🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69. باب ومن سورة الجن
باب: سورۃ الجن سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3323
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ وَلَا رَآهُمْ، انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: مَا لَكُمْ؟ قَالُوا: حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ، فَقَالُوا: مَا حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلَّا أَمْرٍ حَدَثَ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، قَالَ: فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا يَبْتَغُونَ مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَانْصَرَفَ أُولَئِكَ النَّفَرُ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِنَخْلَةَ عَامِدًا إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ، فَقَالُوا: هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، قَالَ: فَهُنَالِكَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: يَا قَوْمَنَا: إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا {1} يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا {2} سورة الجن آية 1-2 فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ سورة الجن آية 1 وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ (ہوا یہ ہے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، (بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے (دنیا میں) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ کھڑی ہوئی ہے، تم زمین کے مشرق و مغرب میں چاروں طرف پھیل جاؤ اور دیکھو کہ وہ کون سی چیز ہے جو ہمارے اور ہمارے آسمان سے خبریں حاصل کرنے کے درمیان حائل ہوئی (اور رکاوٹ بنی) ہے چنانچہ وہ زمین کے چاروں کونے مغربین و مشرقین میں تلاش کرنے نکل کھڑے ہوئے، شیاطین کا جو گروہ تہامہ کی طرف نکلا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا (اس وقت) آپ سوق عکاظ جاتے ہوئے مقام نخلہ میں تھے، اور اپنے صحابہ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے، جب انہوں نے قرآن سنا تو پوری توجہ سے کان لگا کر سننے لگے، (سن چکے تو) انہوں نے کہا: یہ ہے قسم اللہ کی! وہ چیز جو تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہوئی ہے، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: یہیں سے وہ لوگ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے، (وہاں جا کر) کہا: اے میری قوم! «إنا سمعنا قرآنا عجبا يهدي إلى الرشد فآمنا به ولن نشرك بربنا أحدا» ہم نے عجیب و غریب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس پر ایمان لا چکے (اب) ہم کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے (الجن: ۱-۲)، اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت «قل أوحي إلي أنه استمع نفر من الجن» نازل فرمائی، اور آپ پر جن کا قول وحی کیا گیا ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 105 (772)، تفسیر سورة الجن (4921)، صحیح مسلم/الصلاة 31 (446) (تحفة الأشراف: 5452) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ ابن عباس رضی الله عنہما کے اپنے علم کے مطابق ہے، چونکہ بات ایسی نہیں ہے کہ اس لیے شاید امام بخاری نے اس حدیث کا یہ ٹکڑا اپنی صحیح میں درج نہیں کیا ہے، اور صحیح مسلم میں اس کے فوراً بعد ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت درج کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں کی دعوت پر ان کے پاس جا کر ان پر قرآن پڑھا ہے، ان دونوں حدیثوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ یہ دو واقعے ہیں، پہلے واقعہ کی بابت ابن عباس رضی الله عنہما کی یہ روایت اور ان کا یہ قول ہے، اس کے بعد یہ ہوا تھا کہ آپ ان کے پاس تشریف لے جا کر ان کو قرآن سنایا تھا (کما فی الفتح)
۲؎: ابن عباس کا یہ قول ان کے اسی دعوے کی بنیاد پر ہے کہ آپ جنوں کے پاس خود نہیں گئے تھے، انہوں نے آپ کی قراءت اچانک سن لی، اس واقعہ کی اطلاع بھی آپ کو بذریعہ وحی دی گی۔
