الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. باب ومن سورة الواقعة
باب: سورۃ الواقعہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3294
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: " وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ سورة الواقعة آية 34، قَالَ: ارْتِفَاعُهَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَمَسِيرَةُ مَا بَيْنَهُمَا خَمْسُ مِائَةِ عَامٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: وَارْتِفَاعُهَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، قَالَ: ارْتِفَاعُ الْفُرُشِ الْمَرْفُوعَةِ فِي الدَّرَجَاتِ وَالدَّرَجَاتُ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «وفرش مرفوعة» ”جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے“ (الواقعہ: ۳۴)، کے سلسلے میں فرمایا: ”ان بچھونوں کی اونچائی اتنی ہے جنتا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے اور ان کے درمیان چلنے کی مسافت پانچ سو سال کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- بعض اہل علم کہتے ہیں: اس حدیث میں «ارتفاعها كما بين السماء والأرض» کا مفہوم یہ ہے کہ بچھونوں کی اونچائی درجات کی بلندی کے مطابق ہو گی اور ہر دو درجے کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہو گا جتنا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3294]
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- بعض اہل علم کہتے ہیں: اس حدیث میں «ارتفاعها كما بين السماء والأرض» کا مفہوم یہ ہے کہ بچھونوں کی اونچائی درجات کی بلندی کے مطابق ہو گی اور ہر دو درجے کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہو گا جتنا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3294]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 2540 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، التعليق الرغيب (4 / 262)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3294
| وفرش مرفوعة قال ارتفاعها كما بين السماء والأرض |
جامع الترمذي |
2540
| وفرش مرفوعة قال ارتفاعها لكما بين السماء والأرض |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3294 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3294
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے (الواقعہ: 34)
وضاحت:
1؎:
جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے (الواقعہ: 34)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3294]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2540
جنتیوں کے لباس کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قول «وفرش مرفوعة» (الواقعۃ: ۳۴) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”جنت کے فرش کی بلندی اتنی ہو گی جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ یعنی پانچ سو سال کی مسافت۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2540]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قول «وفرش مرفوعة» (الواقعۃ: ۳۴) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”جنت کے فرش کی بلندی اتنی ہو گی جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ یعنی پانچ سو سال کی مسافت۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2540]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں دراج ابو السمح اور رشدین بن سعد ضعیف راوی ہیں)
نوٹ:
(سند میں دراج ابو السمح اور رشدین بن سعد ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2540]
سليمان بن عمرو الليثي ← أبو سعيد الخدري