🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
116. باب ما جاء في القراءة في صلاة الصبح
باب: نماز فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 306
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَلَاقَةَ، عَنْ عَمِّهِ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ , وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ , وَأَبِي بَرْزَةَ , وَأُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " قَرَأَ فِي الصُّبْحِ ب: الْوَاقِعَةِ " وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ " يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مِنْ سِتِّينَ آيَةً إِلَى مِائَةٍ " وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ " قَرَأَ: إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ " وَرُوِي عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى، أَنِ اقْرَأْ فِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَعَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ قَالَ: سفيان الثوري , وَابْنُ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيُّ.
قطبہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فجر میں پہلی رکعت میں «والنخل باسقات» پڑھتے سنا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- قطبہ بن مالک کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عمرو بن حریث، جابر بن سمرہ، عبداللہ بن سائب، ابوبرزہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فجر میں سورۃ الواقعہ پڑھی،
۴- یہ بھی مروی ہے کہ آپ فجر میں ساٹھ سے لے کر سو آیتیں پڑھا کرتے تھے،
۵- اور یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے «إذا الشمس كورت» پڑھی،
۶- اور عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ فجر میں طوال مفصل پڑھا کرو ۱؎،
۷- اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 35 (457)، سنن النسائی/الافتتاح 43 (151)، سنن ابن ماجہ/الإقامة (816)، (تحفة الأشراف: 11087)، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1334) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد سورۃ ق ہے۔
۲؎: مفصل: قرآن کا آخری ساتواں حصہ ہے جو صحیح قول کے مطابق سورۃ قؔ سے شروع ہوتا ہے اور سورۃ البروج پر ختم ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (816)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥قطبة بن مالك الثعلبيصحابي
👤←👥زياد بن علاقة الثعلبي، أبو مالك
Newزياد بن علاقة الثعلبي ← قطبة بن مالك الثعلبي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← زياد بن علاقة الثعلبي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥مسعر بن كدام العامري، أبو سلمة
Newمسعر بن كدام العامري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← مسعر بن كدام العامري
ثقة حافظ إمام
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
951
قرأ في إحدى الركعتين والنخل باسقات لها طلع نضيد
صحيح مسلم
1024
صلى بنا رسول الله فقرأ ق والقرآن المجيد حتى قرأ والنخل باسقات
صحيح مسلم
1026
قرأ في أول ركعة والنخل باسقات لها طلع نضيد
صحيح مسلم
1025
يقرأ في الفجر والنخل باسقات لها طلع نضيد
جامع الترمذي
306
يقرأ في الفجر والنخل باسقات في الركعة الأولى
سنن ابن ماجه
816
يقرأ في الصبح والنخل باسقات لها طلع نضيد
مسندالحميدي
846
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 306 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 306
اردو حاشہ:
1؎:
اس سے مراد سورۂ ق ہے۔

2؎:
مفصل:
قرآن کا آخری ساتواں حصہ ہے جو صحیح قول کے مطابق سورہ قؔ سے شروع ہوتا ہے اور سورہ بروج پر ختم ہوتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 306]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 951
نماز فجر میں سورۃ «‏‏‏‏ق» ‏‏‏‏ پڑھنے کا بیان۔
زیاد بن علاقہ کے چچا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی، تو آپ نے ایک رکعت میں «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھی ۱؎، شعبہ کہتے ہیں: میں نے زیاد سے پر ہجوم بازار میں ملاقات کی تو انہوں نے کہا: سورۃ «ق» پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 951]
951 ۔ اردو حاشیہ: زیاد بن علاقہ کے چچا صحابیٔ رسول قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ کتب ستہ میں ان سے صرف دو روایات مروی ہیں۔ ایک یہی مذکورہ حدیث اور دوسری جامع ترمذی میں حدیث: 3591 ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 951]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث816
فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں آیت کریمہ: «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھتے ہوئے سنا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 816]
اردو حاشہ:
فائده:
سورہ فاتحہ کے بعد قرآن مجید میں سے کسی بھی مقام سے حسب خواہش تلاوت کی جاسکتی ہے۔
قرآن مجید میں ہے۔
﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ (المزمل: 20)
۔
 جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکو پڑھ لو۔
اس حدیث میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز میں سورۃ ق کی تلاوت فرمائی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 816]