صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. باب الجهر بقراءة صلاة الفجر:
باب: فجر کی نماز میں بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنا۔
حدیث نمبر: Q773
وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: طُفْتُ وَرَاءَ النَّاسِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَيَقْرَأُ بِالطُّورِ.
اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے لوگوں کے پیچھے ہو کر کعبہ کا طواف کیا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز میں) سورۃ الطور پڑھ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q773]
حدیث نمبر: 773
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: مَا لَكُمْ، فَقَالُوا: حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ، قَالُوا: مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلَّا شَيْءٌ حَدَثَ فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَانْصَرَفَ أُولَئِكَ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِنَخْلَةَ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ، فَقَالُوا: هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَهُنَالِكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ وَقَالُوا: يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ سورة الجن آية 1 وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے ابوبشر سے بیان کیا، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف گئے۔ ان دنوں شیاطین کو آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگارے (شہاب ثاقب) پھینکے جانے لگے تھے۔ تو وہ شیاطین اپنی قوم کے پاس آئے اور پوچھا کہ بات کیا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا ہے اور (جب ہم آسمان کی طرف جاتے ہیں تو) ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ شیاطین نے کہا کہ آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کی کوئی نئی وجہ ہوئی ہے۔ اس لیے تم مشرق و مغرب میں ہر طرف پھیل جاؤ اور اس سبب کو معلوم کرو جو تمہیں آسمان کی خبریں لینے سے روکنے کا سبب ہوا ہے۔ وجہ معلوم کرنے کے لیے نکلے ہوئے شیاطین تہامہ کی طرف گئے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عکاظ کے بازار کو جاتے ہوئے مقام نخلہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ نماز فجر پڑھ رہے تھے۔ جب قرآن مجید انہوں نے سنا تو غور سے اس کی طرف کان لگا دئیے۔ پھر کہا، اللہ کی قسم! یہی ہے جو آسمان کی خبریں سننے سے روکنے کا باعث بنا ہے۔ پھر وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور کہا قوم کے لوگو! ہم نے حیرت انگیز قرآن سنا جو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ اس لیے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی «قل أوحي إلى» (آپ کہیئے کہ مجھے وحی کے ذریعہ بتایا گیا ہے) اور آپ پر جنوں کی گفتگو وحی کی گئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 773]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ «سُوقِ عُكَاظ» "عکاظ کے بازار" کا ارادہ کر کے چلے جبکہ ان دنوں شیاطین کو آسمانی خبریں لینے سے روک دیا گیا تھا اور ان پر شعلے برسائے جا رہے تھے۔ ان حالات میں شیاطین اپنی قوم کی طرف لوٹ آئے، قوم نے پوچھا: کیا حال ہے؟ شیاطین نے کہا: ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے اور اب ہم پر شعلے برسائے جا رہے ہیں۔ قوم نے کہا: تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان کوئی ایسی چیز حائل ہو گئی ہے جو ابھی ابھی ظاہر ہوئی ہے، اس لیے تم روئے زمین میں مشرق و مغرب تک چل پھر کر دیکھو کہ وہ کیا چیز ہے جو تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہو گئی ہے؟ چنانچہ وہ اس کی تلاش میں نکلے، ان میں وہ جنات جو تہامہ کی طرف نکلے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ پہنچے۔ آپ اس وقت مقام «نَخْلَة» میں تھے اور عکاظ کی منڈی کی طرف جانے کی نیت رکھتے تھے۔ اس وقت آپ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز فجر پڑھا رہے تھے۔ جب ان جنات نے کان لگا کر قرآن سنا تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہی وہ قرآن ہے جس نے تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حجاب ڈال دیا ہے، چنانچہ اسی مقام سے وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور ان سے کہنے لگے: بھائیو! ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو ہدایت کا رستہ بتاتا ہے، لہذا ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ اب ہم ہرگز اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ تب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ سورت ﴿قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ﴾ [سورة الجن: 1] نازل فرمائی اور آپ کو جنوں کی گفتگو بذریعہ وحی بتائی گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 773]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4921
| انطلق رسول الله في طائفة من أصحابه عامدين إلى سوق عكاظ وقد حيل بين الشياطين وبين خبر السماء وأرسلت عليهم الشهب فرجعت الشياطين فقالوا ما لكم فقالوا حيل بيننا وبين خبر السماء وأرسلت علينا الشهب قال ما حال بينكم وبين خبر السماء إلا ما حدث فاضربوا مشارق الأرض |
صحيح البخاري |
773
| انطلق النبي في طائفة من أصحابه عامدين إلى سوق عكاظ وقد حيل بين الشياطين وبين خبر السماء وأرسلت عليهم الشهب فرجعت الشياطين إلى قومهم فقالوا ما لكم فقالوا حيل بيننا وبين خبر السماء وأرسلت علينا الشهب قالوا ما حال بينكم وبين خبر السماء إلا شيء حدث فاضربوا مش |
جامع الترمذي |
3323
| انطلق رسول الله في طائفة من أصحابه عامدين إلى سوق عكاظ وقد حيل بين الشياطين وبين خبر السماء وأرسلت عليهم الشهب فرجعت الشياطين إلى قومهم فقالوا ما لكم قالوا حيل بيننا وبين خبر السماء وأرسلت علينا الشهب فقالوا ما حال بيننا وبين خبر السماء إلا أمر حدث فاضربو |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 773 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 773
حدیث حاشیہ:
عکاظ ایک منڈی کا نام تھا، جو مکہ شریف کے قریب قدیم زمانہ سے چلی آرہی تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سمیت ایسے عام اجتماعات میں تشریف لے جاتے اور تبلیغ اسلام فرمایا کرتے تھے، چنانچہ آپ اس جگہ جارہے تھے کہ بطن نخلہ وادی میں فجر کا وقت ہوگیا اور آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فجر کی نماز پڑھائی۔
جس میں جنوں کی ایک جماعت نے قرآن پاک سنا اور مسلمان ہو گئے۔
سورۃ جن میں ان ہی کا ذکر ہے۔
حدیث اور باب میں مطابقت ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں بآواز بلند قرات فرمائی۔
مغرب اور عشاء اور فجر ان وقتوں کی نمازیں جہری کہلاتی ہیں کہ ان کے شروع والی رکعتوں میں بلند آواز سے قرآت کی جاتی ہے۔
عکاظ ایک منڈی کا نام تھا، جو مکہ شریف کے قریب قدیم زمانہ سے چلی آرہی تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سمیت ایسے عام اجتماعات میں تشریف لے جاتے اور تبلیغ اسلام فرمایا کرتے تھے، چنانچہ آپ اس جگہ جارہے تھے کہ بطن نخلہ وادی میں فجر کا وقت ہوگیا اور آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فجر کی نماز پڑھائی۔
جس میں جنوں کی ایک جماعت نے قرآن پاک سنا اور مسلمان ہو گئے۔
سورۃ جن میں ان ہی کا ذکر ہے۔
حدیث اور باب میں مطابقت ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں بآواز بلند قرات فرمائی۔
مغرب اور عشاء اور فجر ان وقتوں کی نمازیں جہری کہلاتی ہیں کہ ان کے شروع والی رکعتوں میں بلند آواز سے قرآت کی جاتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 773]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:773
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں اگرچہ نماز فجر میں جہری قراءت کی صراحت نہیں، تاہم جنات نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت سنی تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ بآواز بلند قراءت فرما رہے تھے، نیز اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کے، اوپر جاکر آسمانی خبریں لانے پر پابندی اور ان پر شعلے برسنے کا سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ نبوت میں ہواء حالانکہ یہ سلسلہ بہت پہلے شروع ہوچکا تھا۔
اس کے متعلق علامہ کرمانی ؒ فرماتے ہیں کہ پہلے زمانے میں یہ سلسلہ محدود پیمانے پر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ نبوت میں اس میں شدت اور کثرت پیدا ہو گئی، اس پر جنات کو پریشانی ہوئی اور وہ اس کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔
(شرح الکرماني: 134/5)
