجھو،
بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس،
روزی پاتے ہیں (آل عمران: 169)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3010]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث190
جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن عمرو بن حرام غزوہ احد کے دن قتل کر دئیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ملے اور فرمایا: جابر! کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے کیا کہا ہے؟، (اور یحییٰ بن حبیب راوی نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! میں تمہیں کیوں شکستہ دل دیکھتا ہوں؟)، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد اللہ کی راہ میں قتل کر دئیے گئے، اور اہل و عیال اور قرض چھوڑ گئے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا می۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 190]
اردو حاشہ:
(1)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کی غمی خوشی میں شریک ہوتے تھے۔
اس طرح ہر قائد اور سربراہ کو اپنے ساتھیوں اور ماتحتوں کی خوشی غمی کا خیال رکھنا چاہیے اور ان کے ساتھ اپنائیت کا سلوک کرنا چاہیے۔

(2)
فوت ہونے والے کے پسماندگان کو ایسے انداز سے تسلی تشفی دینی چاہیے جس سے ان کے غم میں تخفیف ہو۔
ایسا انداز اختیار کرنے اور ایسی بات کہنے سے پرہیز کرنا چاہیے جس سے اس کے غم میں اضافہ ہو اور اسے تکلیف ہو۔

(3)
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی صفت کلام کا ثبوت ہے۔

(4)
فوت ہونے کے بعد انسان عالم آخرت میں داخل ہو جاتا ہے، اس لیے وہاں اسے اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے اور اس کے دیدار کا شرف حاصل ہو سکتا ہے۔

(5)
اس حدیث سے شہداء کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔

(6)
حضرت عبداللہ بن حرام رضی اللہ عنہ کا مقام عظیم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے خود ان کی خواہش دریافت کی۔

(7)
شہادت کا ثواب اتنا زیادہ ہے کہ شہید دوبارہ اس کے حصول کے لیے دنیا میں آنے کی خواہش رکھتا ہے۔
شہید کے علاوہ کوئی اور جنتی دوبارہ دنیا میں آنے کی خواہش نہیں رکھتا۔

(8)
فوت ہونےوالوں کا دنیا سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے اور وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آ سکتے اور اس سے عقیدہ تناسخ ارواح کا بھی رد ہوتا ہے۔

(9)
شہداء کی زندگی بھی دوسرے لوگوں کی طرح برزخی زندگی ہے، دنیوی نہیں۔
اس زندگی میں وہ جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کی صورت میں جنت میں کھاتی پیتی اور اس کی نعمتوں سے متمتع ہوتی ہیں۔ (صحيح مسلم، الامارة، باب بيان ان ارواح الشهداء في الجنة، حديث: 1887)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 190]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2800
اللہ کی راہ میں شہادت کی فضیلت۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب جنگ احد میں (ان کے والد) عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے جو فرمایا ہے کیا میں تمہیں وہ نہ بتاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! ضرور بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی سے بات کی تو پردہ کے پیچھے سے لیکن تمہارے والد سے آمنے سامنے بات کی، اور کہا: اے میرے بندے! مجھ سے اپنی خواہش کا اظہار کرو، میں تجھے عطا کروں گا، انہوں نے کہا: اے میرے رب! تو مجھے دوبارہ زندہ کر دے کہ م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2800]
اردو حاشہ:
فوائد  و مسائل:

(1)
فوت ہونے والے کے پسماندگان کو تسلی وتشفی دینی چاہیے اورا یسی باتیں کہنی چاہیئں جن سے ان کا غم ہلکا ہو،
(2)
وفات کے بعد اللہ تعالی نیک بندوں سے ہمکلام ہوتا ہے۔

(3)
جنت میں الله کا دیدار ممکن ہے۔
اور جنتیوں کو اپنے اپنے درجات کے مطابق کم یا زیادہ وقفے سے نعمت حاصل ہوگی۔

(4)
فوت ہوجانے والے لوگ یا شہید دوبارہ دنیا میں نہیں آ سکتے لہٰذا اس قسم کی حکایتوں میں کوئی صداقت نہیں کہ فلاں صحابی یا شہید یا ولی نے اپنی وفات کے بعد فلاں صاحب سے ملاقات کی اور فلاں معاملے میں اس کی رہنمائی کی۔

(5)
اس واقعے میں حضرت عبد اللہ بن حرام رضی اللہ عنہ کے جنتی اور بلند درجات کا حامل ہونے کی بشارت ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2800]