سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
68. باب ومن سورة سأل سائل
باب: سورۃ المعارج سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3322
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: " كَالْمُهْلِ سورة الكهف آية 29، قَالَ: " كَعَكَرِ الزَّيْتِ، فَإِذَا قَرَّبَهُ إِلَى وَجْهِهِ سَقَطَتْ فَرْوَةُ وَجْهِهِ فِيهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «يوم تكون السماء كالمهل» ”جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا“ (المعارج: ۸)، میں مہل کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس سے مراد تیل کی تلچھٹ ہے، جب کافر اسے اپنے منہ کے قریب لائے گا تو سر کی کھال مع بالوں کے اس میں گر جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3322]
یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 2581 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف ومضى برقم (2707) // (475 / 2720) //
الرواة الحديث:
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3322 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3322
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا (المعارج: 8)
وضاحت:
1؎:
جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا (المعارج: 8)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3322]
سليمان بن عمرو الليثي ← أبو سعيد الخدري