سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
205. باب منه آخر
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 426
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ الْمَرْوَزِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا لَمْ يُصَلِّ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ صَلَّاهُنَّ بَعْدَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَاهُ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ نَحْوَ هَذَا وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ، عَنْ شُعْبَةَ غَيْرَ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ظہر سے پہلے چار رکعتیں نہ پڑھ پاتے تو انہیں آپ اس کے بعد پڑھتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ہم اسے ابن مبارک کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور اسے قیس بن ربیع نے شعبہ سے اور شعبہ نے خالد الحذاء سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ہم قیس بن ربیع کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے جس نے شعبہ سے روایت کی ہو،
۳- بطریق: «عبدالرحمٰن بن أبي ليلى عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی اسی طرح (مرسلاً) مروی ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 426]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ہم اسے ابن مبارک کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور اسے قیس بن ربیع نے شعبہ سے اور شعبہ نے خالد الحذاء سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ہم قیس بن ربیع کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے جس نے شعبہ سے روایت کی ہو،
۳- بطریق: «عبدالرحمٰن بن أبي ليلى عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی اسی طرح (مرسلاً) مروی ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 106 (1158)، (تحفة الأشراف: 16208) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سنتوں کے اہتمام کا پتہ چلتا ہے، اس لیے ہمیں بھی ان سنتوں کے ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیئے، اگر ہم پہلے ادا نہ کر سکیں تو فرض نماز کے بعد انہیں ادا کر لیا کریں، لیکن یہ قضاء فرض نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (1158)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله | ثقة | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← خالد الحذاء | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥قيس بن الربيع الأسدي، أبو محمد قيس بن الربيع الأسدي ← شعبة بن الحجاج العتكي | صدوق تغير لما كبر وأدخل عليه ابنه ما ليس من حديثه | |
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله عائشة بنت أبي بكر الصديق ← قيس بن الربيع الأسدي | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن شقيق العقيلي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن، أبو عامر عبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فيه نصب | |
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله خالد الحذاء ← عبد الله بن شقيق العقيلي | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← خالد الحذاء | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥عبد الوارث بن عبيد الله العتكي عبد الوارث بن عبيد الله العتكي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
426
| إذا لم يصل أربعا قبل الظهر صلاهن بعده |
سنن ابن ماجه |
1158
| إذا فاتته الأربع قبل الظهر صلاها بعد الركعتين بعد الظهر |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 426 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 426
اردو حاشہ: 1؎:
اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاان سنتوں کے اہتمام کاپتہ چلتاہے،
اس لیے ہمیں بھی ان سنتوں کے ادائیگی کااہتمام کرنا چاہئے،
اگرہم پہلے ادانہ کرسکیں توفرض صلاۃ کے بعدانہیں اداکرلیاکریں،
لیکن یہ قضافرض نہیں ہے۔
اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاان سنتوں کے اہتمام کاپتہ چلتاہے،
اس لیے ہمیں بھی ان سنتوں کے ادائیگی کااہتمام کرنا چاہئے،
اگرہم پہلے ادانہ کرسکیں توفرض صلاۃ کے بعدانہیں اداکرلیاکریں،
لیکن یہ قضافرض نہیں ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 426]
شعبة بن الحجاج العتكي ← خالد الحذاء