قال الشيخ الألباني: (قول ابن عباس: ما قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم على الجن ... إلى قوله: وإنما أوحى إليه قول الجن) صحيح، (وقول ابن عباس: قول الجن لقومهم * (لما قام عبد الله.....) * إلى قوله: قالوا لقومهم * (لما قام عبد الله.....) *) صحيح الإسناد

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥جعفر بن أبي وحشية اليشكري، أبو بشر
Newجعفر بن أبي وحشية اليشكري ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← جعفر بن أبي وحشية اليشكري
ثقة ثبت
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة ثبت
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← هشام بن عبد الملك الباهلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4921
انطلق رسول الله في طائفة من أصحابه عامدين إلى سوق عكاظ وقد حيل بين الشياطين وبين خبر السماء وأرسلت عليهم الشهب فرجعت الشياطين فقالوا ما لكم فقالوا حيل بيننا وبين خبر السماء وأرسلت علينا الشهب قال ما حال بينكم وبين خبر السماء إلا ما حدث فاضربوا مشارق الأرض
صحيح البخاري
773
انطلق النبي في طائفة من أصحابه عامدين إلى سوق عكاظ وقد حيل بين الشياطين وبين خبر السماء وأرسلت عليهم الشهب فرجعت الشياطين إلى قومهم فقالوا ما لكم فقالوا حيل بيننا وبين خبر السماء وأرسلت علينا الشهب قالوا ما حال بينكم وبين خبر السماء إلا شيء حدث فاضربوا مش
جامع الترمذي
3323
انطلق رسول الله في طائفة من أصحابه عامدين إلى سوق عكاظ وقد حيل بين الشياطين وبين خبر السماء وأرسلت عليهم الشهب فرجعت الشياطين إلى قومهم فقالوا ما لكم قالوا حيل بيننا وبين خبر السماء وأرسلت علينا الشهب فقالوا ما حال بيننا وبين خبر السماء إلا أمر حدث فاضربو
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3323
لما رأوه يصلي وأصحابه يصلون بصلاته فيسجدون بسجوده قال تعجبوا من طواعية أصحابه له قالوا لقومهم لما قام عبد الله يدعوه كادوا يكونون عليه لبدا
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3323 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3323
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اپنے علم کے مطابق ہے،
چونکہ بات ایسی نہیں ہے کہ اس لیے شاید امام بخاری نے اس حدیث کا یہ ٹکڑا اپنی صحیح میں درج نہیں کیا ہے،
اور صحیح مسلم میں اس کے فوراً بعد ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت درج کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں کی دعوت پر ان کے پاس جا کر ان پر قرآن پڑھا ہے،
ان دونوں حدیثوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ یہ دو واقع ہیں،
پہلے واقعہ کی بابت ابن عباس کی یہ روایت اور ان کا یہ قول ہے،
اس کے بعد یہ ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جا کر ان کو قرآن سنایا تھا (کمافی الفتح)
2؎:
ہم نے عجیب وغریب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس پر ایمان لا چکے (اب) ہم کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے (الجن: 1-2)

3؎:
ابن عباس کا یہ قول ان کے اسی دعوے کی بنیاد پرہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کے پاس خود نہیں گئے تھے،
انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراء ت اچانک سن لی،
اس واقعہ کی اطلاع بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوبذریعہ وحی دی گی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3323]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 773
773. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ سوق عکاظ کا ارادہ کر کے چلے جبکہ ان دنوں شیاطین کو آسمانی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر شعلے برسائے جا رہے تھے۔ ان حالات میں شیاطین اپنی قوم کی طرف لوٹ آئے، قوم نے پوچھا: کیا حال ہے؟ شیاطین نے کہا: ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے اور اب ہم پر شعلے برسائے جا رہے ہیں۔ قوم نے کہا: تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان کوئی ایسی چیز حائل ہو گئی ہے جو ابھی ابھی ظاہر ہوئی ہے، اس لیے تم روئے زمین میں مشرق و مغرب تک چل پھر کر دیکھو کہ وہ کیا چیز ہے جو تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہو گئی ہے؟ چنانچہ وہ اس کی تلاش میں نکلے، ان میں وہ جنات جو تہامہ کی طرف نکلے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ پہنچے۔ آپ اس وقت مقام نخلہ میں تھے اور عکاظ کی منڈی کی طرف۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:773]
