🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب ما جاء في صلاة التسبيح
باب: صلاۃ التسبیح کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 482
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ الْعُكْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: " يَا عَمِّ أَلَا أَصِلُكَ أَلَا أَحْبُوكَ أَلَا أَنْفَعُكَ " قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " يَا عَمِّ صَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، فَإِذَا انْقَضَتِ الْقِرَاءَةُ فَقُلْ: اللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً قَبْلَ أَنْ تَرْكَعَ، ثُمَّ ارْكَعْ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا ثُمَّ اسْجُدْ فَقُلْهَا عَشْرًا ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ اسْجُدِ الثَّانِيَةَ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا قَبْلَ أَنْ تَقُومَ، فَتِلْكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ هِيَ ثَلَاثُ مِائَةٍ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكَ مِثْلَ رَمْلِ عَالِجٍ لَغَفَرَهَا اللَّهُ لَكَ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُولَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ، قَالَ: " فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَقُولَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ فَقُلْهَا فِي جُمْعَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَقُولَهَا فِي جُمُعَةٍ فَقُلْهَا فِي شَهْرٍ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ لَهُ حَتَّى قَالَ: فَقُلْهَا فِي سَنَةٍ " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي رَافِعٍ.
ابورافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے چچا) عباس رضی الله عنہ سے فرمایا: اے چچا! کیا میں آپ کے ساتھ صلہ رحمی نہ کروں، کیا میں آپ کو نہ دوں؟ کیا میں آپ کو نفع نہ پہنچاؤں؟ وہ بولے: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ چار رکعت نماز پڑھیں، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھیں، جب قرأت پوری ہو جائے تو «اللہ اکبر»، «الحمد للہ»، «سبحان اللہ»، «لا إلہ إلا اللہ» پندرہ مرتبہ رکوع کرنے سے پہلے کہیں، پھر رکوع میں جائیں تو دس مرتبہ یہی کلمات رکوع میں کہیں، پھر اپنا سر اٹھائیں اور یہی کلمات دس مرتبہ رکوع سے کھڑے ہو کر کہیں۔ پھر سجدے میں جائیں تو یہی کلمات دس مرتبہ کہیں، پھر سر اٹھائیں تو دس مرتبہ یہی کلمات کہیں۔ پھر دوسرے سجدے میں جائیں تو دس مرتبہ یہی کلمات کہیں، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھائیں تو کھڑے ہونے سے پہلے دس مرتبہ یہی کلمات کہیں۔ اسی طرح ہر رکعت میں کہیں، یہ کل ۷۵ کلمات ہوئے اور چاروں رکعتوں میں تین سو کلمات ہوئے۔ تو اگر آپ کے گناہ بہت زیادہ ریت والے بادلوں کے برابر بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے گا۔ تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! روزانہ یہ کلمات کہنے کی قدرت کس میں ہے؟ آپ نے فرمایا: آپ روزانہ یہ کلمات نہیں کہہ سکتے تو ہر جمعہ کو کہیں اور اگر ہر جمعہ کو بھی نہیں کہہ سکتے تو ہر ماہ میں کہیں، وہ برابر یہی بات کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: تو ایک سال میں آپ اسے کہہ لیں ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث ابورافع رضی الله عنہ کی روایت سے غریب ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب الوتر​/حدیث: 482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة190 (1386)، (تحفة الأشراف: 12015) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ اگر آپ سال بھر میں بھی ایک بار صلاۃ التسبیح نہ پڑھ سکتے ہوں تو پھر زندگی میں ایک بار ہی سہی، عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے مروی بعض احادیث میں ذکر ہے کہ یہ صلاۃ التسبیح سورج ڈھلنے کے بعد پڑھی جائے، اولیٰ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1386)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو رافع القبطي، أبو رافعصحابي
👤←👥سعيد بن أبي سعيد الأنصاري
Newسعيد بن أبي سعيد الأنصاري ← أبو رافع القبطي
مجهول
👤←👥موسى بن عبيدة الربذي، أبو عبد العزيز
Newموسى بن عبيدة الربذي ← سعيد بن أبي سعيد الأنصاري
منكر الحديث
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين
Newزيد بن الحباب التميمي ← موسى بن عبيدة الربذي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← زيد بن الحباب التميمي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
482
صل أربع ركعات تقرأ في كل ركعة بفاتحة الكتاب وسورة فإذا انقضت القراءة فقل الله أكبر والحمد لله وسبحان الله ولا إله إلا الله خمس عشرة مرة قبل أن تركع ثم اركع فقلها عشرا ثم ارفع رأسك فقلها عشرا ثم اسجد فقلها عشرا ثم ارفع رأسك فقلها عشرا ثم اسجد الثانية
سنن ابن ماجه
1386
تصلي أربع ركعات تقرأ في كل ركعة بفاتحة الكتاب وسورة فإذا انقضت القراءة فقل سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر خمس عشرة مرة قبل أن تركع ثم اركع فقلها عشرا ثم ارفع رأسك فقلها عشرا ثم اسجد فقلها عشرا ثم ارفع رأسك فقلها عشرا ثم اسجد فقلها عشر
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 482 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 482
اردو حاشہ: 1 ؎:
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ اگر آپ سال بھر میں بھی ایک بار صلاۃ التسبیح نہ پڑھ سکتے ہوں تو پھر زندگی میں ایک بار ہی سہی،
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی بعض احادیث میں ذکر ہے کہ یہ صلاۃ التسبیح سورج ڈھلنے کے بعد پڑھی جائے،
اولی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 482]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1386
صلاۃ التسبیح کا بیان۔
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میرے چچا! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں؟ کیا میں آپ کو فائدہ نہ پہنچاؤں؟ کیا میں آپ سے صلہ رحمی نہ کروں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ چار رکعت پڑھیے، اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی سورۃ ملا کر پڑھیے، جب قراءت ختم ہو جائے تو «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» پندرہ مرتبہ رکوع سے پہلے پڑھیے، پھر رکوع کیجئیے اور انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پھر اپنا سر اٹھائیے اور انہیں کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1386]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالیٰ کی وسیع اور بے کراں رحمت کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ ا س نے بعض آسان اور بظاہر معمولی اعمال کا ثواب بہت زیادہ رکھ دیا ہے۔
لہٰذا اس قسم کے اعمال پر توجہ دے کر ہمیں اللہ کی رحمت سے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنی چاہیے۔

(2)
اگر کوئی نیکی کثرت سے نہ ہوسکے تو کبھی کبھار جب ہوسکے اسے انجام دینا چاہیے۔
یہ سوچ کر چھوڑ نہیں دینی چاہیے۔
کہ ہم سے اس پر پابندی کے ساتھ عمل نہیں ہوسکتا۔

(3)
اللہ کی تسبیح وتقدیس اور حمد وتعریف کے کلمات اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ پسند ہیں۔
لہذا عام اذکار میں بھی ان کو اہمیت دینی چاہیے۔
مثلاً (سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْم)
کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ کلمات زبان پر ہلکے ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں۔
اور قیامت کے دن اعمال کے ترازو میں ان کا وزن بہت زیادہ ہوگا۔
دیکھئے: (صحیح البخاری کی آخری حدیث)
نماز تسبیح میں بھی تسبیح حمد توحید اور تکبیر کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے۔
اس لئے یہ نماز اس قدر عظیم ثواب کی حامل ہے۔

(4)
نیکی کی تلقین کرنے کے لئے ایسا انداز اختیار کرنا چاہیے۔
جس سے سامعین کے دل میں اس نیکی کا شوق پیدا ہوجائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1386]