🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب ومن سورة إبراهيم عليه السلام
باب: سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3120
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، قَال: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 قَالَ: " فِي الْقَبْرِ إِذَا قِيلَ لَهُ مَنْ رَبُّكَ وَمَا دِينُكَ وَمَنْ نَبِيُّكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، قول ثابت (محکم بات) کے ذریعہ دنیا و آخرت دونوں میں ثابت قدم رکھتا ہے (ابراہیم: ۲۷)، کی تفسیر میں فرمایا: ثابت رکھنے سے مراد قبر میں اس وقت ثابت رکھنا ہے جب قبر میں پوچھا جائے گا: «من ربك؟» ‏‏‏‏ تمہارا رب، معبود کون ہے؟ «وما دينك؟» ‏‏‏‏ تمہارا دین کیا ہے؟ «ومن نبيك؟» ‏‏‏‏ تمہارا نبی کون ہے؟ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 86 (1369)، وتفسیر سورة ابراہیم 2 (4699)، صحیح مسلم/الجنة 17 (2871)، سنن ابی داود/ السنة 27 (4750)، سنن النسائی/الجنائز 114 (2059)، سنن ابن ماجہ/الزہد 32 (4269) (تحفة الأشراف: 1762) (وانظر أیضا ماعند د برقم 3212، و4853) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎ مومن بندہ کہے گا: میرا رب (معبود) اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمروصحابي
👤←👥سعد بن عبيدة السلمي، أبو حمزة
Newسعد بن عبيدة السلمي ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة
👤←👥علقمة بن مرثد الحضرمي، أبو الحارث
Newعلقمة بن مرثد الحضرمي ← سعد بن عبيدة السلمي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← علقمة بن مرثد الحضرمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← أبو داود الطيالسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4699
المسلم إذا سئل في القبر يشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة
صحيح البخاري
1369
إذا أقعد المؤمن في قبره أتي ثم شهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت
جامع الترمذي
3120
في القبر إذا قيل له من ربك وما دينك ومن نبيك
سنن أبي داود
4750
المسلم إذا سئل في القبر فشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت
مشكوة المصابيح
125
المسلم إذا سئل في القبر يشهد ان لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله
صحيح مسلم
7219
يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت سورة إبراهيم آية 27، قال: نزلت في عذاب القبر
مسندالحميدي
276
على الصراط يا بنت الصديق
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3120 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3120
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں،
قول ثابت (محکم بات) کے ذریعہ دنیاوآخرت دونوں میں ثابت قدم رکھتا ہے (ابراہیم: 27)

2؎:
مومن بندہ کہے گا:
میرارب (معبود) اللہ ہے،
میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3120]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 125
آیت مبارکہ کا مفہوم
«. . . عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُسْلِمُ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ (يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَة) ‏‏‏‏وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: (يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِت) ‏‏‏‏نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ يُقَالُ لَهُ: مَنْ رَبك؟ فَيَقُول: رَبِّي الله ونبيي مُحَمَّد ‏‏‏‏ . . .»
. . . سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت مردے سے قبر میں دریافت کیا جاتا ہے (کہ تیرا رب کون ہے اور نبی کون ہیں؟) تو وہ گواہی دیتا ہے کہ میرا رب ایک اکیلا معبود ہے اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور یقیناًً محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ یہی اس آیت کریمہ کا مطلب ہے کہ ایمانداروں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔۔۔۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آیت کریمہ «يثبت الله» الخ عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ میت سے قبر میں پوچھا جاتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ مومن جواب دیتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 125]
تخریج الحدیث: [صحيح بخاري 1369] ،
[صحيح مسلم 7219]