اس حدیث میں اگرچہ نماز فجر میں جہری قراءت کی صراحت نہیں، تاہم جنات نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت سنی تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ بآواز بلند قراءت فرما رہے تھے، نیز اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کے، اوپر جاکر آسمانی خبریں لانے پر پابندی اور ان پر شعلے برسنے کا سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ نبوت میں ہواء حالانکہ یہ سلسلہ بہت پہلے شروع ہوچکا تھا۔
اس کے متعلق علامہ کرمانی ؒ فرماتے ہیں کہ پہلے زمانے میں یہ سلسلہ محدود پیمانے پر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ نبوت میں اس میں شدت اور کثرت پیدا ہو گئی، اس پر جنات کو پریشانی ہوئی اور وہ اس کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔
(شرح الکرماني: 134/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 773]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3323
سورۃ الجن سے بعض آیات کی تفسیر۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ (ہوا یہ ہے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، (بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3323]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ (ہوا یہ ہے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، (بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3323]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اپنے علم کے مطابق ہے،
چونکہ بات ایسی نہیں ہے کہ اس لیے شاید امام بخاری نے اس حدیث کا یہ ٹکڑا اپنی صحیح میں درج نہیں کیا ہے،
اور صحیح مسلم میں اس کے فوراً بعد ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت درج کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں کی دعوت پر ان کے پاس جا کر ان پر قرآن پڑھا ہے،
ان دونوں حدیثوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ یہ دو واقع ہیں،
پہلے واقعہ کی بابت ابن عباس کی یہ روایت اور ان کا یہ قول ہے،
اس کے بعد یہ ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جا کر ان کو قرآن سنایا تھا (کمافی الفتح)
2؎:
ہم نے عجیب وغریب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس پر ایمان لا چکے (اب) ہم کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے (الجن: 1-2)
3؎:
ابن عباس کا یہ قول ان کے اسی دعوے کی بنیاد پرہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کے پاس خود نہیں گئے تھے،
انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراء ت اچانک سن لی،
اس واقعہ کی اطلاع بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوبذریعہ وحی دی گی۔
وضاحت:
1؎:
یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اپنے علم کے مطابق ہے،
چونکہ بات ایسی نہیں ہے کہ اس لیے شاید امام بخاری نے اس حدیث کا یہ ٹکڑا اپنی صحیح میں درج نہیں کیا ہے،
اور صحیح مسلم میں اس کے فوراً بعد ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت درج کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں کی دعوت پر ان کے پاس جا کر ان پر قرآن پڑھا ہے،
ان دونوں حدیثوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ یہ دو واقع ہیں،
پہلے واقعہ کی بابت ابن عباس کی یہ روایت اور ان کا یہ قول ہے،
اس کے بعد یہ ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جا کر ان کو قرآن سنایا تھا (کمافی الفتح)
2؎:
ہم نے عجیب وغریب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس پر ایمان لا چکے (اب) ہم کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے (الجن: 1-2)
3؎:
ابن عباس کا یہ قول ان کے اسی دعوے کی بنیاد پرہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کے پاس خود نہیں گئے تھے،
انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراء ت اچانک سن لی،
اس واقعہ کی اطلاع بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوبذریعہ وحی دی گی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3323]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4921
