🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية ابن القاسم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية ابن القاسم میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (657)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
کسی عورت کی پیٹ میں بچہ مارا جائے تو اس کی دیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 538
25- وبه: عن أبى هريرة: أن امرأتين من هذيل رمت إحداهما الأخرى فطرحت جنينا ميتا فقضى فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم بغرة عبد أو وليدة.
اور اسی سند (کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ہذیل (قبیلے) کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو مارا تو اس کا مردہ بچہ پیدا ہو گیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ایک غلام یا لونڈی (مارنے والی کی طرف سے بدلے اور دیت کے طور پر) دی جائے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 538]
تخریج الحدیث: «25- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 855/2 ح 1658، ك 43 ب 7 ح 5) التمهيد 107/7، الاستذكار: 1586، و أخرجه البخاري (5759) ومسلم (1681) من حديث مالك به .»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5759
ان امراتين رمت إحداهما الاخرى بحجر فطرحت جنينها
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
538
ان امراتين من هذيل رمت إحداهما الاخرى فطرحت جنينا ميتا فقضى فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم بغرة عبد او وليدة
موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم کی حدیث نمبر 538 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 538
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 5759، ومسلم 1681 من حديث مالك به]

تفقه:
➊ ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن الرائے کہتے تھے کہ لونڈی کے پیٹ کا بچہ (جو مر جائے) اس کی دیت میں غلام یا لونڈی کی قیمت پچاس دینار یا چھ سو درہم ہونی چاہئے اور آزاد مسلمان عورت کی دیت پانچ سو دینار یا چھ ہزار درہم ہے۔ دیکھئے: [موطأ امام مالك رواية يحييٰ 856/2 ح 1660، وسنده صحيح]
➋ بعض علماء کہتے ہیں کہ اگر ایسی حالت میں بچہ زندہ پیدا ہو کر مر جائے تو اس کی پوری دیت ادا کرنا لازم ہے۔
➌ بعض علماء نے کہا ہے کہ لڑنے والی یہ دونوں عورتیں ایک دوسرے کی سوکنیں تھیں۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 25]