یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب ما جاء في كراهية رفع الأيدي على المنبر
باب: منبر پر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 515
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيَّ، وَبِشْرُ بْنُ مَرْوَانَ يَخْطُبُ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ، فَقَالَ عُمَارَةُ: " قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيُدَيَّتَيْنِ الْقُصَيَّرَتَيْنِ، لَقَدْ رأَيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَأَشَارَ هُشَيْمٌ بِالسَّبَابةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
حصین کہتے ہیں کہ بشر بن مروان خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے دعا ۱؎ کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، تو میں نے عمارہ بن رویبہ کو کہتے سنا: اللہ ان دونوں چھوٹے ہاتھوں کو غارت کرے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صرف اس طرح کرتے تھے اس سے زیادہ کچھ نہیں، اور ہشیم نے اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 515]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 13 (874)، سنن ابی داود/ الصلاة 230 (1104)، سنن النسائی/الجمعة 29 (1413)، (تحفة الأشراف: 10377)، مسند احمد (4/135، 136، 261)، سنن الدارمی/الصلاة 201 (1601) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صحیح مسلم میں «فی الدعاء» کا لفظ نہیں ہے، مولف نے اسی لفظ سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ خطبہ جمعہ کی حالت میں دعا میں ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے، اور مسلم کی روایت کے مطابق حدیث کا مطلب ہے کہ خطبہ میں بہت زیادہ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے اور وہ جو صحیح بخاری میں انس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران خطبہ بارش کے لیے دعا کی اور ہاتھ اٹھایا، تو بقول بعض ائمہ یہ استسقاء (بارش کے طلب) کی دعا تھی اس لیے اٹھایا تھا، صحیح بات یہ ہے کہ عمارہ بن رویبہ نے مطلق حالت خطبہ میں ہاتھوں کو زیادہ حرکت کی بابت تنبیہ کی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (1012)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمارة بن رويبة الثقفي، أبو زهير | صحابي | |
👤←👥الحصين بن عبد الرحمن السلمي، أبو الهذيل الحصين بن عبد الرحمن السلمي ← عمارة بن رويبة الثقفي | ثقة متقن | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← الحصين بن عبد الرحمن السلمي | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥أحمد بن منيع البغوي، أبو عبد الله، أبو جعفر أحمد بن منيع البغوي ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
2016
| ما يزيد على أن يقول بيده هكذا وأشار بإصبعه المسبحة |
جامع الترمذي |
515
| ما يزيد على أن يقول هكذا وأشار بالسبابة |
سنن أبي داود |
1104
| ما يزيد على هذه يعني السبابة التي تلي الإبهام |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 515 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 515
اردو حاشہ:
1؎:
صحیح مسلم میں ((فِی الدُّعَاءِ)) کا لفظ نہیں ہے،
مؤلف نے اسی لفظ سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ خطبہ جمعہ کی حالت میں دعاء میں ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے،
اور مسلم کی روایت کے مطابق حدیث کا مطلب ہے کہ خطبہ میں بہت زیادہ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے اور وہ جو صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دورانِ خطبہ بارش کے لیے دعا کی اور ہاتھ اٹھایا،
تو بقول بعض ائمہ یہ استسقاء (بارش کے طلب) کی دعا تھی اس لیے اٹھایا تھا،
صحیح بات یہ ہے کہ عمارہ بن رویبہ نے مطلق حالت خطبہ میں ہاتھوں کو زیادہ حرکت کی بابت تنبیہ کی تھی۔
1؎:
صحیح مسلم میں ((فِی الدُّعَاءِ)) کا لفظ نہیں ہے،
مؤلف نے اسی لفظ سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ خطبہ جمعہ کی حالت میں دعاء میں ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے،
اور مسلم کی روایت کے مطابق حدیث کا مطلب ہے کہ خطبہ میں بہت زیادہ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے اور وہ جو صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دورانِ خطبہ بارش کے لیے دعا کی اور ہاتھ اٹھایا،
تو بقول بعض ائمہ یہ استسقاء (بارش کے طلب) کی دعا تھی اس لیے اٹھایا تھا،
صحیح بات یہ ہے کہ عمارہ بن رویبہ نے مطلق حالت خطبہ میں ہاتھوں کو زیادہ حرکت کی بابت تنبیہ کی تھی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 515]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1104
خطبہ میں امام کا منبر پر دونوں ہاتھ اٹھانا کیسا ہے؟
حصین بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں عمارہ بن رویبہ نے بشر بن مروان کو جمعہ کے دن (منبر پر دونوں ہاتھ اٹھا کر) دعا مانگتے ہوئے دیکھا تو عمارہ نے کہا: اللہ ان دونوں ہاتھوں کو برباد کرے۔ زائدہ کہتے ہیں کہ حصین نے کہا: مجھ سے عمارہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا ہے، آپ اس سے (یعنی شہادت کی انگلی کے ذریعہ اشارہ کرنے سے (جو انگوٹھے کے قریب ہوتی ہے) زیادہ کچھ نہ کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1104]
حصین بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں عمارہ بن رویبہ نے بشر بن مروان کو جمعہ کے دن (منبر پر دونوں ہاتھ اٹھا کر) دعا مانگتے ہوئے دیکھا تو عمارہ نے کہا: اللہ ان دونوں ہاتھوں کو برباد کرے۔ زائدہ کہتے ہیں کہ حصین نے کہا: مجھ سے عمارہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا ہے، آپ اس سے (یعنی شہادت کی انگلی کے ذریعہ اشارہ کرنے سے (جو انگوٹھے کے قریب ہوتی ہے) زیادہ کچھ نہ کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1104]
1104۔ اردو حاشیہ:
خطیب کا دوران خطبہ میں اپنے ہاتھ ہلا ہلا کر لوگوں سے خطاب کرنا خلاف سنت اور خلاف ادب جمعہ ہے۔ صرف انگشت شہادت سے اشارہ ثابت ہے۔ رہا یہ استدلال کہ اثنائے خطبہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ممنوع ہے اگرچہ بعض رواۃ اس طرف گئے ہیں۔ مگر یہ استدلال مرجوح ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استسقاء کے لئے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی تھی۔
خطیب کا دوران خطبہ میں اپنے ہاتھ ہلا ہلا کر لوگوں سے خطاب کرنا خلاف سنت اور خلاف ادب جمعہ ہے۔ صرف انگشت شہادت سے اشارہ ثابت ہے۔ رہا یہ استدلال کہ اثنائے خطبہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ممنوع ہے اگرچہ بعض رواۃ اس طرف گئے ہیں۔ مگر یہ استدلال مرجوح ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استسقاء کے لئے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی تھی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1104]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 515 in Urdu
الحصين بن عبد الرحمن السلمي ← عمارة بن رويبة الثقفي