🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. باب ما جاء في العمرة من التنعيم
باب: (حدود حرم سے باہر) مقام تنعیم سے عمرہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 934
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُعْمِرَ عَائِشَةَ مِنَ التَّنْعِيمِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عائشہ رضی الله عنہا کو تنعیم ۱؎ سے عمرہ کرائیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 934]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العمرة 6 (1784)، والجہاد 124 (2985)، صحیح مسلم/الحج 17 (1212)، سنن ابن ماجہ/المناسک 48 (2999)، (تحفة الأشراف: 9687) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تنعیم مکہ سے باہر ایک معروف جگہ کا نام ہے جو مدینہ کی جہت میں مکہ سے چار میل کی دوری پر ہے، عمرہ کے لیے اہل مکہ کی میقات حل (حرم مکہ سے باہر کی جگہ) ہے، اور تنعیم چونکہ سب سے قریبی حِل ہے اس لیے آپ نے عائشہ رضی الله عنہا کو تنعیم سے احرام باندھنے کا حکم دیا۔ اور یہ عمرہ ان کے لیے اس عمرے کے بدلے میں تھا جو وہ حج سے قبل حیض آ جانے کی وجہ سے نہیں کر سکی تھیں، اس سے حج کے بعد عمرہ پر عمرہ کرنے کی موجودہ چلن پر دلیل نہیں پکڑی جا سکتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2999)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق، أبو عثمان، أبو محمد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عمرو بن أوس الطائي
Newعمرو بن أوس الطائي ← عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عمرو بن أوس الطائي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن أبي عمر العدني، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي عمر العدني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
👤←👥يحيى بن موسى الحداني، أبو زكريا
Newيحيى بن موسى الحداني ← محمد بن أبي عمر العدني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2985
أردف عائشة وأعمرها من التنعيم
صحيح البخاري
1784
يردف عائشة ويعمرها من التنعيم
صحيح مسلم
2936
أمره أن يردف عائشة فيعمرها من التنعيم
جامع الترمذي
934
أمر عبد الرحمن بن أبي بكر أن يعمر عائشة من التنعيم
سنن أبي داود
1995
أردف أختك عائشة فأعمرها من التنعيم فإذا هبطت بها من الأكمة فلتحرم فإنها عمرة متقبلة
مسندالحميدي
573
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمره أن يردف عائشة فيعمرها من التنعيم
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 934 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 934
اردو حاشہ: 1؎:
تنعیم مکہ سے باہرایک معروف جگہ کا نام ہے جو مدینہ کی جہت میں مکہ سے چارمیل کی دوری پر ہے،
عمرہ کے لیے اہل مکہ کی میقات حل (حرم مکہ سے باہرکی جگہ) ہے،
اورتنعیم چونکہ سب سے قریبی حِل ہے اس لیے آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کوتنعیم سے احرام باندھنے کا حکم دیا۔
اور یہ عمرہ ان کے لیے اس عمرے کے بدلے میں تھا جو وہ حج سے قبل حیض آجانے کی وجہ سے نہیں کرسکی تھیں،
اس سے حج کے بعد عمرہ پر عمرہ کرنے کی موجودہ چلن پر دلیل نہیں پکڑی جاسکتی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 934]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1995
عمرے کے احرام میں عورت کو حیض آ جائے پھر حج کا وقت آ جائے تو وہ عمرے کو چھوڑ کر حج کا تلبیہ پکارے، کیا اس پر عمرے کی قضاء لازم ہو گی؟
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عبدالرحمٰن! اپنی بہن عائشہ کو بٹھا کر لے جاؤ اور انہیں تنعیم ۱؎ سے عمرہ کرا لاؤ، جب تم ٹیلوں سے تنعیم میں اترو تو چاہیئے کہ وہ احرام باندھے ہو، کیونکہ یہ مقبول عمرہ ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1995]
1995. اردو حاشیہ:
➊ تنعیم مکہ سے چھ میل کے فاصلے پر قریب ترین مقام اورآجکل شہر کی آبادی کاحصہ ہے۔اور مسجد عائشہ کے نام سے معروف منزل ہے۔
➋ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔کہ اس روایت میں (فاذا ھبطت) جب تو اسے لے کر ٹیلےسے اُترے۔ والا آخری حصہ صحیح نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1995]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:573
573- سیدنا عبدالرحمٰن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی تھی کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھائیں اور تنعیم سے انہیں عمرہ کروا دیں۔ سفیان کہتے ہیں یہ روایت شعبہ کی شرط کے مطابق ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں، انہیں نے یہ خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا، وہ یہ کہتے ہیں، اس طرح روایت متصل ہوجاتی ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:573]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عذر کی بنا پر تنعیم سے احرام باندھنا درست ہے، تنعیم جگہ پر اب مسجد عائشہ بنا دی گئی ہے، بعض لوگ روزانہ مسجد عائشہ جاتے ہیں، اور احرام باندھ کر عمرہ کرتے ہیں، یہ بالکل غلط ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 573]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2985
2985. حضرت عبد الرحمٰن بن ابی بکر صدیق ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں حضرت عائشہ ؓ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھاؤں اور مقام تنعیم سے انھیں عمرہ کرا لاؤں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2985]
حدیث حاشیہ:
اس موقع پر حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرؓ نے اپنی محترمہ بہن حضرت عائشہؓ کو سواری پر پیچھے بٹھایا۔
اس سے باب کا مقصد ثابت ہوا۔
پہلی حدیث میں مزید تفصیل بھی مذکور ہوئی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2985]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1784
1784. حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر ؓ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ حضرت عائشہ ؓ کو اپنے ساتھ سوار کرکے لے جائیں اور انھیں مقام تنعیم سے عمرہ کر لائیں۔ سفیان بن عیینہ نے کبھی تو کہا: میں نے عمرو بن دینار سے سنا۔ اور کبھی کہا: میں نے عمرو سے کئی بار یہ حدیث سنی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1784]
حدیث حاشیہ:

ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی:
اللہ کے رسول! آپ کے اصحاب تو حج اور عمرہ دونوں کا ثواب لے کر واپس جا رہے ہیں جبکہ میں نے صرف حج ہی کیا ہے، عمرہ نہیں کیا تو آپ نے مجھ سے فرمایا:
تم اپنے بھائی عبدالرحمٰن ؓکے ساتھ مقام تنعیم جاؤ، وہاں سے عمرے کا احرام باندھ کر اسے مکمل کر لو۔
آپ نے مکہ کے بالائی حصے میں ان کا انتظار کیا۔
(صحیح البخاري، الجھاد، حدیث: 2984) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہل مکہ اگر عمرہ کرنا چاہیں تو انہیں حرم سے باہر جا کر "حل" سے احرام باندھنا ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ ؓ کو مقام تنعیم سے عمرے کا احرام باندھنے کا حکم دیا کیونکہ دوسرے مقامات کی نسبت یہ مقام مکہ سے زیادہ قریب ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1784]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2985
2985. حضرت عبد الرحمٰن بن ابی بکر صدیق ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں حضرت عائشہ ؓ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھاؤں اور مقام تنعیم سے انھیں عمرہ کرا لاؤں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2985]
حدیث حاشیہ:

ان احادیث میں صراحت ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن ؓ نے اپنی ہمشیرہ اُم المومنین حضرت عائشہ ؓ کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔
اگرچہ یہ سفر حج سے متعلق تھا تاہم سفر جہاد کو اس پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔
عورتوں کا جہاد حج کرنا ہے۔
(صحیح البخاري، الجهاد، حدیث: 2875۔
2876)
اس طرح قیاس کے بغیر ہی عنوان میں بیان کردہ مسئلہ ثابت ہو سکتا ہے۔

سفر و حضر میں محرم کے ساتھ خلوت جائز ہے اور کوئی بھی عورت اپنے محرم کے ہمراہ سفر کر سکتی ہے خواہ وہ سفر حج و عمرہ ہو یا سفر جہاد نیزوہ اپنے محرم کے ساتھ سواری پر بھی بیٹھ سکتی ہے۔
چونکہ اس طرح کے واقعات دوران سفر میں اکثرو بیشتر پیش آتے رہتے ہیں لہٰذا امام بخاری ؒنے انھیں بیان کردیا ہے۔
آئندہ بہت سے عنوانات اسی قبیل سے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2985]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 934 in Urdu