Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب ما جاء في الوتر من أول الليل وآخره
باب: رات کے ابتدائی اور آخری دونوں حصوں میں وتر پڑھا جا سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 456
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ أَوَّلَهُ وَأَوْسَطَهُ وَآخِرَهُ فَانْتَهَى وِتْرُهُ حِينَ مَاتَ إِلَى السَّحَرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: أَبُو حَصِينٍ اسْمُهُ: عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ , وجَابِرٍ , وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ , وَأَبِي قَتَادَةَ،. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْوِتْرُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ.
مسروق سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا ہے۔ شروع رات میں بھی درمیان میں بھی اور آخری حصے میں بھی۔ اور جس وقت آپ کی وفات ہوئی تو آپ کا وتر سحر تک پہنچ گیا تھا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، جابر، ابومسعود انصاری اور ابوقتادہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۴- بعض اہل علم کے نزدیک یہی پسندیدہ ہے کہ وتر رات کے آخری حصہ میں پڑھی جائے ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب الوتر​/حدیث: 456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوتر 2 (992)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (745)، سنن ابی داود/ الصلاة 343 (1435)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 121 (1186)، (تحفة الأشراف: 17653)، مسند احمد (6/46، 10، 107، 129، 204، 205)، سنن الدارمی/الصلاة 211 (1628) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ان دونوں حدیثوں اور اس باب میں مروی دیگر حدیثوں کا ماحصل یہ ہے کہ یہ آدمی پر منحصر ہے، وہ جب آخری پہر رات میں اٹھنے کا یقین کامل رکھتا ہو تو عشاء کے بعد یا سونے سے پہلے ہی وتر نہ پڑھے بلکہ آخری رات میں پڑھے، اور اگر اس طرح کا یقین نہ ہو تو عشاء کے بعد سونے سے پہلے ہی پڑھ لے، اس مسئلہ میں ہر طرح کی گنجائش ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1185)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥يحيى بن وثاب الأسدي
Newيحيى بن وثاب الأسدي ← مسروق بن الأجدع الهمداني
ثقة
👤←👥عثمان بن عاصم الأسدي، أبو الحصين
Newعثمان بن عاصم الأسدي ← يحيى بن وثاب الأسدي
ثقة ثبت سنى
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر
Newأبو بكر بن عياش الأسدي ← عثمان بن عاصم الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أحمد بن منيع البغوي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newأحمد بن منيع البغوي ← أبو بكر بن عياش الأسدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
996
أوتر رسول الله وانتهى وتره إلى السحر
صحيح مسلم
1736
من كل الليل قد أوتر رسول الله فانتهى وتره إلى السحر
صحيح مسلم
1737
من كل الليل قد أوتر رسول الله من أول الليل وأوسطه وآخره فانتهى وتره إلى السحر
صحيح مسلم
1738
أوتر رسول الله فانتهى وتره إلى آخر الليل
جامع الترمذي
456
من كل الليل قد أوتر أوله وأوسطه وآخره فانتهى وتره حين مات إلى السحر
جامع الترمذي
2924
ربما أوتر من أول الليل وربما أوتر من آخره ربما أسر وربما جهر
سنن أبي داود
1437
أوتر أول الليل وربما أوتر من آخره ربما أسر وربما جهر وربما اغتسل فنام وربما توضأ فنام
سنن أبي داود
1435
أوتر أول الليل ووسطه وآخره ولكن انتهى وتره حين مات إلى السحر
سنن النسائى الصغرى
1682
أوتر رسول الله من أوله وآخره وأوسطه وانتهى وتره إلى السحر
سنن ابن ماجه
1185
من كل الليل قد أوتر من أوله وأوسطه وانتهى وتره حين مات في السحر
بلوغ المرام
300
من كل الليل قد اوتر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وانتهى وتره إلى السحر
مسندالحميدي
188
من كل الليل قد أوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم فانتهى وتره إلى السحر
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 456 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 456
اردو حاشہ:
1؎:
ان دونوں حدیثوں اور اس باب میں مروی دیگر حدیثوں کا ماحصل یہ ہے کہ یہ آدمی پر منحصر ہے،
وہ جب آخری پہر رات میں اٹھنے کا یقین کامل رکھتا ہو تو عشاء کے بعد یا سونے سے پہلے ہی وتر نہ پڑھے بلکہ آخری رات میں پڑھے،
اور اگر اس طرح کا یقین نہ ہو تو عشاء کے بعد سونے سے پہلے ہی پڑھ لے،
اس مسئلہ میں ہر طرح کی گنجائش ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 456]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1435
وتر کے وقت کا بیان۔
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کب پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: سبھی وقتوں میں آپ نے پڑھا ہے، شروع رات میں بھی پڑھا ہے، درمیان رات میں بھی اور آخری رات میں بھی لیکن جس وقت آپ کی وفات ہوئی آپ کی وتر صبح ہو چکنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1435]
1435. اردو حاشیہ: نماز وتر کا وقت آدھی رات تک ہے۔ اور وتروں کا سحر (صبح صادق سے پہلے) تک۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1435]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 300
نفل نماز کا بیان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کی انتہا سحر تک تھی۔ دونوں روایتوں کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 300»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الوتر، باب ساعات الوتر، حديث:996، ومسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة الليل، حديث:745.»
