شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
بھنا ہوا گوشت چھری سے کاٹ کر کھانا
حدیث نمبر: 165
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: ضِفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأُتِيَ بِجَنْبٍ مَشْوِيٍّ، ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ، فَحَزَّ لِي بِهَا مِنْهُ قَالَ: فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ فَقَالَ: «مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ؟» . قَالَ: وَكَانَ شَارِبُهُ قَدْ وَفَى، فَقَالَ لَهُ: «أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ» أَوْ «قُصُّهُ عَلَى سِوَاكٍ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہمانی پر گیا تو گوشت کا ایک بھنا ہوا پہلو پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھری لے کر کاٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے بھی اس سے (گوشت) کاٹا، (اتنی دیر میں) اچانک سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز کی اطلاع دینے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری پھینک دی پھر فرمایا: ”اسے کیا ہو گیا ہے، اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں؟“ راوی نے کہا کہ میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نیچے سواک رکھ کر انہیں کاٹ نہ دوں؟“ یا فرمایا: ”نیچے مسواک رکھ کر انہیں کاٹ دو۔“ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة إدام رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 165]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«سنن ابي داود: 188، مسند احمد: 252/4،255»
«سنن ابي داود: 188، مسند احمد: 252/4،255»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
188
| أمر بجنب فشوي وأخذ الشفرة فجعل يحز لي بها منه قال فجاء بلال فآذنه بالصلاة قال فألقى الشفرة وقال ما له تربت يداه وقام يصل |
شمائل ترمذي |
165
| اقصه لك على سواك |