🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب ما جاء أن الأذنين من الرأس
باب: وضو میں دونوں کانوں کے سر میں داخل ہونے کا بیان​۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 37
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: " تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَقَالَ: الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: قَالَ قُتَيْبَةُ: قَالَ حَمَّادٌ: لَا أَدْرِي هَذَا مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مِنْ قَوْلِ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ. قال أبو عيسى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ الْقَائِمِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنَّ الْأُذُنَيْنِ مِنَ الرَّأْسِ، وَبِهِ يَقُولُ: سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , وَابْنُ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيُّ , وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: مَا أَقْبَلَ مِنَ الْأُذُنَيْنِ فَمِنَ الْوَجْهِ وَمَا أَدْبَرَ فَمِنَ الرَّأْسِ , قَالَ إِسْحَاق: وَأَخْتَارُ أَنْ يَمْسَحَ مُقَدَّمَهُمَا مَعَ الْوَجْهِ وَمُؤَخَّرَهُمَا مَعَ رَأْسِهِ , وقَالَ الشَّافِعِيُّ: هُمَا سُنَّةٌ عَلَى حِيَالِهِمَا يَمْسَحُهُمَا بِمَاءٍ جَدِيدٍ.
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا تو اپنا چہرہ تین بار دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا اور فرمایا: دونوں کان سر میں داخل ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- قتیبہ کا کہنا ہے کہ حماد کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا قول ہے یا ابوامامہ کا،
۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۳- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے،
۴- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور اسی کے قائل سفیان ثوری، ابن مبارک اور اسحاق بن راہویہ ہیں ۱؎ اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ کان کے سامنے کا حصہ چہرہ میں سے ہے (اس لیے اسے دھویا جائے) اور پیچھے کا حصہ سر میں سے ہے ۲؎۔ (اس لیے مسح کیا جائے) اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ کان کے سامنے کے حصہ کا مسح چہرہ کے ساتھ کرے (یعنی چہرہ کے ساتھ دھوئے) اور پچھلے حصہ کا سر کے ساتھ ۳؎، شافعی کہتے ہیں کہ دونوں الگ الگ سنت ہیں (اس لیے) دونوں کا مسح نئے پانی سے کرے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 37]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الطہارة 50 (134) سنن ابن ماجہ/الطہارة 53 (444) (تحفة الأشراف: 4887) مسند احمد (5/258، 268) (صحیح) (سند میں دو راوی ”سنان“ اور ”شہر“ ضعیف ہیں، لیکن دیگر احادیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہی قول راجح ہے۔
۲؎: یہ شعبی اور حسن بن صالح اور ان کے اتباع کا مذہب ہے۔
۳؎: امام ترمذی نے یہاں صرف تین مذاہب کا ذکر کیا ہے، ان تینوں کے علاوہ اور بھی مذاہب ہیں، انہیں میں سے ایک مذہب یہ ہے کہ دونوں کان چہرے میں سے ہیں، لہٰذا یہ چہرے کے ساتھ دھوئے جائیں گے، اسی طرف امام زہری اور داود ظاہری گئے ہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ انہیں چہرے کے ساتھ دھویا جائے اور سر کے ساتھ ان کا مسح کیا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (444)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامةصحابي
👤←👥شهر بن حوشب الأشعري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو الجعد
Newشهر بن حوشب الأشعري ← صدي بن عجلان الباهلي
صدوق كثير الإرسال والأوهام
👤←👥سنان بن ربيعة الباهلي، أبو ربيعة
Newسنان بن ربيعة الباهلي ← شهر بن حوشب الأشعري
صدوق فيه لين
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← سنان بن ربيعة الباهلي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
37
توضأ النبي فغسل وجهه ثلاثا ويديه ثلاثا ومسح برأسه الأذنان من الرأس
سنن ابن ماجه
444
الأذنان من الرأس كان يمسح رأسه مرة كان يمسح المأقين
سنن أبي داود
134
يمسح المأقين الأذنان من الرأس
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 37 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 37
اردو حاشہ:
1؎:
یہی قول راجح ہے۔

2؎:
یہ شعبی اور حسن بن صالح اور ان کے اتباع کا مذہب ہے۔

3؎:
امام ترمذی نے یہاں صرف تین مذاہب کا ذکر کیا ہے،
ان تینوں کے علاوہ اور بھی مذاہب ہیں،
انہیں میں سے ایک مذہب یہ ہے کہ دونوں کان چہرے میں سے ہیں،
لہذا یہ چہرے کے ساتھ دھوئے جائیں گے،
اسی طرف امام زہری اور داود ظاہری گئے ہیں،
اور ایک قول یہ ہے کہ انہیں چہرے کے ساتھ دھویا جائے اور سر کے ساتھ ان کا مسح کیا جائے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 37]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 134
وضو میں آنکھوں کےکنارے
«. . . عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَذَكَرَ وُضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْمَأْقَيْنِ، قَالَ: وَقَالَ: الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ . . .»
. . . ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو (کی کیفیت) کا ذکر کیا اور فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناک کے قریب دونوں آنکھوں کے کناروں کا مسح فرماتے تھے، ابوامامہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں کان سر میں داخل ہیں . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 134]
فوائد و مسائل:
آنکھوں کے کنارے جلدی تہوں کے باعث خشک رہ سکتے ہیں اس لیے ان کو مسلنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ یہ روایت شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک «مسح المأقين» آنکھوں کے کویوں کے اضافے کے بغیر صحیح ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 134]