4921. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کے ہمراہ سوق عکاظ کا قصد کیا۔ ان دنوں شیطانوں کو آسمان کی خبریں ملنا بند ہو گئیں تھیں اور ان پر آسمان سے آگ کے انگارے چھوڑے جاتے تھے۔ جب شیطان لوٹ کر آئے تو انہوں نے اپنی قوم سے پوچھا کہ کیا بات ہوئی؟ ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے اور ہم پر آسمان سے انگارے برسائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسمانی خبروں اور تمہارے درمیان رکاوٹ پیدا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کوئی نئی بات واقع ہوئی ہے۔ اب یوں کرو کہ مشرق و مغرب میں ساری زمین پر پھیل جاؤ اور تلاش کرو کہ کون سی بات پیش آ گئی ہے، چنانچہ شیاطین مشرق و مغرب میں پھیل گئے تا کہ اس بات کی ٹوہ لگائیں کہ آسمانی خبروں تک ان کی رسائی کس وجہ سے ناممکن ہو گئی ہے۔ جو شیاطین اس کھوج میں نکلے تھے، ان کا ایک گروہ وادی تہامہ کی طرف بھی نکلا جہاں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:4921]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس موقع پر قرآن سننے والے جن مشرک تھے اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث سے متاثر تھے قرآن کا بیان سن کر انھیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ بیوی کی ضرورت سے پاک ہے اور اس کے متعلق ایسا تصور رکھنا گمراہ عقیدہ ہے۔
لہٰذا ہم ایسے عقیدے سے توبہ کر کے اکیلے اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔
2۔
سورۃ الاحقاف آیت نمبر 29۔
32۔
میں بھی جنوں کے قرآن سننے کا ذکر ہے لیکن وہ ایک الگ واقعہ ہے۔
وہاں قرآن سننے والے مشرک نہیں تھے بلکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تورات پر ایمان رکھتے تھے قرآن سننے کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے جبکہ اس سورت میں جن جنوں کا ذکر آیا ہے یہ مشرک تھے۔
واللہ اعلم۔
3۔
جنوں کے قرآن سننے کا ایک اور واقعہ بھی کتب حدیث میں مروی ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اچانک آپ لا پتہ ہو گئے ہم نے آپ کوپہاڑ کی گھاٹیوں اور وادیوں میں تلاش کیا مگر آپ نہ مل سکے۔
ہم نے خیال کیا کہ آپ کو جن اڑا کر لے گئے ہیں یا آپ کو کسی نے اچانک شہید کردیا ہے۔
ہم نے وہ رات بہت تکلیف اور پریشانی میں بسر کی۔
جب صبح ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ آپ حراء کی طرف سے آ رہے ہیں ہم نے عرض کی:
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ کو رات بھر تلاش کیا لیکن آپ نہ مل سکے ہم نے بڑے کرب اور تکلیف میں رات گزاری ہے۔
آپ نے فرمایا:
”میرے پاس جنوں کی طرف سے ایک بلانے والا آیا تھا۔
چنانچہ میں اس کے ساتھ گیا اور انھیں قران سنا کر آیا ہوں۔
“ (صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1007۔
(450)
یہ ایک دوسرا واقعہ ہے۔
واللہ اعلم۔
1۔
اس موقع پر قرآن سننے والے جن مشرک تھے اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث سے متاثر تھے قرآن کا بیان سن کر انھیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ بیوی کی ضرورت سے پاک ہے اور اس کے متعلق ایسا تصور رکھنا گمراہ عقیدہ ہے۔
لہٰذا ہم ایسے عقیدے سے توبہ کر کے اکیلے اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔
2۔
سورۃ الاحقاف آیت نمبر 29۔
32۔
میں بھی جنوں کے قرآن سننے کا ذکر ہے لیکن وہ ایک الگ واقعہ ہے۔
وہاں قرآن سننے والے مشرک نہیں تھے بلکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تورات پر ایمان رکھتے تھے قرآن سننے کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے جبکہ اس سورت میں جن جنوں کا ذکر آیا ہے یہ مشرک تھے۔
واللہ اعلم۔
3۔
جنوں کے قرآن سننے کا ایک اور واقعہ بھی کتب حدیث میں مروی ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اچانک آپ لا پتہ ہو گئے ہم نے آپ کوپہاڑ کی گھاٹیوں اور وادیوں میں تلاش کیا مگر آپ نہ مل سکے۔
ہم نے خیال کیا کہ آپ کو جن اڑا کر لے گئے ہیں یا آپ کو کسی نے اچانک شہید کردیا ہے۔
ہم نے وہ رات بہت تکلیف اور پریشانی میں بسر کی۔
جب صبح ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ آپ حراء کی طرف سے آ رہے ہیں ہم نے عرض کی:
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ کو رات بھر تلاش کیا لیکن آپ نہ مل سکے ہم نے بڑے کرب اور تکلیف میں رات گزاری ہے۔
آپ نے فرمایا:
”میرے پاس جنوں کی طرف سے ایک بلانے والا آیا تھا۔
چنانچہ میں اس کے ساتھ گیا اور انھیں قران سنا کر آیا ہوں۔
“ (صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1007۔
(450)
یہ ایک دوسرا واقعہ ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4921]
Sahih Bukhari Hadith 773 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي