سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
The Book on Purification
101. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَائِضِ تَتَنَاوَلُ الشَّيْءَ مِنَ الْمَسْجِدِ
101. باب: حائضہ ہاتھ بڑھا کر مسجد سے کوئی چیز لے سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 134
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا قتيبة، حدثنا عبيدة بن حميد، عن الاعمش، عن ثابت بن عبيد، عن القاسم بن محمد، قال: قالت لي عائشة: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ناوليني الخمرة من المسجد " قالت: قلت: إني حائض , قال: " إن حيضتك ليست في يدك ". قال: وفي الباب عن ابن عمر , وابي هريرة. قال ابو عيسى: حديث عائشة حسن صحيح، وهو قول عامة اهل العلم، لا نعلم بينهم اختلافا في ذلك بان لا باس ان تتناول الحائض شيئا من المسجد.(مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ " قَالَتْ: قُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ , قَالَ: " إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ، لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا فِي ذَلِكَ بِأَنْ لَا بَأْسَ أَنْ تَتَنَاوَلَ الْحَائِضُ شَيْئًا مِنَ الْمَسْجِدِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مسجد سے مجھے بوریا اٹھا کر دو، تو میں نے عرض کیا: میں حائضہ ہوں، آپ نے فرمایا: تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عائشہ رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے۔ ہم اس مسئلہ میں کہ حائضہ کے مسجد سے کوئی چیز اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الحیض 2 (298)، سنن ابی داود/ الطہارة 104 (261)، سنن النسائی/الطہارة 173 (272)، والحیض 18 (383)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 120 (632)، (تحفة الأشراف: 17446)، مسند احمد (6/45، 101، 112، 141، 173، 214، 229، 245)، سنن الدارمی/الطہارة 81 (798) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (632)

   جامع الترمذي134عائشة بنت عبد اللهحيضتك ليست في يدك
   سنن النسائى الصغرى384عائشة بنت عبد اللهناوليني الخمرة من المسجد فقلت إني حائض فقال رسول الله ليست حيضتك في يدك
   سنن النسائى الصغرى272عائشة بنت عبد اللهناوليني الخمرة من المسجد قالت إني حائض فقال رسول الله ليست حيضتك في يدك
   سنن أبي داود261عائشة بنت عبد اللهحيضتك ليست في يدك
   صحيح مسلم689عائشة بنت عبد اللهناوليني الخمرة من المسجد قالت فقلت إني حائض فقال إن حيضتك ليست في يدك
   صحيح مسلم690عائشة بنت عبد اللهالحيضة ليست في يدك
   سنن ابن ماجه632عائشة بنت عبد اللهناوليني الخمرة من المسجد فقلت إني حائض فقال ليست حيضتك في يدك

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 261  
´حائضہ عورت مسجد سے کوئی چیز لے اس کے حکم کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دو، تو میں نے عرض کیا: میں حائضہ ہوں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 261]
261. اردو حاشیہ:
 اس حدیث کے الفاظ میں «من المسجد»  کا تعلق دو کلمات سے ہو سکتا ہے  «ناوليني»  سے اس صورت میں ترجمہ ہو گا مجھے مسجد میں سے اٹھا کر لا دو۔ دوسرا  «قال»  سے تو ترجمہ ہو گا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں سے مجھے کہا کہ مجھے چٹائی پکڑا دو۔
مسئلہ: حائضہ یا جنبی اگر ہاتھ لمبا کر کے مسجد میں سے کوئی چیز اٹھائے یا رکھے تو جائز ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 261   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 384  
´حائضہ سے کام لینے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا دو، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 384]
384۔ اردو حاشیہ: امام اسحاق بن ابراہیم اس حدیث میں امام نسائی رحمہ اللہ کے دوسرے استاد ہیں اور انہوں نے یہ حدیث جریر سے بیان فرمائی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ روایت جریر کے علاوہ ابومعاویہ نے بھی اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح بیان فرمائی ہے۔ مزید دیکھیے، حدیث: 274 کے فوائد و مسائل۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 384   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 272  
´حائضہ سے کام لینے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی دے دو، انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 272]
272۔ اردو حاشیہ: حیض اور جنابت کی حالت میں کسی اشد ضرورت کے تحت مسجد میں داخل ہوا جا سکتا ہے، البتہ اس حالت میں مسجد میں ٹھہرنا نادرست نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: میں حائضہ عورت اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں کرتا۔ [سنن أبي داود، الطھارة، حدیث: 232]
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 272   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث632  
´حائضہ عورت مسجد سے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھا لے تو اس کے حکم کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا کر دے دو، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے حیض کی گندگی تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 632]
اردو حاشہ:
(1)
حیض ونفاس کی حالت میں عورت کے لیے مسجد میں داخل ہونا منع ہے۔

(2)
مسجد سے باہر کھڑے ہوکر مسجد سے ضرورت کی کوئی چیز اٹھا لینا یا مسجد میں کوئی چیز رکھ دینا مسجد میں داخل ہونے کی حکم میں نہیں بلکہ یہ جائز ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 632   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.