🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
182. باب ما جاء في القنوت في صلاة الفجر
باب: نماز فجر میں قنوت پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 401
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ , وَأَنَسٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَخُفَافِ بْنِ أَيْمَاءَ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقُنُوتِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمُ الْقُنُوتَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ , وَالشَّافِعِيِّ، وقَالَ أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق: لَا يُقْنَتُ فِي الْفَجْرِ إِلَّا عِنْدَ نَازِلَةٍ تَنْزِلُ بِالْمُسْلِمِينَ، فَإِذَا نَزَلَتْ نَازِلَةٌ فَلِلْإِمَامِ أَنْ يَدْعُوَ لِجُيُوشِ الْمُسْلِمِينَ.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم فجر اور مغرب میں قنوت پڑھتے تھے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- براء کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، انس، ابوہریرہ، ابن عباس، اور خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- فجر میں قنوت پڑھنے کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کی رائے فجر میں قنوت پڑھنے کی ہے، یہی مالک اور شافعی کا قول ہے،
۴- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ فجر میں قنوت نہ پڑھے، الا یہ کہ مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہوئی ہو تو ایسی صورت میں امام کو چاہیئے کہ مسلمانوں کے لشکر کے لیے دعا کرے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 401]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 54 (678)، سنن ابی داود/ الصلاة 345 (1441)، سنن النسائی/التطبیق 29 (1077)، (تحفة الأشراف: 1782)، مسند احمد (4/299)، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1638) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے شوافع نے فجر میں قنوت پڑھنا ثابت کیا ہے اور برابر پڑھتے ہیں، لیکن اس میں تو مغرب کا تذکرہ بھی ہے، اس میں کیوں نہیں پڑھتے؟ دراصل یہاں قنوت سے مراد قنوت نازلہ ہے جو بوقت مصیبت پڑھی جاتی ہے (اس سے مراد وتر والی قنوت نہیں ہے) رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم بوقت مصیبت خاص طور پر فجر میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے تھے، بلکہ بقیہ نمازوں میں بھی پڑھتے تھے، اور جب ضرورت ختم ہو جاتی تھی تو چھوڑ دیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمروصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري، أبو عيسى
Newعبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة ثبت
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← محمد بن المثنى العنزي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1556
قنت رسول الله في الفجر والمغرب
صحيح مسلم
1555
يقنت في الصبح والمغرب
جامع الترمذي
401
يقنت في صلاة الصبح والمغرب
سنن أبي داود
1441
يقنت في صلاة الصبح
سنن النسائى الصغرى
1077
يقنت في الصبح والمغرب
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 401 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 401
اردو حاشہ:
1؎:
اس حدیث سے شوافع نے فجر میں قنوت پڑھنا ثابت کیا ہے اور برابر پڑھتے ہیں،
لیکن اس میں تو مغرب کا تذکرہ بھی ہے،
اس میں کیوں نہیں پڑھتے؟ در اصل یہاں قنوت سے مراد قنوت نازلہ ہے جو بوقت مصیبت پڑھی جاتی ہے (اس سے مراد وتر والی قنوت نہیں ہے) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بوقت مصیبت خاص طور پر فجرمیں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے تھے،
بلکہ بقیہ نمازوں میں بھی پڑھتے تھے،
اور جب ضرورت ختم ہو جاتی تھی تو چھوڑ دیتے تھے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 401]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1077
نماز مغرب میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں اور مغرب میں دعائے قنوت پڑھتے تھے۔ عبیداللہ بن سعید کی روایت میں «أن النبي صلى اللہ عليه وسلم» کے بجائے «أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1077]
1077۔ اردو حاشیہ: صحیح بات یہ ہے کہ یہ قنوت نازلہ تھی جو آپ نے مختلف نمازوں میں ضرورت کے وقت کی ہے مگر بعض حضرات نے اسے قنوت نازلہ کی بجائے صبح اور مغرب کی قنوت لازمہ قرار دیا ہے، یعنی ان دو نمازوں میں آپ ہمیشہ قنوت فرماتے تھے۔ مگر مغرب کی قنوت کے ترک پر تو اتفاق و اجماع امت ہے۔ کوئی محدث یا فقیہ بھی قنوت نازلہ کے علاوہ مغرب کی قنوت کا قائل نہیں، البتہ امام شافعی اور بعض محدثین (ہمیشہ) فجر کی قنوت کے قائل ہیں۔ اس روایت کو دیکھیں تو دونوں نمازیں برابر ہیں۔ اگر مغرب میں منسوخ ہے تو فجر میں کیوں منسوخ نہیں؟ اور یہی صحیح بات ہے کہ قنوت نازلہ تو باقی ہے مگر قتنوت فرض (فجر اور مغرب کی قنوت) باقی نہیں ہے۔ جس روایت سے صبح کی نماز میں قنوت ثابت ہوتی ہے، اسے قنوت نازلہ پر محمول کیا جائے گا، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخر زندگی تک صبح کی نماز میں بوقت ضرورت قنوت نازلہ کرتے تھے۔ اس طرح سب احادیث میں تطبیق ہو جائے گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1077]