سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
124. باب ما جاء أن الأرض كلها مسجد إلا المقبرة والحمام
باب: قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے علاوہ پوری زمین سجدہ گاہ ہے۔
حدیث نمبر: 317
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَأَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَجَابِرٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَحُذَيْفَةَ , وَأَنَسٍ , وَأَبِي أُمَامَةَ , وَأَبِي ذَرٍّ، قَالُوا: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ قَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ رِوَايَتَيْنِ، مِنْهُمْ مَنْ ذَكَرَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَذْكُرْهُ، وَهَذَا حَدِيثٌ فِيهِ اضْطِرَابٌ. رَوَى سفيان الثوري، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَكَانَ عَامَّةُ رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَأَنَّ رِوَايَةَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَثْبَتُ وَأَصَحُّ مُرْسَلًا.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوائے قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے ساری زمین مسجد ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں علی عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، جابر، ابن عباس، حذیفہ، انس، ابوامامہ اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ان لوگوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے پوری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور طہارت و پاکیزگی کا ذریعہ بنائی گئی ہے،
۲- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث عبدالعزیز بن محمد سے دو طریق سے مروی ہے، بعض لوگوں نے ابوسعید کے واسطے کا ذکر کیا ہے اور بعض نے نہیں کیا ہے، اس حدیث میں اضطراب ہے، سفیان ثوری نے بطریق: «عمرو بن يحيى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے۔ اور حماد بن سلمہ نے یہ حدیث بطریق: «عمرو بن يحيى عن أبيه عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرفوعاً روایت کی ہے۔ اور محمد بن اسحاق نے بھی یہ حدیث بطریق: «عمرو بن يحيى عن أبيه» اور ان کا کہنا ہے کہ یحییٰ کی اکثر احادیث آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوسعید ہی کے واسطہ سے مروی ہیں، لیکن اس میں انہوں نے ابوسعید کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، گویا ثوری کی روایت «عمرو بن يحيى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 317]
۱- اس باب میں علی عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، جابر، ابن عباس، حذیفہ، انس، ابوامامہ اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ان لوگوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے پوری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور طہارت و پاکیزگی کا ذریعہ بنائی گئی ہے،
۲- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث عبدالعزیز بن محمد سے دو طریق سے مروی ہے، بعض لوگوں نے ابوسعید کے واسطے کا ذکر کیا ہے اور بعض نے نہیں کیا ہے، اس حدیث میں اضطراب ہے، سفیان ثوری نے بطریق: «عمرو بن يحيى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے۔ اور حماد بن سلمہ نے یہ حدیث بطریق: «عمرو بن يحيى عن أبيه عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرفوعاً روایت کی ہے۔ اور محمد بن اسحاق نے بھی یہ حدیث بطریق: «عمرو بن يحيى عن أبيه» اور ان کا کہنا ہے کہ یحییٰ کی اکثر احادیث آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوسعید ہی کے واسطہ سے مروی ہیں، لیکن اس میں انہوں نے ابوسعید کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، گویا ثوری کی روایت «عمرو بن يحيى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 24 (492)، سنن ابن ماجہ/المساجد 4 (745)، (تحفة الأشراف: 4406)، مسند احمد (3/8، 96) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جہاں چاہو نماز پڑھو اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبرستان اور حمام میں نماز پڑھنی درست نہیں، حمام میں اس لیے کہ یہاں نجاست ناپاکی کا شک رہتا ہے اور قبرستان میں ممانعت کا سبب شرک سے بچنے کے لیے سد باب کے طور پر ہے۔ بعض احادیث میں کچھ دیگر مقامات پر نماز ادا کرنے سے متعلق بھی ممانعت آئی ہے، ان کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (745)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
317
| الأرض كلها مسجد إلا المقبرة الحمام |
سنن أبي داود |
492
| الأرض كلها مسجد إلا الحمام المقبرة |
سنن ابن ماجه |
745
| الأرض كلها مسجد إلا المقبرة الحمام |
بلوغ المرام |
167
| الارض كلها مسجد إلا المقبرة والحمام |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 317 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 317
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی جہا ں چاہو نماز پڑھو اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبرستان اور حمام میں نماز پڑھنی درست نہیں،
حمام میں اس لیے کہ یہاں نجاست نا پاکی کا شک رہتا ہے اور قبرستان میں ممانعت کا سبب شرک سے بچنے کے لیے سد باب کے طور پر ہے۔
بعض احادیث میں کچھ دیگر مقامات پر نماز ادا کرنے سے متعلق بھی ممانعت آئی ہے،
ان کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔
1؎:
یعنی جہا ں چاہو نماز پڑھو اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبرستان اور حمام میں نماز پڑھنی درست نہیں،
حمام میں اس لیے کہ یہاں نجاست نا پاکی کا شک رہتا ہے اور قبرستان میں ممانعت کا سبب شرک سے بچنے کے لیے سد باب کے طور پر ہے۔
بعض احادیث میں کچھ دیگر مقامات پر نماز ادا کرنے سے متعلق بھی ممانعت آئی ہے،
ان کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 317]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 167
قبرستان اور حمام میں نماز درست نہیں
«. . . وعن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: الارض كلها مسجد إلا المقبرة والحمام . . .»
”. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قبرستان اور حمام کے ماسوا ساری زمین مسجد ہے (جہاں چاہے نماز پڑھ لے)۔ . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 167]
«. . . وعن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: الارض كلها مسجد إلا المقبرة والحمام . . .»
”. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قبرستان اور حمام کے ماسوا ساری زمین مسجد ہے (جہاں چاہے نماز پڑھ لے)۔ . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 167]
� لغوی تشریح:
«وَلَه عِلَّةٌ» ”اور اس میں ایک علت ہے۔“ وہ علت یہ ہے کہ حماد نے اسے موصول روایت کیا ہے جبکہ امام ثوری رحمہ اللہ نے اسے مرسل روایت کیا ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ اور بیہقی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث مرسل سند ہی سے محفوظ ہے۔ لیکن بعض حضرات نے اس کا موصول ہونا صحیح قرار دیا ہے اور یہی راجح ہے۔ اس کی تائید دیگر احادیث سے بھی ہوتی ہے۔
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبرستان اور حمام میں نماز درست نہیں۔ حمام میں اس لیے کہ وہ جگہ ناپاک ہے اور قبرستان میں ممانعت کا سبب سد ذرائع کے طور پر شرک سے بچنے کے لیے ہے۔
«وَلَه عِلَّةٌ» ”اور اس میں ایک علت ہے۔“ وہ علت یہ ہے کہ حماد نے اسے موصول روایت کیا ہے جبکہ امام ثوری رحمہ اللہ نے اسے مرسل روایت کیا ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ اور بیہقی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث مرسل سند ہی سے محفوظ ہے۔ لیکن بعض حضرات نے اس کا موصول ہونا صحیح قرار دیا ہے اور یہی راجح ہے۔ اس کی تائید دیگر احادیث سے بھی ہوتی ہے۔
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبرستان اور حمام میں نماز درست نہیں۔ حمام میں اس لیے کہ وہ جگہ ناپاک ہے اور قبرستان میں ممانعت کا سبب سد ذرائع کے طور پر شرک سے بچنے کے لیے ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 167]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 492
ان جگہوں کا بیان جہاں پر نماز ناجائز ہے۔
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور موسیٰ (موسیٰ بن اسمٰعیل) نے اپنی روایت میں کہا، عمرو (عمرو بن یحییٰ) کا خیال ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”ساری زمین نماز پڑھنے کی جگہ ہے، سوائے حمام (غسل خانہ) اور قبرستان کے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 492]
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور موسیٰ (موسیٰ بن اسمٰعیل) نے اپنی روایت میں کہا، عمرو (عمرو بن یحییٰ) کا خیال ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”ساری زمین نماز پڑھنے کی جگہ ہے، سوائے حمام (غسل خانہ) اور قبرستان کے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 492]
492۔ اردو حاشیہ:
➊ مذکورہ سندوں میں سے روایت مسدد یقینی طور پر مرفوع ہے۔ مگر عمرو بن یحیٰی کی روایت میں گمان ہے۔ یقین نہیں۔ محدثین کرام فرامین رسول کے نقل کرنے میں بہت ہی حساس اور محتاط واقع ہوئے تھے۔
➋ قاضی ابوبکر ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ مقامات جہاں نماز نہیں پڑھی جاتی، تیرہ ہیں۔ کوڑے کرکٹ کا ڈھیر، ذبح خانہ، مقبرہ، راستے کے درمیان، حمام، اونٹوں کا باڑا، بیت اللہ کی چھت، قبرستان کے رخ پر، بیت الخلاء کی دیوار کی طرف جب کہ اس کی طرف نجاست لگی ہو، یہودیوں اور عیسایؤں کے عبادت خانے، بتوں اور تصویروں کی طرف رخ کر کے، مقام عذاب اور عراقی نے مزید اضافہ کیا کہ غصب شدہ زمین پر، مسجد ضرار اور وہ جگہ جہاں تنور سامنے ہو تفصیل کے لئے دیکھیں: [نيل الأوطار، باب المواضع المنهي عنها والمازون فيها لصلوة 55/2]
➊ مذکورہ سندوں میں سے روایت مسدد یقینی طور پر مرفوع ہے۔ مگر عمرو بن یحیٰی کی روایت میں گمان ہے۔ یقین نہیں۔ محدثین کرام فرامین رسول کے نقل کرنے میں بہت ہی حساس اور محتاط واقع ہوئے تھے۔
➋ قاضی ابوبکر ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ مقامات جہاں نماز نہیں پڑھی جاتی، تیرہ ہیں۔ کوڑے کرکٹ کا ڈھیر، ذبح خانہ، مقبرہ، راستے کے درمیان، حمام، اونٹوں کا باڑا، بیت اللہ کی چھت، قبرستان کے رخ پر، بیت الخلاء کی دیوار کی طرف جب کہ اس کی طرف نجاست لگی ہو، یہودیوں اور عیسایؤں کے عبادت خانے، بتوں اور تصویروں کی طرف رخ کر کے، مقام عذاب اور عراقی نے مزید اضافہ کیا کہ غصب شدہ زمین پر، مسجد ضرار اور وہ جگہ جہاں تنور سامنے ہو تفصیل کے لئے دیکھیں: [نيل الأوطار، باب المواضع المنهي عنها والمازون فيها لصلوة 55/2]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 492]
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، ابوداود 492
حمام میں نماز پڑھنا ممنوع ہے:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الأرض كلها مسجد إلا المقبرة والحمام» ”قبرستان اور حمام کے سوا ساری زمین مسجد ہے۔“
[صحيح: إرواء الغليل: 320/1، صحيح أبو داود: 507، كتاب الصلاة: باب فى المواضع التى لا تجوز فيها الصلاة، أبو داود: 492، أحمد: 83/2، ترمذي: 317، ابن ماجة: 745، بيهقى: 435/2، حاكم: 251/1، ابن خزيمة: 791]
➋ امام ابن حزم رحمہ اللہ:
کسی صورت میں بھی حمام میں نماز پڑھنا جائز نہیں۔
➍ امام شوکانی رحمہ اللہ:
انہوں نے امام ابن حزم رحمہ اللہ کی بات کو برحق کہا ہے۔ [نیل الأوطار: 929/1]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الأرض كلها مسجد إلا المقبرة والحمام» ”قبرستان اور حمام کے سوا ساری زمین مسجد ہے۔“
[صحيح: إرواء الغليل: 320/1، صحيح أبو داود: 507، كتاب الصلاة: باب فى المواضع التى لا تجوز فيها الصلاة، أبو داود: 492، أحمد: 83/2، ترمذي: 317، ابن ماجة: 745، بيهقى: 435/2، حاكم: 251/1، ابن خزيمة: 791]
➋ امام ابن حزم رحمہ اللہ:
کسی صورت میں بھی حمام میں نماز پڑھنا جائز نہیں۔
➍ امام شوکانی رحمہ اللہ:
انہوں نے امام ابن حزم رحمہ اللہ کی بات کو برحق کہا ہے۔ [نیل الأوطار: 929/1]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 362]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث745
جن جگہوں پر نماز مکروہ ہے ان کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے سوا ساری زمین مسجد ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 745]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے سوا ساری زمین مسجد ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 745]
اردو حاشہ:
➊ جہاں قبر سامنے ہو وہاں نماز پڑھنے سے منع ہونے میں یہ حکمت ہے کہ ظاہری طور پر قبر کو سجدہ کی صورت نہ بنے، اگرچہ ارادہ قبر یا صاحب قبر کو سجدہ کرنے کا نہ ہو۔ نمازِ جنازہ میں بھی رکوع اور سجدہ مقرر نہیں کیا گیا کیونکہ میت سامنے ہوتی ہے تاکہ ظاہری طور پر بھی سجدہ کی صورت نہ بن جائے، اسی وجہ سے جو شخص کسی کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکا وہ بعد میں اس کی قبر پر جنازہ پڑھ سکتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ، حدیث: 1533، 1527]
➋ بعض لوگ کسی نبی یا ولی کی قبر کے پاس مسجد بنا لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مدفون ہستی کی برکات کی وجہ سے یہاں نماز پڑھنا افضل ہے، حالانکہ یہ بھی شرعاً منع ہے، اگرچہ نماز پڑھتے وقت قبر سامنے نہ بھی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بزرگوں اور انبیاء کی قبروں پر عبادت گاہیں بنانا یہود و نصاریٰ کی عادت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
”اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“ [صحیح بخاری، الصلاۃ، حدیث: 436، 435] [صحیح مسلم، المساجد، باب النہی عن بناء المساجد علی القبور، حدیث: 529]