تشریح:
1. اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر رات کے شروع‘ درمیان اور آخری حصے میں بھی پڑھے ہیں۔
2. وتروں کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے شروع ہو کر طلوع فجر تک رہتا ہے۔
جو لوگ نماز تہجد کے عادی ہوں انھیں وتر رات کے آخری حصے میں پڑھنے چاہییں اور جو سحری کے وقت اٹھ نہ سکتے ہوں وہ نماز عشاء کے بعد پڑھیں۔
3.کسی مجبوری اور عذر کی وجہ سے اگر وقت پر وتر نہ پڑھے جا سکیں تو فجر کی جماعت کھڑی ہونے تک انھیں پڑھ لے۔
ہاں‘ اگر سو جائے یا اسے یاد ہی نہ رہے تو جس وقت بیدار ہو یا جس وقت یاد آئے، پڑھ لے کیونکہ مکروہ اوقات میں قضا شدہ نماز کی قضا ادا کرنا جائز ہے۔
ایک دوسری رائے اس سلسلے میں یہ ہے کہ اگر وتر اپنے وقت پر نہ پڑھے جا سکیں تو پھر انھیں پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے‘ اس موقف کی تائید میں بھی بعض روایات آتی ہیں لیکن بعض علماء کے نزدیک یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو عمداً وتر چھوڑ دیں۔
دیکھیے: (حاشیہ ترمذي‘ أحمد محمد شاکر:۲ /۳۳۳) نیز بعض روایات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل بھی بیان ہوا ہے کہ اگر کبھی نیند یا بیماری کی وجہ سے آپ کا قیام اللیل رہ جاتا تو آپ سورج نکلنے کے بعد بارہ (۱۲) رکعت پڑھتے۔
دیکھیے: (صحیح مسلم‘ صلاۃ المسافرین‘ حدیث:۷۴۶) اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ جس کے وتر رہ جائیں تو وہ اس کی قضا جفت شکل میں دے‘ یعنی ایک وتر کی جگہ دو رکعت اور تین وتر کی جگہ چار رکعات پڑھے۔
لیکن ہمارے خیال میں ایسا اس شخص کے لیے ضروری ہو گا جو نماز تہجد کا عادی ہو ‘ عام شخص کے لیے وتروں کی قضا ادا کرنا‘ وتر ہی کی صورت میں مناسب معلوم ہوتا ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 300]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1185
رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنے کا بیان۔
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا، کبھی رات کے شروع حصے میں، کبھی درمیانی حصے میں، اور وفات کے قریبی ایام میں اپنا وتر صبح صادق کے قریب پڑھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1185]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
وتر کا وقت تہجد کے بعد ہے۔
رات کے ہر حصے میں وتر پڑھنے سے رات کے ہر حصے میں تہجد پڑھنا ثابت ہوتا ہے۔

(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غالب معمول رات کے نصف آخر میں جاگنے کا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ر ات کے پہلے حصے میں سوتے اور آخری حصے میں اُٹھ کرنماز پڑھتے تھے۔
پھر اپنے بستر پر آرام فرماتے تھے۔
جب مؤذن اذان دیتا تو جلدی سے اٹھ کھڑے ہوتے۔
۔
۔
، (صحیح البخاري، التھجد، باب من نام أول اللیل وأحیا آخرہ، حدیث: 1146)
 یہ صورت غالباً وہی ہے۔
جس کا ذکر اس حدیث مُبارک میں ہے۔
اللہ کو سب سے محبوب نماز داؤد علیہ السلام کی نماز ہے۔
اوراللہ کو سب سے محبوب روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔
و ہ نصف رات سوتے (پھر)
تہائی رات قیام فرماتے (پھر)
رات کا چھٹا حصہ سوتے تھے۔
اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہیں رکھتے تھے۔
 (صحیح البخاري، التهجد، باب من نام عند السحر، حدیث: 1131)

(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عمر میں جو معمول اختیار فرمایا وہ صبح صادق تک نماز پڑھنے کا تھا تاہم فجر کی سنتیں پڑھ کر تھوڑی دیرلیٹ جاتے تھے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1185]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:188
فائدہ:
