🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
81. باب ومن سورة والضحى
باب: سورۃ والضحی سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3345
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبٍ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَدَمِيَتْ أُصْبُعُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ "، قَالَ: وَأَبْطَأَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: قَدْ وُدِّعَ مُحَمَّدٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 3 ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ.
جندب بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھا، آپ کی انگلی سے (کسی سبب سے) خون نکل آیا، اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو صرف ایک انگلی ہے جس سے خون نکل آیا ہے اور یہ سب کچھ جو تجھے پیش آیا ہے اللہ کی راہ میں پیش آیا ہے، راوی کہتے ہیں: آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی تو مشرکین نے کہا: (پروپگینڈہ کیا) کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چھوڑ دئیے گئے، تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے (سورۃ والضحیٰ کی) آیت «ما ودعك ربك وما قلى» نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ بیزار ہوا ہے (الضحیٰ: ۳)، نازل فرمائی۔ ۱؎
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اسے شعبہ اور ثوری نے بھی اسود بن قیس سے روایت کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجھاد 9 (2802)، والأدب 90 (6146)، صحیح مسلم/الجھاد 39 (1796) (تحفة الأشراف: 3250)، و مسند احمد (4/312، 313) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: وحی میں یہ تاخیر کسی وجہ سے ہوئی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جندب بن عبد الله البجلي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥الأسود بن قيس العبدي، أبو قيس
Newالأسود بن قيس العبدي ← جندب بن عبد الله البجلي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← الأسود بن قيس العبدي
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن أبي عمر العدني، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي عمر العدني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2802
هل أنت إلا إصبع دميت وفي سبيل الله ما لقيت
صحيح مسلم
4654
هل أنت إلا إصبع دميت وفي سبيل الله ما لقيت
جامع الترمذي
3345
هل أنت إلا إصبع دميت وفي سبيل الله ما لقيت وأبطأ عليه جبريل فقال المشركون قد ودع محمد فأنزل الله ما ودعك ربك وما قلى
مسندالحميدي
794
هل أنت إلا إصبع دميت، وفي سبيل الله ما لقيت
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3345 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3345
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ بیزار ہوا ہے (الضحیٰ: 3) (وحی میں یہ تاخیرکسی وجہ سے ہوئی تھی)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3345]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:794
794- سیدنا جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں غاز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی مبارک زخمی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا۔ تم صر ف ایک انگلی ہو، جو خون آلود ہوئی ہو تمہیں اللہ کی راہ میں اس صورت حال کا سامنا کرناپڑا ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:794]
فائدہ:
یہاں حدیث مختصر ہے جبکہ سنن ابی داود: 2499 میں اس میں اضافہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو مخاطب کر کے فرمایا:
تو صرف خون آلود ہوئی ہے، ہلاک نہیں ہوئی اور نہ ہی کٹ کر جسم سے علیحدہ ہوئی ہے، تیرا زخمی ہونا بھی اللہ کے راستے میں ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جہاد فی سبیل اللہ میں زخم کی بھی بڑی فضیلت ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے باب قائم کیا ہے: جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہو جائے یا اسے نیزہ مارا جائے۔ (صحیح البخاری قبل ح 2801) نیز اس سے آگے باب قائم کیا ہے جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوا (اس کی فضیلت کا بیان) (صحيح البخاری قبل ح 2804)
اللہ تعالیٰ ہمیں شہادت کی موت عطا فرمائے۔ آمین
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 794]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2802
2802. حضرت جندب بن سفیان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنگ میں شریک تھے کہ آپ کی انگشت مبارک خون آلود ہوگئی۔ آپ نے اسے مخاطب ہوکر فرمایا: اے انگلی! ہے تیری ہستی یہی۔۔۔ جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوئی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2802]
حدیث حاشیہ:
ایک انگلی ہے تیری ہستی یہی جو خدا کی راہ میں زخمی ہوئی
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2802]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2802
2802. حضرت جندب بن سفیان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنگ میں شریک تھے کہ آپ کی انگشت مبارک خون آلود ہوگئی۔ آپ نے اسے مخاطب ہوکر فرمایا: اے انگلی! ہے تیری ہستی یہی۔۔۔ جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوئی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2802]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو مخاطب ہوکرفرمایا:
تو صرف خون آلود ہوئی ہے،ہلاک نہیں ہوئی اور نہ ہی کٹ کر جسم سے علیحدہ ہوئی ہے،تیرا زخمی ہونا بھی اللہ کے راستے میں ہے۔

اس عنوان سے امام بخاری ؒ نے آئندہ باب میں پیش کردہ حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں خون آلودہ ہونے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو اللہ کے راستے میں نکل کھڑا ہواور اسے گھوڑے نے گرادیا،یاکسی زہریلی چیز نے ڈس لیا یا کسی بیماری کی وجہ سے اسے موت آگئی تو اس کا شمار شہداء میں ہوگا۔
(سنن أبي داود، الجھاد، حدیث 2499)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2802]