حدیث حاشیہ:
عکاظ ایک منڈی کا نام تھا، جو مکہ شریف کے قریب قدیم زمانہ سے چلی آرہی تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سمیت ایسے عام اجتماعات میں تشریف لے جاتے اور تبلیغ اسلام فرمایا کرتے تھے، چنانچہ آپ اس جگہ جارہے تھے کہ بطن نخلہ وادی میں فجر کا وقت ہوگیا اور آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فجر کی نماز پڑھائی۔
جس میں جنوں کی ایک جماعت نے قرآن پاک سنا اور مسلمان ہو گئے۔
سورۃ جن میں ان ہی کا ذکر ہے۔
حدیث اور باب میں مطابقت ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں بآواز بلند قرات فرمائی۔
مغرب اور عشاء اور فجر ان وقتوں کی نمازیں جہری کہلاتی ہیں کہ ان کے شروع والی رکعتوں میں بلند آواز سے قرآت کی جاتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 773]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:773
773. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ سوق عکاظ کا ارادہ کر کے چلے جبکہ ان دنوں شیاطین کو آسمانی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر شعلے برسائے جا رہے تھے۔ ان حالات میں شیاطین اپنی قوم کی طرف لوٹ آئے، قوم نے پوچھا: کیا حال ہے؟ شیاطین نے کہا: ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے اور اب ہم پر شعلے برسائے جا رہے ہیں۔ قوم نے کہا: تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان کوئی ایسی چیز حائل ہو گئی ہے جو ابھی ابھی ظاہر ہوئی ہے، اس لیے تم روئے زمین میں مشرق و مغرب تک چل پھر کر دیکھو کہ وہ کیا چیز ہے جو تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہو گئی ہے؟ چنانچہ وہ اس کی تلاش میں نکلے، ان میں وہ جنات جو تہامہ کی طرف نکلے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ پہنچے۔ آپ اس وقت مقام نخلہ میں تھے اور عکاظ کی منڈی کی طرف۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:773]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں اگرچہ نماز فجر میں جہری قراءت کی صراحت نہیں، تاہم جنات نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت سنی تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ بآواز بلند قراءت فرما رہے تھے، نیز اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کے، اوپر جاکر آسمانی خبریں لانے پر پابندی اور ان پر شعلے برسنے کا سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ نبوت میں ہواء حالانکہ یہ سلسلہ بہت پہلے شروع ہوچکا تھا۔
اس کے متعلق علامہ کرمانی ؒ فرماتے ہیں کہ پہلے زمانے میں یہ سلسلہ محدود پیمانے پر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ نبوت میں اس میں شدت اور کثرت پیدا ہو گئی، اس پر جنات کو پریشانی ہوئی اور وہ اس کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔
(شرح الکرماني: 134/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 773]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4921
4921. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کے ہمراہ سوق عکاظ کا قصد کیا۔ ان دنوں شیطانوں کو آسمان کی خبریں ملنا بند ہو گئیں تھیں اور ان پر آسمان سے آگ کے انگارے چھوڑے جاتے تھے۔ جب شیطان لوٹ کر آئے تو انہوں نے اپنی قوم سے پوچھا کہ کیا بات ہوئی؟ ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے اور ہم پر آسمان سے انگارے برسائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسمانی خبروں اور تمہارے درمیان رکاوٹ پیدا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کوئی نئی بات واقع ہوئی ہے۔ اب یوں کرو کہ مشرق و مغرب میں ساری زمین پر پھیل جاؤ اور تلاش کرو کہ کون سی بات پیش آ گئی ہے، چنانچہ شیاطین مشرق و مغرب میں پھیل گئے تا کہ اس بات کی ٹوہ لگائیں کہ آسمانی خبروں تک ان کی رسائی کس وجہ سے ناممکن ہو گئی ہے۔ جو شیاطین اس کھوج میں نکلے تھے، ان کا ایک گروہ وادی تہامہ کی طرف بھی نکلا جہاں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4921]
