سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب ومن سورة العنكبوت
باب: سورۃ العنکبوت کی بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3189
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَال: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ، قَالَ: أُنْزِلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ، فَذَكَرَ قِصَّةً، فَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ اللَّهُ بِالْبِرِّ؟ وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَمُوتَ أَوْ تَكْفُرَ، قَالَ: فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا شَجَرُوا فَاهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي سورة العنكبوت آية 8 الْآيَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے تعلق سے چار آیتیں نازل ہوئی ہیں، پھر انہوں نے ایک واقعہ وقصہ بیان کیا، ام سعد رضی الله عنہا نے کہا: کیا اللہ نے احسان کا حکم نہیں دیا ہے؟ ۱؎ قسم اللہ کی! نہ میں کھانا کھاؤں گی نہ کچھ پیوں گی یہاں تک کہ مر جاؤں یا پھر تم (اپنے ایمان سے) پھر جاؤ۔ (سعد) کہتے ہیں: جب لوگ اسے کھلانے کا ارادہ کرتے تو لکڑی ڈال کر اس کا منہ کھولتے، اسی موقع پر آیت «ووصينا الإنسان بوالديه حسنا وإن جاهداك لتشرك بي» ”ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان (و حسن سلوک) کا حکم دیا لیکن اگر وہ چاہیں کہ تم میرے ساتھ شرک کرو جس کا تمہیں علم نہیں تو تم ان کا کہنا نہ مانو“ (العنکبوت: ۸)، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3189]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3189]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 3079 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی سعد رضی الله عنہ کی مشرک و کافر ماں ان کو ”اللہ نے اپنے ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے“ کے حکم سے حوالے سے کفر و شرک پر ابھار رہی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاق | صحابي | |
👤←👥مصعب بن سعد الزهري، أبو زرارة مصعب بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري | ثقة | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← مصعب بن سعد الزهري | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← سماك بن حرب الذهلي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر محمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← محمد بن جعفر الهذلي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← محمد بن المثنى العنزي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6238
| حلفت أم سعد أن لا تكلمه أبدا حتى يكفر بدينه ولا تأكل ولا تشرب قالت زعمت أن الله وصاك بوالديك وأنا أمك وأنا آمرك بهذا قال مكثت ثلاثا حتى غشي عليها من الجهد فقام ابن لها يقال له عمارة فسقاها فجعلت تدعو على سعد فأنزل الله في القرآن هذه الآية ووصينا الإنسان ب |
جامع الترمذي |
3189
| أليس قد أمر الله بالبر والله لا أطعم طعاما ولا أشرب شرابا حتى أموت أو تكفر قال فكانوا إذا أرادوا أن يطعموها شجروا فاها فنزلت هذه الآية ووصينا الإنسان بوالديه حسنا وإن جاهداك لتشرك بي الآية |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3189 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3189
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی سعد رضی اللہ عنہ کی مشرک وکافر ماں ”ان کو اللہ نے اپنے ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے“ کے حکم سے حوالے سے کفروشرک پر ابھار رہی تھی۔
2؎:
ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان (وحسن سلوک) کا حکم دیا لیکن اگر وہ چاہیں کہ تم میرے ساتھ شرک کرو جس کا تمہیں علم نہیں تو تم ان کا کہنا نہ مانو (العنکبوت: 8)
وضاحت:
1؎:
یعنی سعد رضی اللہ عنہ کی مشرک وکافر ماں ”ان کو اللہ نے اپنے ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے“ کے حکم سے حوالے سے کفروشرک پر ابھار رہی تھی۔
2؎:
ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان (وحسن سلوک) کا حکم دیا لیکن اگر وہ چاہیں کہ تم میرے ساتھ شرک کرو جس کا تمہیں علم نہیں تو تم ان کا کہنا نہ مانو (العنکبوت: 8)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3189]
مصعب بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري