🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب ما جاء في الخرص
باب: درخت میں موجود پھل کا تخمینہ لگانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 644
حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُسْلِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَذَّاءُ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَارِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَبْعَثُ عَلَى النَّاسِ مَنْ يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ كُرُومَهُمْ وَثِمَارَهُمْ " وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي زَكَاةِ الْكُرُومِ: " إِنَّهَا تُخْرَصُ كَمَا يُخْرَصُ النَّخْلُ ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَحَدِيثُ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ أَثْبَتُ وَأَصَحُّ.
عتاب بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس ایک آدمی بھیجتے تھے جو ان کے انگوروں اور دوسرے پھلوں کا تخمینہ لگاتا تھا۔ اسی سند سے ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کی زکاۃ کے بارے میں فرمایا: اس کا بھی تخمینہ لگایا جائے گا، جیسے کھجور کا لگایا جاتا ہے، پھر کشمش ہو جانے کے بعد اس کی زکاۃ نکالی جائے گی جیسے کھجور کی زکاۃ تمر ہو جانے کے بعد نکالی جاتی ہے۔ (یعنی جب خشک ہو جائیں)
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ابن جریج نے یہ حدیث بطریق: «ابن شهاب، عن عروة، عن عائشة» روایت کی ہے،
۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: ابن جریج کی حدیث محفوظ نہیں ہے اور ابن مسیب کی حدیث جسے انہوں نے عتاب بن اسید سے روایت کی ہے زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے (بس صرف سنداً، ورنہ ضعیف یہ بھی ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 644]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الزکاة 13 (1603)، سنن النسائی/الزکاة 100 (2619)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 18 (1891)، (تحفة الأشراف: 9748) (ضعیف) (سعید بن المسیب اور عتاب رضی الله عنہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، الإرواء (807) ، ضعيف أبي داود (280) // عندنا برقم (347 / 1603) //
قال الشيخ زبير على زئي:(644) إسناده ضعيف /د 1603 ،1604، ن 2619، جه 1819

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عتاب بن أسيد الأموي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← عتاب بن أسيد الأموي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥محمد بن صالح التمار، أبو عبد الله
Newمحمد بن صالح التمار ← محمد بن شهاب الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن نافع المخزومي، أبو محمد
Newعبد الله بن نافع المخزومي ← محمد بن صالح التمار
صدوق حسن الحديث
👤←👥مسلم بن عمرو الحذاء، أبو عمرو
Newمسلم بن عمرو الحذاء ← عبد الله بن نافع المخزومي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
644
تخرص كما يخرص النخل ثم تؤدى زكاته زبيبا كما تؤدى زكاة النخل تمرا
سنن أبي داود
1603
يخرص العنب كما يخرص النخل وتؤخذ زكاته زبيبا كما تؤخذ زكاة النخل تمرا
سنن ابن ماجه
1819
يبعث على الناس من يخرص كرومهم وثمارهم
بلوغ المرام
498
ان يخرص العنب كما يخرص النخل وتؤخذ زكاته زبيبا
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 644 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 644
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سعید بن المسیب اور عتاب رضی اللہ عنہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 644]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 498
انگوروں میں زکاۃ کا نصاب
سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ہم انگوروں کا اندازہ بھی اس طرح لگائیں جس طرح کھجوروں کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور اس کی زکوٰۃ میں کشمش وصول کی جائے۔ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 498]
فائدہ:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے اور اس پر سیر حاصل بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت شواہد کی بنا پر قابل حجت اور قابل عمل بن جاتی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [ارواء الغليل: 283، 280/3۔ حديث: 805]
علاوہ ازیں امام نووی رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ اگرچہ یہ حدیث مرسل ہے لیکن ائمہ کا فتویٰ اس کا موید ہے۔ «والله اعلم»

راوی حدیث :
حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ، عتاب پر عین پر فتحہ اور تا پر تشدید ہے۔ «اَسيد» کے ہمزہ پر فتحہ اور سین کے نیچے کسرہ ہے۔ سلسلہ نسب یوں ہے: عتاب بن اَسید بن ابوعیص بن امیہ بن عبد شمس اموی مکی۔ مشہور صحابی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے بعد حنین کی طرف جانے لگے تو انہیں مکہ پر اپنا عامل مقرر فرمایا۔ اس منصب پر عہد رسالت اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں مامور رہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کی وفات اسی روز ہوئی جس روز حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وفات پائی۔ اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری ایام تک زندہ رہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 498]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 644 in Urdu