موطا امام مالك رواية ابن القاسم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
عمرہ کی نیت کے ساتھ بعد میں حج کی نیت کرنا
حدیث نمبر: 303
223- وبه: أن ابن عمر خرج إلى مكة معتمرا فى الفتنة، فقال: إن صددت عن البيت صنعنا كما صنعنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأهل بعمرة من أجل أن النبى صلى الله عليه وسلم كان أهل بعمرة عام الحديبية، ثم إن عبد الله بن عمر نظر فى أمره، فقال: ما أمرهما إلا واحد، فالتفت إلى أصحابه، فقال: ما أمرهما إلا واحد، أشهدكم أني قد أوجبت الحج مع العمرة، قال: ثم طاف طوافا واحدا، ورأى أن ذلك مجزئ عنه وأهدى.
اور اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فتنے (جنگ) کے زمانے میں عمرہ کرنے کے لئے مکہ کی طرف چلے تو فرمایا: اگر مجھے بیت اللہ سے روک دیا گیا تو ہم اس طرح کریں گے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، پھر انہوں نے اس وجہ سے عمرے کی لبیک کہی کہ حدبیبہ والے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرے کی لبیک کہی تھی، پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے مسئلے میں غور کیا تو فرمایا: دونوں (عمر ے اور حج) کا تو ایک ہی حکم ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرے کے ساتھ اپنے آپ پر حج لازم کر لیا ہے، پھر انہوں نے ایک طواف کیا اور یہ سمجھے کہ یہ کافی ہے اور قربانی کی۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 303]
تخریج الحدیث: «223- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 360/1ح 818، ك 20 ب 31 ح 99) التمهيد 189/15، الاستذكار:767، و أخرجه البخاري (1806) ومسلم (1230) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4183
| أهل بعمرة عام الحديبية |
صحيح البخاري |
1806
| أهل بعمرة عام الحديبية |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
303
| اهل بعمرة عام الحديبية |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1772
| حاضت صفية بنت حيي فقال النبي حلقى عقرى ما أراها إلا حابستكم ثم قال كنت طفت يوم النحر قالت نعم قال فانفري قلت يا رسول الله إني لم أكن حللت قال فاعتمري من التنعيم فخرج معها أخوها فلقيناه مدلجا فقال موع |
صحيح مسلم |
3227
| لحابستنا فقالوا يا رسول الله إنها قد زارت |
صحيح مسلم |
2919
| افعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تطهري |
صحيح البخاري |
305
| ذلك شيء كتبه الله على بنات آدم افعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تطهري |
صحيح البخاري |
316
| أمر عبد الرحمن ليلة الحصبة فأعمرني من التنعيم مكان عمرتي التي نسكت |
صحيح البخاري |
328
| لعلها تحبسنا ألم تكن طافت معكن فقالوا بلى قال فاخرجي |
سنن ابن ماجه |
641
| انقضي شعرك واغتسلي |
جامع الترمذي |
943
| أحابستنا هي قالوا إنها قد أفاضت فقال رسول الله فلا إذا |
جامع الترمذي |
945
| أقضي المناسك كلها إلا الطواف بالبيت |
صحيح مسلم |
3222
| أحابستنا هي قالت فقلت يا رسول الله إنها قد كانت أفاضت وطافت بالبيت ثم حاضت بعد الإفاضة فقال رسول الله فلتنفر |
صحيح مسلم |
2929
| من لم يكن ساق الهدي أن يحل قالت فحل من لم يكن ساق الهدي ونساؤه لم يسقن الهدي اذهبي مع أخيك |
صحيح مسلم |
2927
| انتظري فإذا طهرت فاخرجي إلى التنعيم فأهلي منه القينا عند كذا وكذا غدا على قدر نصبك أو قال نفقتك |
صحيح مسلم |
2918
| هذا شيء كتبه الله على بنات آدم اقضي ما يقضي الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تغتسلي |
صحيح مسلم |
3225
| أحابستنا صفية قلنا قد أفاضت قال فلا إذن |
صحيح مسلم |
2908
| أمر رسول الله أبا بكر يأمرها أن تغتسل وتهل |
صحيح مسلم |
3226
| لعلها تحبسنا ألم تكن قد طافت معكن بالبيت قالوا بلى قال فاخرجن |
صحيح مسلم |
3228
| لحابستنا ثم قال لها أكنت أفضت يوم النحر قالت نعم قال فانفري |
سنن أبي داود |
1743
| تغتسل فتهل |
صحيح البخاري |
1518
| أعمرها من التنعيم فأحقبها على ناقة فاعتمرت |
صحيح البخاري |
1561
| من لم يكن ساق الهدي أن يحل فحل من لم يكن ساق الهدي ونساؤه لم يسقن فأحللن اذهبي مع أخيك إلى التنعيم |
صحيح البخاري |
1650
| افعلي كما يفعل الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تطهري |
صحيح البخاري |
1733
| أفضنا يوم النحر فحاضت صفية فأراد النبي منها ما يريد الرجل من أهله فقلت يا رسول الله إنها حائض حابستنا هي قالوا يا رسول الله أفاضت يوم النحر قال اخرجوا |
سنن أبي داود |
2003
| لعلها حابستنا قالوا يا رسول الله إنها قد أفاضت فقال فلا إذا |
صحيح البخاري |
1757
| أحابستنا هي قالوا إنها قد أفاضت قال فلا إذا |
صحيح البخاري |
1772
| حاضت صفية ليلة النفر فقالت ما أراني إلا حابستكم عقرى حلقى أطافت يوم النحر قيل نعم قال فانفري |
صحيح البخاري |
1787
| إذا طهرت فاخرجي إلى التنعيم فأهلي ثم ائتينا بمكان كذا ولكنها على قدر نفقتك أو نصبك |
سنن ابن ماجه |
2911
| أن تغتسل وتهل |
سنن ابن ماجه |
2963
| ضحى رسول الله عن نسائه بالبقر |
صحيح البخاري |
2984
| أمر عبد الرحمن أن يعمرها من التنعيم فانتظرها رسول الله بأعلى مكة حتى جاءت |
سنن ابن ماجه |
2999
| يردف عائشة فيعمرها من التنعيم |
سنن ابن ماجه |
3000
| دعي عمرتك وانقضي رأسك وامتشطي وأهلي بالحج قالت ففعلت فلما كانت ليلة الحصبة وقد قضى الله حجنا أرسل معي عبد الرحمن بن أبي بكر فأردفني وخرج إلى التنعيم فأحللت بعمرة فقضى الله حجنا وعمرتنا ولم يكن في ذلك هدي ولا صدقة ولا صوم |
سنن ابن ماجه |
3072
| أحابستنا هي فقلت إنها قد أفاضت ثم حاضت بعد ذلك قال رسول الله فلتنفر |
سنن ابن ماجه |
3073
| إلا حابستنا فقلت يا رسول الله |
صحيح البخاري |
4401
| أحابستنا هي فقلت إنها قد أفاضت يا رسول الله وطافت بالبيت فقال النبي فلتنفر |
صحيح البخاري |
5329
| إنك لحابستنا أكنت أفضت يوم النحر قالت نعم قال فانفري إذا |
صحيح البخاري |
5548
| هذا أمر كتبه الله على بنات آدم اقضي ما يقضي الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت فلما كنا بمنى أتيت بلحم بقر ضحى رسول الله عن أزواجه بالبقر |
صحيح البخاري |
5559
| هذا أمر كتبه الله على بنات آدم اقضي ما يقضي الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت ضحى رسول الله عن نسائه بالبقر |
صحيح البخاري |
6157
| عقرى حلقى لغة لقريش إنك لحابستنا ثم قال أكنت أفضت يوم النحر يعني الطواف قالت نعم قال فانفري إذا |
سنن النسائى الصغرى |
349
| هذا أمر كتبه الله على بنات آدم اقضي ما يقضي الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت |
سنن النسائى الصغرى |
243
| أرسلني مع عبد الرحمن بن أبي بكر إلى التنعيم فاعتمرت فقال هذه مكان عمرتك |
سنن النسائى الصغرى |
291
| هذا أمر كتبه الله على بنات آدم اقضي ما يقضي الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت ضحى رسول الله عن نسائه بالبقر |
سنن النسائى الصغرى |
2805
| اذهبي مع أخيك إلى التنعيم فأهلي بعمرة ثم موعدك مكان كذا وكذا |
سنن النسائى الصغرى |
391
| لعلها تحبسنا ألم تكن طافت معكن بالبيت قالت بلى قال فاخرجن |
سنن النسائى الصغرى |
2742
| هذا شيء كتبه الله على بنات آدم |
بلوغ المرام |
126
| افعلي ما يفعل الحاج غير ان لا تطوفي بالبيت حتى تطهري |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
303
| لعلها تحبسنا، الم تكن قد طافت معكن بالبيت |
مسندالحميدي |
203
| أحابستنا هي |
مسندالحميدي |
204
| فلا إذا |
موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم کی حدیث نمبر 303 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 303
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 1806، ومسلم 1230، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ عمرے کی نیت کرنے والا بعد میں عمرے اور حج دونوں یعنی حجِ قِران کی نیت کرلے تو جائز ہے۔
➋ اگر راستہ خطرناک ہو تو بھی حج اور عمرے کے لئے بیت اللہ کا سفر کرنا جائز ہے۔
➌ اگر کوئی شخص حالتِ احرام میں عمرہ یا حج کرنے کی نیت سے مکہ آئے اور کسی عذر کی وجہ سے حرم سے روک دیا جائے تو وہ احرام کھولے اور ایک بکری ذبح کرکے فدیہ دے۔ بعد میں اسے اس عمرے یا حج کی قضا ادا کرنا ہوگی۔ واللہ اعلم
➍ تمام امور میں طریقۂ نبوی کو مد نظر رکھنا چاہئے۔
➎ مسائل میں خوب غور وخوض کے بعد فتویٰ دینا چاہئے۔
➏ اگر کسی مسئلے میں تحقیق بدل جائے تو سابقہ بات سے رجوع کرکے نئی تحقیق پر عمل کرنا چاہئے۔
تفقه:
➊ عمرے کی نیت کرنے والا بعد میں عمرے اور حج دونوں یعنی حجِ قِران کی نیت کرلے تو جائز ہے۔
➋ اگر راستہ خطرناک ہو تو بھی حج اور عمرے کے لئے بیت اللہ کا سفر کرنا جائز ہے۔
➌ اگر کوئی شخص حالتِ احرام میں عمرہ یا حج کرنے کی نیت سے مکہ آئے اور کسی عذر کی وجہ سے حرم سے روک دیا جائے تو وہ احرام کھولے اور ایک بکری ذبح کرکے فدیہ دے۔ بعد میں اسے اس عمرے یا حج کی قضا ادا کرنا ہوگی۔ واللہ اعلم
➍ تمام امور میں طریقۂ نبوی کو مد نظر رکھنا چاہئے۔
➎ مسائل میں خوب غور وخوض کے بعد فتویٰ دینا چاہئے۔
➏ اگر کسی مسئلے میں تحقیق بدل جائے تو سابقہ بات سے رجوع کرکے نئی تحقیق پر عمل کرنا چاہئے۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 223]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1806
1806. حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فتنہ ابن زبیر کے زمانے میں عمرہ کرنے کی نیت سے مکہ روانہ ہوئے تو کہا: اگر مجھے بیت اللہ کا طواف کرنے سے روکا گیا تو میں وہی کچھ کروں گا جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کیا تھا، چنانچہ انھوں نے اس بناپر احرام باندھ لیا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال احرام باندھا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1806]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ ہجری میں عمرے کا ارادہ کیا تو مشرکین نے آپ کو بیت اللہ پہنچنے سے روک دیا۔
اس موقع پر سورۂ فتح نازل ہوئی۔
صحابۂ کرام ؓ کو اجازت دی گئی کہ وہ اپنے قربانی کے جانور ذبح کر دیں، سر منڈوا کر احرام کھول دیں۔
حضرت ابن عمر ؓ نے اسی واقعۂ حدیبیہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رکاوٹ کے وقت عمرے کا احرام بھی کھولا جا سکتا ہے جبکہ بعض حضرات احصار کو صرف حج کے ساتھ خاص کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حج کا وقت مقرر ہے جبکہ عمرہ تو کسی وقت بھی کیا جا سکتا ہے لیکن ان کا موقف متعدد احادیث کے خلاف ہے۔
امام بخاری ؒ نے انہی حضرات کی تردید کے لیے یہ احادیث پیش کی ہیں۔
پھر احصار کسی معین امر سے نہیں ہوتا بلکہ جو بیمار ہو جائے یا دشمن کا خطرہ ہو یا خرچہ ختم ہو جائے، بہرحال جس صورت میں بھی بیت اللہ تک نہ پہنچ سکتا ہو وہ محصر ہو گا اور اس پر احصار کے احکام لاگو ہوں گے۔
(3)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا مقصد یہ تھا کہ اگر مجھے عمرہ کرنے سے روک دیا گیا تو میں وہی کروں گا جو ایسے حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، یعنی عمرے کا احرام کھول دوں گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کھول دیا تھا۔
(4)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح حج میں احصار ممکن ہے عمرے میں بھی ہو سکتا ہے۔
امام بخاری ؒ بھی اسی موقف کو ثابت کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ اس کی تفصیل درج ذیل حدیث میں ہے۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ ہجری میں عمرے کا ارادہ کیا تو مشرکین نے آپ کو بیت اللہ پہنچنے سے روک دیا۔
اس موقع پر سورۂ فتح نازل ہوئی۔
صحابۂ کرام ؓ کو اجازت دی گئی کہ وہ اپنے قربانی کے جانور ذبح کر دیں، سر منڈوا کر احرام کھول دیں۔
حضرت ابن عمر ؓ نے اسی واقعۂ حدیبیہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رکاوٹ کے وقت عمرے کا احرام بھی کھولا جا سکتا ہے جبکہ بعض حضرات احصار کو صرف حج کے ساتھ خاص کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حج کا وقت مقرر ہے جبکہ عمرہ تو کسی وقت بھی کیا جا سکتا ہے لیکن ان کا موقف متعدد احادیث کے خلاف ہے۔
امام بخاری ؒ نے انہی حضرات کی تردید کے لیے یہ احادیث پیش کی ہیں۔
پھر احصار کسی معین امر سے نہیں ہوتا بلکہ جو بیمار ہو جائے یا دشمن کا خطرہ ہو یا خرچہ ختم ہو جائے، بہرحال جس صورت میں بھی بیت اللہ تک نہ پہنچ سکتا ہو وہ محصر ہو گا اور اس پر احصار کے احکام لاگو ہوں گے۔
(3)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا مقصد یہ تھا کہ اگر مجھے عمرہ کرنے سے روک دیا گیا تو میں وہی کروں گا جو ایسے حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، یعنی عمرے کا احرام کھول دوں گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کھول دیا تھا۔
(4)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح حج میں احصار ممکن ہے عمرے میں بھی ہو سکتا ہے۔
امام بخاری ؒ بھی اسی موقف کو ثابت کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ اس کی تفصیل درج ذیل حدیث میں ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1806]
Moata Imam Malik (Qasim) Hadith 303 in Urdu