🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. باب فضل أزواج النبي صلى الله عليه وسلم
باب: امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3891
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكَانَ ثِقَةً , عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ: مَاتَتْ فُلَانَةُ لِبَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَجَدَ، فَقِيلَ لَهُ: أَتَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا "، فَأَيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عکرمہ کہتے ہیں کہ فجر کے بعد ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے فلاں کا انتقال ہو گیا، تو وہ سجدہ میں گر گئے، ان سے پوچھا گیا: کیا یہ سجدہ کرنے کا وقت ہے؟ تو انہوں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: جب تم اللہ کی طرف سے کوئی خوفناک بات دیکھو تو سجدہ کرو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج کے دنیا سے رخصت ہونے سے بڑی اور کون سی ہو سکتی ہے؟ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 269 (1197) (تحفة الأشراف: 6037) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث یا دیگر احادیث میں اس جیسے سیاق و سباق میں «آیۃ» کا لفظ بطور خوفناک عذاب یا آسمانی مصیبت وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جس سے مقصود بندوں کو ڈرانا ہوتا ہے، تو ازواج مطہرات دنیا میں برکت کا سبب تھیں، ان کے اٹھ جانے سے برکت اٹھ جاتی ہے، اور یہ بات خوفناک ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن، صحيح أبي داود (1081) ، المشكاة (1491)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥الحكم بن أبان العدني، أبو عيسى
Newالحكم بن أبان العدني ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة
👤←👥سلم بن جعفر البكراوي، أبو جعفر
Newسلم بن جعفر البكراوي ← الحكم بن أبان العدني
ثقة
👤←👥يحيى بن كثير العنبري، أبو غسان
Newيحيى بن كثير العنبري ← سلم بن جعفر البكراوي
ثقة
👤←👥العباس بن عبد العظيم العنبري، أبو الفضل
Newالعباس بن عبد العظيم العنبري ← يحيى بن كثير العنبري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3891
إذا رأيتم آية فاسجدوا
سنن أبي داود
1197
إذا رأيتم آية فاسجدوا
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3891 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3891
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث یا دیگراحادیث میں اس جیسے سیاق وسباق میں آیۃ کا لفظ بطورخوفناک عذاب یا آسمانی مصیبت وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے،
جس سے مقصود بندوں کو ڈرانا ہوتا ہے،
تو ازواج مطہرات دنیامیں برکت کا سبب تھیں،
ان کے اٹھ جانے سے برکت اٹھ جاتی ہے،
اور یہ بات خوفناک ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3891]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1197
نشانیوں اور حادثات کے ظہور کے وقت سجدہ کرنے کا بیان۔
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فلاں بیوی کا انتقال ہو گیا ہے، تو وہ یہ سن کر سجدے میں گر پڑے، ان سے کہا گیا: کیا اس وقت آپ سجدہ کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم کوئی نشانی (یعنی بڑا حادثہ) دیکھو تو سجدہ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی موت سے بڑھ کر کون سی نشانی ہو سکتی ہے؟۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1197]
1197۔ اردو حاشیہ:
کسی گھرانے یا معاشرے کا اپنے نیک اور صالح افراد سے محروم ہو جانا بہت بڑی آفت ہے، مگر کم ہی لوگوں کو اس کا احساس ہوتا ہے، بہرحال واجب ہے کہ ہر حال میں اللہ عزوجل کی طرف رجوع کیا جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1197]