اس حدیث میں نماز وتر کے وقت کا بیان ہے کہ نماز عشاء کے ادا کرنے سے لے کر صبح کی اذان تک رات کے کسی بھی حصے میں اس کو ادا کیا جا سکتا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 188]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1736
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھتے ہیں اور اخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وترسحری کے وقت کو پہنچ گئے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1736]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
وتر کا آخری وقت سحری کا وقت ہے اور اس سے پہلے عشاء کی نماز کے بعد جب چاہے پڑھ سکتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی سہولت کےلیے رات کے ہر حصے میں اس پر عمل فرمایا ہے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی کے آخری دور میں وتر رات کے آخری حصہ میں پڑھتےتھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1736]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 996
996. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں نماز وتر ادا کی ہے، بالآخر آپ کی نماز وتر وقت سحر تک پہنچ گئی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:996]
حدیث حاشیہ:
دوسری روایتوں میں ہے کہ آپ نے وتر اول شب میں بھی پڑھی اور درمیان شب میں بھی اور آخر شب میں بھی۔
گویا عشاءکے بعد سے صبح صادق کے پہلے تک وتر پڑھنا آپ سے ثابت ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ مختلف حالات میں آپ نے وتر مختلف اوقات میں پڑھے۔
غالباً تکلیف اور مرض وغیرہ میں اول شب میں پڑھتے تھے اور مسافرت کی حالت میں درمیان شب میں لیکن عام معمول آپ کا اسے آخر شب ہی میں پڑھنے کا تھا (تفہیم البخاری)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی آسانی کے لیے عشاء کے بعد رات میں جب بھی ممکن ہو وتر ادا کرنا جائز قرار دیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 996]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:996
996. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں نماز وتر ادا کی ہے، بالآخر آپ کی نماز وتر وقت سحر تک پہنچ گئی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:996]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف حالات کے پیش نظر مختلف اوقات میں وتر ادا کیے ہیں، شاید تکلیف اور مرض کے وقت اول شب میں، بحالت سفر درمیان شب میں جبکہ عام معمول آخر شب میں پڑھنے کا تھا۔
حضرت عائشہ ؓ کی ایک روایت میں مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ ؓ نے رات کے ہر حصے، یعنی اول شب، درمیان رات اور آخر شب میں وتر ادا کیے ہیں لیکن آخر کار ان کی ادائیگی وقت سحر تک پہنچ گئی۔
جامع الترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ جب آپ فوت ہوئے تو آخر شب نماز وتر پڑھا کرتے تھے۔
(جامع الترمذي، الوتر، حدیث: 456)
آخر شب سے مراد فجر اول ہے۔
جیسا کہ صحیح ابن خزیمہ کی ایک روایت سے واضح ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 2/628،627)
البتہ امت کی آسانی کے پیش نظر عشاء کے بعد جب بھی ممکن ہو وتر ادا کرنا جائز قرار دیا۔
(2)
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ شرح تراجم بخاری میں لکھتے ہیں:
حدیث عائشہ کے دو معنی ہیں:
٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عمر میں نماز وتر سحری کے وقت پڑھتے اور اسی پر آپ نے دوام کیا تاآنکہ آپ فوت ہو گئے، قبل ازیں نماز وتر عشاء کے بعد رات کے تمام حصوں میں پڑھنے کا معمول تھا۔
٭ دوسری توجیہ یہ ہے کہ اوقات وتر کی آخری حد سحری تک ہے، اس سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 996]