فقہ الحدیث:
➊ عذاب قبر برحق ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: ماہنامہ الحدیث:41 ص 15
➋ قبر میں تین سوالات کئے جاتے ہیں۔ تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اور آپ (محمد صلی اللہ علیہ و سلم) کے بارے میں تو کیا کہتا تھا؟
➌ حدیث قرآن کی شرح و بیان ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 125]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4750
ترازو کا بیان۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان سے جب قبر میں سوال ہوتا ہے اور وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‏‏‏‏ تو یہی مراد ہے اللہ کے قول «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت» اللہ ایمان والوں کو پکی بات کے ساتھ مضبوط کرتا ہے (سورۃ ابراہیم: ۲۷) سے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4750]
فوائد ومسائل:
قبر کے سوال وجواب کا مسئلہ قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت میں بیان ہوا ہے اور متعدد صحیح احادیث میں وارد ہے، اس لئے اس کا انکار کفر ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4750]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:276
فائدہ:
اس حدیث میں روز قیامت کی شدت کا تذکرہ ہے کہ اس دن ہر چیز حتٰی کہ زمین بھی بدل دی جائے گی۔ نیز اس حدیث میں پل صراط کا ثبوت بھی ہے، اور یہ وہ مقام ہے جہاں سے ہر کسی کو گزر کر جانا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا» [19-مريم:71] ۔ احادیث قرآن کریم کی تفسیر ہیں، ان کے بغیر قرآن کو سمجھنا ناممکن ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 276]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4699
4699. حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان سے جب قبر میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ درج ذیل ارشاد باری تعالٰی کا بھی یہی مفہوم ہے: جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالٰی انہیں کلمہ طیبہ سے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4699]
حدیث حاشیہ:
یعنی اللہ ایمانداروں کو پکی بات یعنی توحید اور رسالت کی شہادت پر دنیا اور آخرت دونوں جگہ مضبوط رکھے گا تو یہ آیت قبر کے سوال اور جواب کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
یااللہ! تو مجھ ناچیز کو اور میرے تمام ہمدردان کرام کو قبر کے سوالات میں ثابت قدمی عطا فرمایؤ۔
امید ہے کہ اس جگہ کا مطالعہ کرنے والے ضرور مجھ گنہگار کی نجات اخروی وقبر کی ثابت قدمی کے لئے دعا کریں گے۔
سند میں مذکور حضرت براء بن عازب ابو عمارہ انصاری حارثی ہیں۔
بعد میں کوفہ میں آبسے تھے۔
24ھ میں انہوں نے رے نامی مقام کو فتح کیا۔
جنگ جمل وغیرہ میں حضرت علی ؓ کے ساتھ رہے۔
حضرت مصعب بن زبیر کے زمانہ میں کوفہ میں انتقال فرمایا۔
رضي اللہ عنهم أجمعین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4699]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1369
1369. حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے،وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:جب مومن کو اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں، پھر وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔ یہی ارشاد باری تعالیٰ ہے:جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ انھیں قول ثابت (کلمہ طیبہ) کے ذریعے سے دنیا کی زندگی میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں بھی رکھے گا۔ محمد بن بشار کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ یہ آیت يُثَبِّتُ اللَّـهُ عذاب قبر کے متعلق نازل ہوئی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1369]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ مسلمان سے جب قبر میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ کلمہ شہادت پڑھتا ہے، اس آیت کریمہ کا یہی مطلب ہے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4699)
ایک طویل روایت میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عذاب قبر سے پناہ طلب کیا کرو، کیونکہ جب اس میں میت کو دفن کیا جاتا ہے تو اس میں روح کا اعادہ کیا جاتا ہے، پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جو اسے بٹھا کر سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ مومن جواب دیتا ہے:
میرا رب اللہ ہے۔
وہ دریافت کرتے ہیں:
تیرا دین کیا ہے؟ وہ بتاتا ہے:
میرا دین اسلام ہے۔
پھر وہ سوال کرتے ہیں کہ جو آدمی تمہاری طرف مبعوث ہوا اس کے متعلق تیرا خیال ہے؟ وہ بتاتا ہے کہ وہ اللہ کے رسول اور فرستادہ ہیں۔
پھر کہتے ہیں کہ تجھے یہ معلومات کہاں سے حاصل ہوئیں؟ تو وہ جواب دیتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب قرآن عظیم کو پڑھا تو میں نے اس پر یقین کیا اور اسے سچا خیال کیا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ وہ قول ثابت کے ذریعے سے انہیں ثابت قدم رکھتا ہے، اس کا یہی مطلب ہے۔
اس کے بعد جب کافر کو بٹھا کر سوال کیے جاتے ہیں تو وہ جواب میں کہتا ہے:
ہائے افسوس! مجھے کوئی علم نہیں ہے۔
(سنن أبي داود، السنة، حدیث: 4753، و فتح الباري: 297/3، 298) (2)
کرمانی نے کہا کہ اس آیت کریمہ میں عذاب قبر کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
شاید مومن کے قبر میں احوال کو عذاب کہا گیا ہے اور تخویف و انذار کے لیے کافر کے فتنے کو مومن کے فتنے پر غلبہ دیا ہے یا فرشتوں کا قبر میں آنا ہی مومن کو ہیبت میں ڈالتا ہے مومن کے لیے یہی عذاب قبر ہے۔
(فتح الباري: 293/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1369]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4699
4699. حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان سے جب قبر میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ درج ذیل ارشاد باری تعالٰی کا بھی یہی مفہوم ہے: جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالٰی انہیں کلمہ طیبہ سے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4699]
حدیث حاشیہ:

مومن کلمہ طیبہ کی برکت سے مرتے دم تک ایمان پر قائم رہتا ہے اور قبرمیں بھی اللہ کی تائید سے اسی کلمے پر قائم رہے گا اور لا اله الااللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دے گا، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ مذکورہ آیت عذاب قبر کے متعلق نازل ہوئی۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1369)

بہر حال جب کلمہ توحید کسی مومن کے دل میں رچ بس جاتا ہے اور اس کی جڑ پیوست ہو جاتی ہے اور وہ اپنی پوری زندگی اس کلمے کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیتا ہے تو اس سے اعمال صالحہ صادر ہوتے ہیں پھر ان کا فائدہ صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ آس پاس کا معاشرہ بھی ان سے فائدہ اٹھاتا ہے پھر یہی اعمال صالحہ آسمان کی بلندیوں تک جا پہنچتے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4699]