سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
128. باب أى الكلام أحب إلى الله
باب: اللہ کے نزدیک سب سے محبوب اور پسندیدہ کلام کون سا ہے؟
حدیث نمبر: 3593
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَهُ أَوْ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ عَادَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْكَلَامِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: " مَا اصْطَفَى اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ رَبِّي وَبِحَمْدِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عیادت کی (یہاں راوی کو شبہ ہو گیا) یا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کی، تو انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اے اللہ کے رسول! کون سا کلام اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ کلام جو اللہ نے اپنے فرشتوں کے لیے منتخب فرمایا ہے (اور وہ یہ ہے) «سبحان ربي وبحمده سبحان ربي وبحمده» ”میرا رب پاک ہے اور تعریف ہے اسی کے لیے، میرا رب پاک ہے اور ہر طرح کی حمد اسی کے لیے زیبا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3593]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3593]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 22 (2731) (تحفة الأشراف: 11949) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، التعليق الرغيب (2 / 242) ، الصحيحة (1498)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6926
| أحب الكلام إلى الله سبحان الله وبحمده |
صحيح مسلم |
6925
| ما اصطفى الله لملائكته أو لعباده سبحان الله وبحمده |
جامع الترمذي |
3593
| ما اصطفى الله لملائكته سبحان ربي وبحمده |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3593 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3593
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
میرا رب پاک ہے اور تعریف ہے اسی کے لیے،
میرا رب پاک ہے اور ہر طرح کی حمد اسی کے لیے زیبا ہے۔
وضاحت:
1؎:
میرا رب پاک ہے اور تعریف ہے اسی کے لیے،
میرا رب پاک ہے اور ہر طرح کی حمد اسی کے لیے زیبا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3593]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6926
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" کیا میں تمھیں یہ نہ بتاؤں، اللہ کوکون سا کلام محبوب ہے؟"میں نے کہا:"اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے خبر دیجیے اللہ کوکون سا کلام محبوب ہے۔ آپ نے فرمایا:"اللہ کو سب سے زیادہ محبوب کلام سبحان اللہ وبحمدہ " ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6926]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
سبحان الله وبحمده کا معنی ہے،
اللہ ہر اس بات سے اور عمل سے منزہ اور پاک ہے،
جو اس کے شایان شان نہیں ہے اور جس میں ذرا بھی قصور یا عیب و نقص کا شائبہ ہے اور اس کے ساتھ ان تمام صفات کمال سے متصف ہے،
جواس کی ذات عالی کے مناسب ہیں،
اس طرح یہ مختصر کلمہ ان تمام صفات پر حاوی ہیں،
جو سلبی یا ایجابی طور پر،
اس کی صفت و ثناء میں کہی جاسکتی ہیں اور اس لیے یہ بول سب سے افضل بھی اور اللہ کو محبوب ترین بھی ہے۔
فوائد ومسائل:
سبحان الله وبحمده کا معنی ہے،
اللہ ہر اس بات سے اور عمل سے منزہ اور پاک ہے،
جو اس کے شایان شان نہیں ہے اور جس میں ذرا بھی قصور یا عیب و نقص کا شائبہ ہے اور اس کے ساتھ ان تمام صفات کمال سے متصف ہے،
جواس کی ذات عالی کے مناسب ہیں،
اس طرح یہ مختصر کلمہ ان تمام صفات پر حاوی ہیں،
جو سلبی یا ایجابی طور پر،
اس کی صفت و ثناء میں کہی جاسکتی ہیں اور اس لیے یہ بول سب سے افضل بھی اور اللہ کو محبوب ترین بھی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6926]
عبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري