الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب منه
باب: سوتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 3399
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ هُوَ السَّلُولِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَسَّدُ يَمِينَهُ عِنْدَ الْمَنَامِ، ثُمَّ يَقُولُ: رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرَوَى الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ لَمْ يَذْكُرْ بَيْنَهُمَا أَحَدًا، وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ وَرَجُلٌ آخَرَ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَرَوَى إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَعَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے وقت اپنے داہنے ہاتھ کا تکیہ بناتے تھے، پھر پڑھتے تھے: «رب قني عذابك يوم تبعث عبادك» ”اے میرے رب! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا لے جس دن کہ تو مردوں کو اٹھا کر زندہ کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے،
۲- یہ حدیث (امام) ثوری نے ابواسحاق سے روایت کی، اور ابواسحاق نے براء سے، اور امام ثوری نے ان دونوں یعنی ابواسحاق و براء کے بیچ میں کسی اور راوی کا ذکر نہیں کیا،
۳- روایت کی شعبہ نے ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے ابوعبیدہ سے، اور ایک دوسرے شخص نے براء سے،
۴- اسرائیل نے ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے عبداللہ بن یزید کے واسطہ سے براء سے روایت کی ہے، اور ابواسحاق نے ابوعبیدہ اور ابوعبیدہ نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی طرح روایت کی۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3399]
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے،
۲- یہ حدیث (امام) ثوری نے ابواسحاق سے روایت کی، اور ابواسحاق نے براء سے، اور امام ثوری نے ان دونوں یعنی ابواسحاق و براء کے بیچ میں کسی اور راوی کا ذکر نہیں کیا،
۳- روایت کی شعبہ نے ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے ابوعبیدہ سے، اور ایک دوسرے شخص نے براء سے،
۴- اسرائیل نے ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے عبداللہ بن یزید کے واسطہ سے براء سے روایت کی ہے، اور ابواسحاق نے ابوعبیدہ اور ابوعبیدہ نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی طرح روایت کی۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3399]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 215 (75
2- 758) (تحفة الأشراف: 1923)، و مسند احمد (4/290، 298) (صحیح)»
2- 758) (تحفة الأشراف: 1923)، و مسند احمد (4/290، 298) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة أيضا
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1642
| رب قني عذابك يوم تبعث أو تجمع عبادك |
جامع الترمذي |
3399
| رب قني عذابك يوم تبعث عبادك |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3399 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3399
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے میرے رب! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا لے جس دن کہ تو مردوں کو اٹھا کر زندہ کرے گا۔
وضاحت:
1؎:
اے میرے رب! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا لے جس دن کہ تو مردوں کو اٹھا کر زندہ کرے گا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3399]
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← البراء بن عازب الأنصاري