🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
99. باب في فضل التوبة والاستغفار وما ذكر من رحمة الله لعباده
باب: توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3539
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ قَاصِّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ: قَدْ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْلَا أَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللَّهُ خَلْقًا يُذْنِبُونَ وَيَغْفِرُ لَهُمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ابوایوب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آ گیا تو انہوں نے کہا: میں نے تم لوگوں سے ایک بات چھپا رکھی ہے، (میں اسے اس وقت ظاہر کر دینا چاہتا ہوں) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اگر تم لوگ گناہ نہ کرو تو اللہ ایک ایسی مخلوق پیدا کر دے جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- یہ حدیث محمد بن کعب سے آئی ہے اور انہوں نے اسے ابوایوب کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/التوبة 2 (2748) (تحفة الأشراف: 3500) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صحیح مسلم کی روایت میں ہے «فیستغفرون فیغفرلہم» یعنی وہ گناہ کریں پھر توبہ و استغفار کریں تو اللہ انہیں بخش دیتا ہے، اس سے استغفار اور توبہ کی فضیلت بتانی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (967 - 970 و 1963)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو أيوب الأنصاري، أبو أيوبصحابي
👤←👥مالك بن أبي قيس المازني، أبو صرمة
Newمالك بن أبي قيس المازني ← أبو أيوب الأنصاري
صحابي
👤←👥محمد بن قيس القاص، أبو إبراهيم، أبو أيوب
Newمحمد بن قيس القاص ← مالك بن أبي قيس المازني
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن قيس القاص
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
6963
لولا أنكم تذنبون لخلق الله خلقا يذنبون يغفر لهم
صحيح مسلم
6964
لو أنكم لم تكن لكم ذنوب يغفرها الله لكم لجاء الله بقوم لهم ذنوب يغفرها لهم
جامع الترمذي
3539
لولا أنكم تذنبون لخلق الله خلقا يذنبون ويغفر لهم
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3539 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3539
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
صحیح مسلم کی روایت میں ہے (فَیَسْتَغْفِرُوْنَ فَیَغْفِرُلَہُمْ) یعنی وہ گناہ کریں پھر توبہ واستغفار کریں تو اللہ انہیں بخش دیتا ہے،
اس سے استغفار اور توبہ کی فضیلت بتانی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3539]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6963
حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرتے وقت بتایا میں نے تم سے ایک ایسی چیز چھپائی تھی،جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا،"اگر تم گناہ نہ کرتے ہوتے، اللہ ایسی مخلوق پیدا کرتا جو گناہ کرتی (اور معافی مانگتی) وہ انہیں معاف فرماتا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6963]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث کا مطلب یہ ہے،
انسان خواہ کس قدر بھی نیکی کا اہتمام کرے اور معصیت سے کنارہ کش رہے،
پھر بھی وہ نیکی کرنے اور بدی سے بچنے کا حق ادا نہیں کر سکتا،
اس لیے اسے ہر وقت توبہ و استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے،
لیکن بعض لوگ اس حدیث کا مفہوم،
اپنی غلط سوچ اور سوء فہمی یا بد فہمی کی بنا پر یہ لے سکتے تھے کہ گناہ کر کے معافی مانگنا،
گناہ نہ کرنے سے بہتر ہے،
اس لیے وہ گناہ پر دلیر ہو جائے اور اللہ کی مغفرت پر اعتماد کر لینے،
حالانکہ معافی مانگنا،
یا اس کی مہلت و موقع ملنا ضروری نہیں ہے،
جبکہ مقصد یہ ہے کہ گناہ ہوجائے تو مایوس ہو کر توبہ و استغفار سے رکنا نہیں چاہیے،
توبہ واستغفار کو ہر حالت میں اپنانا چاہیے۔
گویا مقصد تو توبہ کی ترغیب و تحریص ہے نہ کے گناہ کرنے کی ترغیب وتشویق۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6963]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3539M
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَرَ مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ مُحَمَدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
محمد بن کعب قرظی سے اور محمد نے ابوایوب کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3539M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: 3486) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (967 - 970 و 1963)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو أيوب الأنصاري، أبو أيوبصحابي
👤←👥محمد بن كعب القرظي، أبو عبد الله، أبو حمزة
Newمحمد بن كعب القرظي ← أبو أيوب الأنصاري
ثقة
👤←👥عمر بن عبد الله المدني، أبو حفص
Newعمر بن عبد الله المدني ← محمد بن كعب القرظي
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الرحمن بن أبي الرجال الأنصاري
Newعبد الرحمن بن أبي الرجال الأنصاري ← عمر بن عبد الله المدني
صدوق حسن الحديث
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← عبد الرحمن بن أبي الرجال الأنصاري
ثقة ثبت