🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
148. باب ما جاء في الصلاة على الدابة حيثما توجهت به
باب: سواری کے اوپر نماز پڑھنے کا بیان جس طرف بھی وہ متوجہ ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 351
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَجِئْتُ وَهُوَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالسُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ , وَابْنِ عُمَرَ , وَأَبِي سَعِيدٍ , وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ، لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا، لَا يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا حَيْثُ مَا كَانَ وَجْهُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرِهَا.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت سے بھیجا تو میں ضرورت پوری کر کے آیا تو (دیکھا کہ) آپ اپنی سواری پر مشرق (پورب) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، اور سجدہ رکوع سے زیادہ پست تھا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، یہ حدیث دیگر اور سندوں سے بھی جابر سے مروی ہے،
۲- اس باب میں انس، ابن عمر، ابوسعید، عامر بن ربیعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اور اسی پر بیشتر اہل علم کے نزدیک عمل ہے، ہم ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے، یہ لوگ آدمی کے اپنی سواری پر نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، خواہ اس کا رخ قبلہ کی طرف ہو یا کسی اور طرف ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 277 (1227)، وراجع أیضا: صحیح مسلم/المساجد 7 (540)، سنن النسائی/السہو 6 (1190)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 59 (1018)، (تحفة الأشراف: 2750)، مسند احمد (3/334) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: واضح رہے کہ یہ جواز صرف سنن و نوافل کے لیے ہے، نہ کہ فرائض کے لیے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (1112) دون السجود

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥يحيى بن آدم الأموي، أبو زكريا
Newيحيى بن آدم الأموي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ فاضل
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← يحيى بن آدم الأموي
ثقة حافظ إمام
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
400
يصلي على راحلته حيث توجهت إذا أراد الفريضة نزل فاستقبل القبلة
صحيح البخاري
4140
يصلي على راحلته متوجها قبل المشرق متطوعا
صحيح البخاري
1099
يصلي على راحلته نحو المشرق إذا أراد أن يصلي المكتوبة نزل فاستقبل القبلة
صحيح البخاري
1094
يصلي التطوع وهو راكب في غير القبلة
جامع الترمذي
351
يصلي على راحلته نحو المشرق السجود أخفض من الركوع
سنن أبي داود
1227
يصلي على راحلته نحو المشرق السجود أخفض من الركوع
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 351 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 351
اردو حاشہ:
1؎:
واضح رہے کہ یہ جواز صرف سنن و نوافل کے لیے ہے،
نہ کہ فرائض کے لیے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 351]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1094
1094. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری کی حالت میں بغیر قبلہ رو ہوئے نفل نماز پڑھ لیتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1094]
حدیث حاشیہ:
یہ واقعہ غزوہ انمار کا ہے قبلہ وہاں جانے والوں کے لیے بائیں طرف رہتا ہے سواری اونٹ اور ہر جانور کو شامل ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1094]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1099
1099. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر مشرق کی طرف منہ کر کے (نفل) نماز پڑھتے تھے۔ اور جب فرض نماز ادا کرنے کا ارادہ فرماتے تو سواری سے نیچے اتر کر قبلے کی طرف منہ کرتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1099]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے معلو م ہوا کہ جو سواری اپنے اختیار میں ہو بہر حال اسے روک کر فرض نماز نیچے زمین ہی پر پڑھنی چاہیے۔
(واللہ أعلم بالصواب)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1099]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4140
4140. حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ انمار میں اپنی سواری پر نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جبکہ آپ مشرق کی طرف منہ کیے ہوئے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4140]
حدیث حاشیہ:
ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ یہ غزوہ ماہ صفر میں ہوا اور ابن سعد کا بیان ہے کہ ایک آدمی حلب سے آیا اور اس نے خبر دی کہ بنو انمار اور بنو ثعلبہ مسلمانوں سے جنگ کے لیے جمع ہو رہے ہیں تو آپ صفر کی 10 تاریخ کو نکلے اور ان کی جگہ میں ذات الرقاع کے موقع پر آئے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ غزوہ انمار غزوہ بنی مصطلق کے آخر میں 27 صفر میں واقع ہوا، اس لیے کہ ابو الزبیر نے جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ غزوہ بنی مصطلق کے لیے جا رہے تھے۔
میں حاضر خدمت ہوا اور میں نے دیکھا کہ آپ اونٹ کے اوپر نماز پڑھ رہے تھے۔
لیث کی روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جس میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنی انمار میں صلوۃ الخوف کو ادا کیا۔
یہ بھی احتمال ہے کہ متعدد واقعات ہوں۔
(فتح الباري)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4140]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 400
400. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھ لیتے تھے، وہ جس طرف بھی لے جا رہی ہوتی۔ لیکن جب آپ فرض نماز پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو سواری سے اترتے اور قبلہ رو ہو کر نماز پڑھتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:400]
حدیث حاشیہ:
نفل نمازیں سواری پر پڑھنا درست ہے اوررکوع سجدہ بھی اشارے سے کرنا کافی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ اونٹنی پر نماز شروع کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی طرف منہ کرکے تکبیر کہہ لیا کرتے تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 400]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:400
400. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھ لیتے تھے، وہ جس طرف بھی لے جا رہی ہوتی۔ لیکن جب آپ فرض نماز پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو سواری سے اترتے اور قبلہ رو ہو کر نماز پڑھتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:400]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؒ نے قبلہ روہوکر نماز پڑھنے کی پابندی سے ایک استثنائی صورت بیان کرنے کے لیے اس حدیث کو ذکر کیا ہے، یعنی اگر نفل نماز کی ادائیگی مقصود ہوتو قبلہ روہونے کی پابندی ضروری نہیں، لیکن سنن ابوداود میں ہے کہ جب آپ دوران سفر میں نفل نماز اپنی سواری پر پڑھنا چاہتے تو پہلے سواری کامنہ قبلے کی طرف کرلیتے، اس کے بعد تکبیرتحریمہ کہہ کر نماز شروع کرلیتے، پھر سواری کا منہ جدھر بھی ہوجاتا کوئی پروانہ کرتے، البتہ فرض نماز سواری سےا ترکر قبلہ روہوکر ادا فرماتے۔
(سنن أبي داود، صلاة السفر، حدیث: 1225)

الضرورات تبیح المحذورات کے اصول کے پیش نظر اگرشدت خوف ہوتو فرض نماز کے لیے استقبال قبلہ کی شرط ساقط ہو جاتی ہے۔
اسی طرح اگرسفر میں بارش ہوجائے اورنماز پڑھنے کے لیے خشک جگہ نہ ملے تو سواری کوروک کرقبلے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی جاسکتی ہے، لیکن ریل اور بس میں جو بیٹھ کرنماز پڑھنے کارواج ہے، اس کی اصلاح نہایت ضروری ہے، کیونکہ نماز میں استقبال قبلہ اور قیام دونوں ضروری ہیں۔
ریل اور بس میں نماز پڑھنے سے یہ دونوں فوت ہوجاتے ہیں۔
اسلامی حکومت کو چاہیے کہ ریل کے ڈبوں میں ایک ڈبہ ادائیگی نماز کے لیے مختص کرے جس میں پانی اور سمت قبلہ کا اہتمام ہو۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 400]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1099
1099. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر مشرق کی طرف منہ کر کے (نفل) نماز پڑھتے تھے۔ اور جب فرض نماز ادا کرنے کا ارادہ فرماتے تو سواری سے نیچے اتر کر قبلے کی طرف منہ کرتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1099]
حدیث حاشیہ:
(1)
فرض نماز ادا کرنے کے لیے قبلے کی طرف منہ کرنا ضروری ہے۔
اس پر علمائے امت کا اجماع ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سواری پر فرض نماز ادا کرنا صحیح نہیں، ہاں! اگر کوئی معذور ہے تو اسے اجازت ہے، البتہ نماز خوف میں استقبال قبلہ کی پابندی نہیں۔
ایسے ہنگامی حالات میں جس طرف بھی منہ ہو فرض نماز ادا کی جا سکتی ہے۔
(فتح الباري: 742/2) (2)
سواری پر نفل پڑھتے وقت ابتدا میں سواری کو قبلہ رخ کر لیا جائے، پھر جدھر بھی اس کا منہ ہو جائے اپنی نماز جاری رکھے جیسا کہ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوران سفر میں نفل پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو اپنی اونٹنی کا رخ قبلے کی طرف کر لیتے، پھر جدھر بھی اس کا منہ ہو جاتا اپنی نماز میں مصروف رہتے۔
(سنن أبي داود، صلاة السفر، حدیث: 1225)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1099]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4140
4140. حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ انمار میں اپنی سواری پر نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جبکہ آپ مشرق کی طرف منہ کیے ہوئے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4140]
حدیث حاشیہ:

سواری پر نفل نماز پڑھنا جائز ہے۔
اس میں استقبال قبلہ ضروری نہیں اور نہ بحالت سجدہ پیشانی زمین پر رکھنا ہی واجب ہے بلکہ رکوع اور سجدہ اشارے سے کیا جا سکتا ہے۔
لیکن امام بخاری ؒ نے فقہی مسئلہ بیان کرنے کے لیے اس حدیث کو یہاں ذکر نہیں کیا بلکہ غزوہ انمار کے ثبوت کے لیے اسے پیش کیا ہے۔

امام بخاری کے اسلوب پراعتراض کیا گیا ہے کہ اس غزوے کا ذکر پہلے ہونا چاہیے تھا اسے غزوہ بنو مصطلق کے ضمن میں ذکر کرنا مناسب نہیں۔
شاید امام بخاری کا موقف یہ ہے کہ غزوہ انمار غزوہ مریسیع کے دوران میں واقع ہوا ہو۔
چنانچہ ابوزبیر نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ غزوہ بنو مصطلق کے لیے تشریف لے جا رہے تھے میں حاضر ہوا تو آپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے لیث کی روایت سے بھی اس امرکی تائید ہوتی ہے کہ غزوہ انمار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ خوف ادا کی تھی۔
یہ بھی احتمال ہے کہ متعدد واقعات ہوں۔
(فتح الباري: 536/7)

چونکہ واقعہ افک غزوہ بنو مصطلق سے واپسی کے موقع پر پیش آیا۔
اس لیے آخر میں حدیث افک بیان کی جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4140]