حدیث حاشیہ:

اس موقع پر قرآن سننے والے جن مشرک تھے اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث سے متاثر تھے قرآن کا بیان سن کر انھیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ بیوی کی ضرورت سے پاک ہے اور اس کے متعلق ایسا تصور رکھنا گمراہ عقیدہ ہے۔
لہٰذا ہم ایسے عقیدے سے توبہ کر کے اکیلے اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔

سورۃ الاحقاف آیت نمبر 29۔
32۔
میں بھی جنوں کے قرآن سننے کا ذکر ہے لیکن وہ ایک الگ واقعہ ہے۔
وہاں قرآن سننے والے مشرک نہیں تھے بلکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تورات پر ایمان رکھتے تھے قرآن سننے کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے جبکہ اس سورت میں جن جنوں کا ذکر آیا ہے یہ مشرک تھے۔
واللہ اعلم۔

جنوں کے قرآن سننے کا ایک اور واقعہ بھی کتب حدیث میں مروی ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اچانک آپ لا پتہ ہو گئے ہم نے آپ کوپہاڑ کی گھاٹیوں اور وادیوں میں تلاش کیا مگر آپ نہ مل سکے۔
ہم نے خیال کیا کہ آپ کو جن اڑا کر لے گئے ہیں یا آپ کو کسی نے اچانک شہید کردیا ہے۔
ہم نے وہ رات بہت تکلیف اور پریشانی میں بسر کی۔
جب صبح ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ آپ حراء کی طرف سے آ رہے ہیں ہم نے عرض کی:
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ کو رات بھر تلاش کیا لیکن آپ نہ مل سکے ہم نے بڑے کرب اور تکلیف میں رات گزاری ہے۔
آپ نے فرمایا:
میرے پاس جنوں کی طرف سے ایک بلانے والا آیا تھا۔
چنانچہ میں اس کے ساتھ گیا اور انھیں قران سنا کر آیا ہوں۔
(صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1007۔
(450)
یہ ایک دوسرا واقعہ ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4921]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3323M
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَوْلُ الْجِنِّ لِقَوْمِهِمْ: " لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا سورة الجن آية 19 قَالَ: لَمَّا رَأَوْهُ يُصَلِّي وَأَصْحَابُهُ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ فَيَسْجُدُونَ بِسُجُودِهِ، قَالَ: تَعَجَّبُوا مِنْ طَوَاعِيَةِ أَصْحَابِهِ لَهُ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ: لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا سورة الجن آية 19 "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
اور اسی سند سے مروی ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: یہ بھی جنوں کا ہی قول ہے، انہوں نے اپنی قوم سے کہا: «لما قام عبد الله يدعوه كادوا يكونون عليه لبدا» اور جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وہ بھڑ بن کر اس پر پل پڑیں (الجن: ۱۹)۔ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: جب انہوں نے آپ کو نماز پڑھتے دیکھا اور دیکھا کہ آپ کے صحابہ آپ کی اقتداء کرتے ہوئے آپ کی طرح نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ کے سجدہ کی طرح سجدہ کر رہے ہیں تو وہ آپ کے اصحاب کی آپ کی اطاعت دیکھ کر حیرت میں پڑ گئے، انہوں نے اپنی قوم سے کہا: «لما قام عبد الله يدعوه كادوا يكونون عليه لبدا» ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3323M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس آیت کی کئی تفسیریں مروی ہیں، ایک تو یہی ابن عباس کی تفسیر، جس کے مطابق «كادوا يكونون عليه لبدا» (الجن: ۱۹) سے مراد صحابہ کرام ہیں، یعنی: صحابہ آپ کی اطاعت ایسے کرتے ہیں جیسے کوئی بھیڑ کسی بات پر پل پڑے، لیکن ابن کثیر نے اگلی آیت سے، استدلال کرتے ہوئے یہ معنی بیان کیا ہے کہ اس سے مراد مشرک جن و انس ہیں جو آپ کو عبادت کرتے دیکھ کر بھیڑ بن کر پل پڑے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: (قول ابن عباس: ما قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم على الجن ... إلى قوله: وإنما أوحى إليه قول الجن) صحيح، (وقول ابن عباس: قول الجن لقومهم * (لما قام عبد الله.....) * إلى قوله: قالوا لقومهم * (لما قام عبد الله.....) *) صحيح الإسناد

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي