🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب ما جاء من تحل له الزكاة
باب: زکاۃ کس کے لیے جائز ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 650
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، وَقَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَسْأَلَتُهُ فِي وَجْهِهِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ " قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُغْنِيهِ، قَالَ: " خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ مِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں سے سوال کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر دے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا سوال کرنا اس کے چہرے پر خراش ہو گی ۱؎، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کتنے مال سے وہ سوال کرنے سے بے نیاز ہو جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کی قیمت کے بقدر سونے سے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن مسعود کی حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے،
۳- شعبہ نے اسی حدیث کی وجہ سے حکیم بن جبیر پر کلام کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الزکاة 23 (1626)، سنن النسائی/الزکاة 87 (2593)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 26 (1840)، (تحفة الأشراف: 9387) (صحیح) (سند میں حکیم بن جبیر اور شریک القاضی دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن اگلی روایت میں زبید کی متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: راوی کو شک ہے کہ آپ نے «خموش» کہا یا «خدوش» یا «کدوح» سب کے معنی تقریباً خراش کے ہیں، بعض حضرات «خدوش» ، «خموش» اور «کدوح» کو مترادف قرار دے کر شک راوی پر محمول کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ زخم کے مراتب ہیں کم درجے کا زخم «کدوح» پھر «خدوش» اور پھر «خموش» ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:(650 ،651) إسناده ضعيف /د 1626، ن 2593، جه 1804

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد النخعي، أبو بكر
Newعبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحمن النخعي، أبو جعفر
Newمحمد بن عبد الرحمن النخعي ← عبد الرحمن بن يزيد النخعي
ثقة
👤←👥حكيم بن جبير الأسدي
Newحكيم بن جبير الأسدي ← محمد بن عبد الرحمن النخعي
ضعيف الحديث
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← حكيم بن جبير الأسدي
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← شريك بن عبد الله القاضي
ثقة حافظ
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← علي بن حجر السعدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
650
من سأل الناس وله ما يغنيه جاء يوم القيامة ومسألته في وجهه خموش أو خدوش أو كدوح خمسون درهما أو قيمتها من الذهب
سنن أبي داود
1626
من سأل وله ما يغنيه جاءت يوم القيامة خموش أو خدوش أو كدوح في وجهه خمسون درهما أو قيمتها من الذهب
سنن ابن ماجه
1840
من سأل وله ما يغنيه جاءت مسألته يوم القيامة خدوشا أو خموشا أو كدوحا في وجهه خمسون درهما أو قيمتها من الذهب
سنن النسائى الصغرى
2593
من سأل وله ما يغنيه جاءت خموشا أو كدوحا في وجهه يوم القيامة خمسون درهما أو حسابها من الذهب
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 650 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 650
اردو حاشہ:
1؎:
راوی کو شک ہے کہ آپ نے خموش کہا یا خدوش یا کدوح سب کے معنی تقریباً خراش کے ہیں،
بعض حضرات خدوش،
خموش اور کدوح کو مترادف قرار دے کر شک راوی پر محمول کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ زخم کے مراتب ہیں کم درجے کا زخم کدوح پھر خدوش اور پھر خموش ہے۔

نوٹ:
(سند میں حکیم بن جبیر اور شریک القاضی دونوں ضعیف راوی ہیں،
لیکن اگلی روایت میں زبید کی متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 650]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1626
زکاۃ کسے دی جائے؟ اور غنی (مالداری) کسے کہتے ہیں؟
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سوال کرے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے اس سوال سے مستغنی اور بے نیاز کرتی ہو تو قیامت کے روز اس کے چہرے پر خموش یا خدوش یا کدوح یعنی زخم ہوں گے، لوگوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! کتنے مال سے آدمی غنی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کی قیمت کے بقدر سونے ہوں۔‏‏‏‏ یحییٰ کہتے ہیں: عبداللہ بن عثمان نے سفیان سے کہا: مجھے یاد ہے کہ شعبہ حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے ۱؎ تو سفیان نے کہا: ہم سے اسے زبید نے محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1626]
1626. اردو حاشیہ:
➊ (خموش اور خدوش) کے معنی ہیں ناخنوں سے کسی لوہے وغیرہ سے چہرہ چھیلنا اور زخمی کرلینا (کدوح)کا مفہوم ہے وہ ذخم اور آثار جو چھیلنے پر نمایاں ہوں۔ اور دانتوں سے کاٹنے کو بھی (کدوح) کہتے ہیں۔
➋ شرعی حق کے بغیر سوال کرنا اتنا بڑا عیب ہے کہ انسان میدان محشر میں تمام مخلوق کے سامنے ذلیل ورسوا ہو کر حاضر ہوگا۔
➌ ایک درہم موجودہ وزن کے اعتبار سے 2975یا 306 گرام چاندی کے مساوی ہوتا ہے۔اس اعتبار سے پچاس درہم تقریبا 13 تولہ چاندی کے برابر ہوں گے۔اس کی موجودہ قیمت ہر وقت معلوم کی جاسکتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1626]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2593
مالداری کی حد کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مانگے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے مانگنے سے بے نیاز کرتی ہو، تو وہ قیامت کے دن اپنے چہرے پر خراشیں لے کر آئے گا، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کتنا مال ہو تو اسے غنی (مالدار) سمجھا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: پچاس درہم، یا اس کی قیمت کا سونا ہو۔‏‏‏‏ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: سفیان ثوری نے کہا کہ میں نے زبید سے بھی سنا ہے، وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید کے واسطہ سے (یہ حد [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2593]
اردو حاشہ:
(1) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے شواہد و متابعات کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔ بنا بریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل عمل ہے۔ واللہ أعلم۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام احمد: 6/ 194، 197 والصحیحة للألباني: 1/ 899، رقم الحدیث: 499)
(2) پچاس درہم۔ یہ تقریباً 5250 روپے کی مالیت کے برابر ہیں، لہٰذا جس شخص کی ملکیت میں اتنا مال ہو اس کے لیے لوگوں سے سوال کرنا درست نہیں۔ بعض روایات میں چالیس درہم کا ذکر ہے، یہ حالات کے مطابق ہے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2593]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1840
مالدار ہوتے ہوئے (بلا ضرورت) مانگنے پر وارد وعید کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اسے بے نیاز کرتا ہو، تو یہ سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پہ زخم کا نشان بن کر آئے گا، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کتنا مال آدمی کو بے نیاز کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کی مالیت کا سونا ۱؎۔ ایک شخص نے سفیان ثوری سے کہا: شعبہ تو حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے؟ سفیان ثوری نے کہا کہ یہ حدیث ہم سے زبید نے بھی محمد بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے روایت کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1840]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیئے:
(الموسوعة الحدیثة مسند الإمام أحمد: 6؍195، 196، 197، والصحیحة، رقم: 499)
۔

(2)
تھوڑی بہت رقم بھی موجود ہو تو سوال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

(3)
سوال سے اجتناب ضروری ہونے کے لیے صاحب نصاب ہونا شرط نہیں کیونکہ چاندی میں زکاۃ کا نصاب دو سو درہم ہے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس درہم چاندی کے مالک کو مانگنے کی اجازت نہیں دی۔

(4)
حدیث میں چاندی اور سونے کا ذکر کیا کیا ہے کیونکہ اس وقت درہم و دینار چاندی اور سونے کے ہوتے تھے۔
ایک درہم موجودہ وزن کے اعتبار سے 2.975 یا 3.06 گرام چاندی کے مساوی ہوتا ہے۔
اس اعتبار سے پچاس درہم تقریباً 13 تولے چاندی کے برابر ہوں گے۔
اس کی موجودہ قیمت ہر وقت معلوم کی جاسکتی ہے۔

(5)
بعض صورتوں میں ایک مال دار آدمی کے لیے بھی سوال کرنا جائز ہو جاتا ہے۔
ان صورتوں کا ذکر اگلے باب میں آ رہا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1840]