🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب ومن سورة بني إسرائيل
باب: سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3148
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَوْمَئِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاهُ إِلَّا تَحْتَ لِوَائِي، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ، قَالَ: فَيَفْزَعُ النَّاسُ ثَلَاثَ فَزَعَاتٍ، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ أَبُونَا آدَمُ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَيَقُولُ: إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا أُهْبِطْتُ مِنْهُ إِلَى الْأَرْضِ، وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا، فَيَأْتُونَ نُوحًا، فَيَقُولُ: إِنِّي دَعَوْتُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ دَعْوَةً فَأُهْلِكُوا، وَلَكِنْ اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: إِنِّي كَذَبْتُ ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْهَا كَذِبَةٌ إِلَّا مَا حَلَّ بِهَا عَنْ دِينِ اللَّهِ وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى، فَيَأْتُونَ مُوسَى، فَيَقُولُ: إِنِّي قَدْ قَتَلْتُ نَفْسًا، وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى، فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ: إِنِّي عُبِدْتُ مِنْ دُونِ اللَّهِ، وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا، قَالَ: فَيَأْتُونَنِي فَأَنْطَلِقُ مَعَهُمْ، قَالَ ابْنُ جُدْعَانَ: قَالَ أَنَسٌ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَآخُذُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ فَأُقَعْقِعُهَا، فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: مُحَمَّدٌ فَيَفْتَحُونَ لِي وَيُرَحِّبُونَ بِي، فَيَقُولُونَ: مَرْحَبًا، فَأَخِرُّ سَاجِدًا فَيُلْهِمُنِي اللَّهُ مِنَ الثَّنَاءِ وَالْحَمْدِ، فَيُقَالُ لِي: ارْفَعْ رَأْسَكَ سَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَقُلْ يُسْمَعْ لِقَوْلِكَ وَهُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ: عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا سورة الإسراء آية 79 "، قَالَ سُفْيَانُ: لَيْسَ عَنْ أَنَسٍ إِلَّا هَذِهِ الْكَلِمَةُ فَآخُذُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ فَأُقَعْقِعُهَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ..
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں سارے انسانوں کا سردار ہوں گا، اور اس پر مجھے کوئی گھمنڈ نہیں ہے، میرے ہاتھ میں حمد (و شکر) کا پرچم ہو گا اور مجھے (اس اعزاز پر) کوئی گھمنڈ نہیں ہے۔ اس دن آدم اور آدم کے علاوہ جتنے بھی نبی ہیں سب کے سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے، میں پہلا شخص ہوں گا جس کے لیے زمین پھٹے گی (اور میں برآمد ہوں گا) اور مجھے اس پر بھی کوئی گھمنڈ نہیں ہے، آپ نے فرمایا: (قیامت میں) لوگوں پر تین مرتبہ سخت گھبراہٹ طاری ہو گی، لوگ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپ ہمارے باپ ہیں، آپ اپنے رب سے ہماری شفاعت (سفارش) کر دیجئیے، وہ کہیں گے: مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو چکا ہے جس کی وجہ سے میں زمین پر بھیج دیا گیا تھا، تم لوگ نوح کے پاس جاؤ، وہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، مگر نوح علیہ السلام کہیں گے: میں زمین والوں کے خلاف بد دعا کر چکا ہوں جس کے نتیجہ میں وہ ہلاک کیے جا چکے ہیں، لیکن ایسا کرو، تم لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، ابراہیم علیہ السلام کہیں گے: میں تین جھوٹ بول چکا ہوں، آپ نے فرمایا: ان میں سے کوئی جھوٹ جھوٹ نہیں تھا، بلکہ اس سے اللہ کے دین کی حمایت و تائید مقصود تھی، البتہ تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، تو وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، موسیٰ علیہ السلام کہیں گے: میں ایک قتل کر چکا ہوں، لیکن تم عیسیی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ تو وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے: اللہ کے سوا مجھے معبود بنا لیا گیا تھا، تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، آپ نے فرمایا: لوگ میرے پاس (سفارش کرانے کی غرض سے) آئیں گے، میں ان کے ساتھ (دربار الٰہی کی طرف) جاؤں گا، ابن جدعان (راوی حدیث) کہتے ہیں: انس نے کہا: مجھے ایسا لگ رہا ہے تو ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ نے فرمایا: میں جنت کے دروازے کا حلقہ (زنجیر) پکڑ کر اسے ہلاؤں گا، پوچھا جائے گا: کون ہے؟ کہا جائے گا: محمد ہیں، وہ لوگ میرے لیے دروازہ کھول دیں گے، اور مجھے خوش آمدید کہیں گے، میں (اندر پہنچ کر اللہ کے حضور) سجدے میں گر جاؤں گا اور حمد و ثنا کے جو الفاظ اور کلمے اللہ میرے دل میں ڈالے گا وہ میں سجدے میں ادا کروں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھائیے، مانگیے (جو کچھ مانگنا ہو) آپ کو دیا جائے گا۔ (کسی کی سفارش کرنی ہو تو) سفارش کیجئے آپ کی شفاعت (سفارش) قبول کی جائے گی، کہئے آپ کی بات سنی جائے گی۔ اور وہ جگہ (جہاں یہ باتیں ہوں گی) مقام محمود ہو گا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا» توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود میں بھیجے (بنی اسرائیل: ۷۹)۔ سفیان ثوری کہتے ہیں: انس کی روایت میں اس کلمے «فآخذ بحلقة باب الجنة فأقعقعها» کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- بعض محدثین نے یہ پوری حدیث ابونضرہ کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الزہد 37 (4308) (تحفة الأشراف: 4367) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (4308)
قال الشيخ زبير على زئي:(3148) إسناده ضعيف
علي بن زيد بن جدعان ضعيف (تقدم:589)
ولأكثر ألفاظ شواھد صحيحة وھي تغني عن ھذا الحديث

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة
Newالمنذر بن مالك العوفي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد
Newأبو سعيد الخدري ← المنذر بن مالك العوفي
صحابي
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة
Newالمنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥علي بن زيد القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن زيد القرشي ← المنذر بن مالك العوفي
ضعيف الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← علي بن زيد القرشي
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن أبي عمر العدني، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي عمر العدني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3148
أنا سيد ولد آدم يوم القيامة ولا فخر وبيدي لواء الحمد ولا فخر وما من نبي يومئذ آدم فمن سواه إلا تحت لوائي وأنا أول من تنشق عنه الأرض ولا فخر يفزع الناس ثلاث فزعات فيأتون آدم فيقولون أنت أبونا آدم فاشفع لنا إلى ربك فيقول إني أذنبت ذنبا أهبطت منه
جامع الترمذي
3615
أنا سيد ولد آدم يوم القيامة ولا فخر وبيدي لواء الحمد ولا فخر وما من نبي يومئذ آدم فمن سواه إلا تحت لوائي وأنا أول من تنشق عنه الأرض ولا فخر
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3148 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3148
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود میں بھیجے گا۔
 (بنی اسرائیل: 79)
نوٹ:
(سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں،
لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3148]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3615
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میرے ہاتھ میں حمد کا پرچم ہو گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں، اور آدم اور آدم کے علاوہ جتنے بھی نبی ہوں گے سب میرے پرچم کے نیچے ہوں گے، اور میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس کے لیے زمین شق ہو گی، اور سب سے پہلے قبر سے میں اٹھوں گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3615]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ تمام باتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگرانبیاء ؑ پر فضیلت پر دلالت کرتی ہیں۔
گھمنڈ اس لیے نہیں کہ یہ سب کچھ اللہ عزوجل کے خاص فضل وانعام سے ہو گا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3615]