➌ بعض لوگ مسجد میں قبر کے جواز کے لیے یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ حطیم میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبر ہے، حالانکہ وہ کعبہ کا حصہ ہے۔ اسی طرح مسجدِ نبوی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قبریں ہیں۔ یہ دلیل اس لیے درست نہیں کہ حطیم میں اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبر ہونا ثابت بھی ہو تو اس کا نشان مٹ چکا ہے، لہٰذا وہ قبر کے حکم میں نہیں رہی۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور شیخین رضی اللہ عنہ کی قبریں مسجدِ نبوی سے باہر بنائی گئی تھیں۔ ان کو مسجد میں شامل کرنے کا حکم نہ اللہ نے دیا، نہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے، نہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا۔ بعد کے زمانوں کے غلط کام کسی شرعی مسئلہ کی دلیل نہیں بن سکتے۔ ویسے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا حجرہ مبارکہ جس میں یہ قبریں موجود ہیں، چاروں طرف سے بند ہے، وہاں جانا ممکن نہیں، اس طرح گویا انہیں مسجد سے الگ کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود محتاط علمائے کرام یہی کہتے ہیں کہ اگر دورِ حاضر کے حکام اس حصے کو دیوار کے ذریعے مسجد سے الگ کر دیتے جہاں آنے جانے کا راستہ بالکل الگ ہوتا، تو یہ بہت بہتر ہوتا۔
➊ جہاں قبر سامنے ہو وہاں نماز پڑھنے سے منع ہونے میں یہ حکمت ہے کہ ظاہری طور پر قبر کو سجدہ کی صورت نہ بنے، اگرچہ ارادہ قبر یا صاحب قبر کو سجدہ کرنے کا نہ ہو۔ نمازِ جنازہ میں بھی رکوع اور سجدہ مقرر نہیں کیا گیا کیونکہ میت سامنے ہوتی ہے تاکہ ظاہری طور پر بھی سجدہ کی صورت نہ بن جائے، اسی وجہ سے جو شخص کسی کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکا وہ بعد میں اس کی قبر پر جنازہ پڑھ سکتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ، حدیث: 1533، 1527]
➋ بعض لوگ کسی نبی یا ولی کی قبر کے پاس مسجد بنا لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مدفون ہستی کی برکات کی وجہ سے یہاں نماز پڑھنا افضل ہے، حالانکہ یہ بھی شرعاً منع ہے، اگرچہ نماز پڑھتے وقت قبر سامنے نہ بھی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بزرگوں اور انبیاء کی قبروں پر عبادت گاہیں بنانا یہود و نصاریٰ کی عادت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
”اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“ [صحیح بخاری، الصلاۃ، حدیث: 436، 435] [صحیح مسلم، المساجد، باب النہی عن بناء المساجد علی القبور، حدیث: 529]
➌ بعض لوگ مسجد میں قبر کے جواز کے لیے یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ حطیم میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبر ہے، حالانکہ وہ کعبہ کا حصہ ہے۔ اسی طرح مسجدِ نبوی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قبریں ہیں۔ یہ دلیل اس لیے درست نہیں کہ حطیم میں اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبر ہونا ثابت بھی ہو تو اس کا نشان مٹ چکا ہے، لہٰذا وہ قبر کے حکم میں نہیں رہی۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور شیخین رضی اللہ عنہ کی قبریں مسجدِ نبوی سے باہر بنائی گئی تھیں۔ ان کو مسجد میں شامل کرنے کا حکم نہ اللہ نے دیا، نہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے، نہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا۔ بعد کے زمانوں کے غلط کام کسی شرعی مسئلہ کی دلیل نہیں بن سکتے۔ ویسے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا حجرہ مبارکہ جس میں یہ قبریں موجود ہیں، چاروں طرف سے بند ہے، وہاں جانا ممکن نہیں، اس طرح گویا انہیں مسجد سے الگ کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود محتاط علمائے کرام یہی کہتے ہیں کہ اگر دورِ حاضر کے حکام اس حصے کو دیوار کے ذریعے مسجد سے الگ کر دیتے جہاں آنے جانے کا راستہ بالکل الگ ہوتا، تو یہ بہت بہتر ہوتا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 745]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 317 in Urdu
عمرو بن يحيى الأنصاري ← يحيى بن عمارة الأنصاري