🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
74. باب ما ذكر من التسمية عند دخول الخلاء
باب: پاخانے (بیت الخلاء) میں داخل ہوتے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 606
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ، حَدَّثَنَا خَلَّادٌ الصَّفَّارُ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَتْرُ مَا بَيْنَ أَعْيُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِي آدَمَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُهُمُ الْخَلَاءَ أَنْ يَقُولَ: بِسْمِ اللَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْيَاءُ فِي هَذَا.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنوں کی آنکھوں اور انسان کی شرمگاہوں کے درمیان کا پردہ یہ ہے کہ جب ان میں سے کوئی پاخانہ جائے تو وہ بسم اللہ کہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور اس کی سند قوی نہیں ہے،
۲- اس سلسلہ کی بہت سی چیزیں انس رضی الله عنہ کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الطہارة 131 (355)، سنن النسائی/الطہارة 126 (188)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 9 (297)، (تحفة الأشراف: 11100)، مسند احمد (5/61) (صحیح) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے تین راوی: ابواسحاق، حکم بن عبداللہ، اور محمد بن حمید رازی میں کلام ہے، دیکھیے الإروائ: 50)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (297)
قال الشيخ زبير على زئي:(606) إسناده ضعيف / جه 297
أبوإسحاق عنعن (تقدم : 107) وللحديث شواھد كلھا ضعيفة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥وهب بن وهب السوائي، أبو جحيفة
Newوهب بن وهب السوائي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
صحابي
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← وهب بن وهب السوائي
ثقة مكثر
👤←👥الحكم بن عبد الله النصري
Newالحكم بن عبد الله النصري ← أبو إسحاق السبيعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥خلاد بن عيسى الصفار العبدي، أبو مسلم
Newخلاد بن عيسى الصفار العبدي ← الحكم بن عبد الله النصري
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحكم بن بشير النهدي، أبو محمد
Newالحكم بن بشير النهدي ← خلاد بن عيسى الصفار العبدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن حميد التميمي، أبو عبد الله
Newمحمد بن حميد التميمي ← الحكم بن بشير النهدي
متروك الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
606
ستر ما بين أعين الجن وعورات بني آدم إذا دخل أحدهم الخلاء أن يقول بسم الله
سنن ابن ماجه
297
ستر ما بين الجن وعورات بني آدم إذا دخل الكنيف أن يقول بسم الله
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 606 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 606
اردو حاشہ:
نوٹ:
(شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے،
ورنہ اس کے تین راوی:
ابو اسحاق،
حکم بن عبداللہ،
اور محمد بن حمید رازی میں کلام ہے،
دیکھیے الإرواء: 50)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 606]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث297
قضائے حاجت کے وقت کیا دعا پڑھے؟
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنوں اور بنی آدم (انسانوں) کی شرمگاہوں کے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو «بسم اللہ» کہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 297]
اردو حاشہ:
(1)
اس روایت کی صحت وضعف میں اختلاف ہے۔
ہمارے فاضل محقق شیخ علی زئی اور سنن ابن ماجہ کے ایک دوسرے معروف ڈاکٹر بشار عواد کے نزدیک یہ ضعیف اور احمد شاکرمصری اور شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک صحیح ہے۔ (سنن ابن ماجہ بہ تحقیق الدکتوربشار عواد)

(2)
مذکورہ بالا دعا کے ساتھ بِسْمِ اللہ بھی کہنا چاہیے یا پہلے بِسْمِ اللہ کہہ کر دعا پڑھ لے،
(3)
جن ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔
ان کے شر سے بچاؤ کے لیے ہم وہ طریقے اختیار نہیں کرسکتے جو برے انسانوں کے شر سے بچاؤ کے لیے اختیار کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالی نے ہمیں ان کی شرارتوں سے بچاؤ کے لیے یہ روحانی ذرائع دیے ہیں۔
ان سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

(4)
بسم اللہ کہنے سے جن انسان کے اعضائے مستورہ کو نہیں دیکھ سکتے۔
جس طرح انسانوں کی نظروں سے بچنے لے لیے بہت الخلاء میں داخل ہونے کی ضرورت  ہوتی ہے اسی طرح جنوں کی نظروں سے بچنے کے لیے بِسْمِ اللہ کہنا بھی ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 297]