الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
حیض کے احکام و مسائل
3. باب جَوَازِ غَسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالاِتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ:
3. باب: حائضہ عورت کا اپنے خاوند کے سر کو دھونے اور اس میں کنگھی کرنے کے جواز اور حائضہ کے جھوٹے کے پاک ہونے اور اس کی گود میں ٹیک لگانے اور اس کی گود میں قرآن پڑھنے کا جواز۔
حدیث نمبر: 689
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا يحيى بن يحيى ، وابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، قال يحيى: اخبرنا، وقال الآخران: حدثنا ابو معاوية ، عن الاعمش ، عن ثابت بن عبيد ، عن القاسم بن محمد ، عن عائشة ، قالت: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: ناوليني الخمرة من المسجد، قالت: فقلت: إني حائض، فقال: إن حيضتك ليست في يدك ".وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ: إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ ".
اعمش نے ثابت بن عبید سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی، کہا: رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے مسجد میں سے جائے نماز پکڑا دو۔ کہا: میں نے عرض کی: میں حائضہ ہوں۔ آپ نے فرمایا: تمہار ا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا جبکہ آپصلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے، مجھے جائے نماز پکڑا دو، میں نے عرض کیا، میں حائضہ ہوں، آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 298

   جامع الترمذي134عائشة بنت عبد اللهحيضتك ليست في يدك
   سنن النسائى الصغرى384عائشة بنت عبد اللهناوليني الخمرة من المسجد فقلت إني حائض فقال رسول الله ليست حيضتك في يدك
   سنن النسائى الصغرى272عائشة بنت عبد اللهناوليني الخمرة من المسجد قالت إني حائض فقال رسول الله ليست حيضتك في يدك
   سنن أبي داود261عائشة بنت عبد اللهحيضتك ليست في يدك
   صحيح مسلم689عائشة بنت عبد اللهناوليني الخمرة من المسجد قالت فقلت إني حائض فقال إن حيضتك ليست في يدك
   صحيح مسلم690عائشة بنت عبد اللهالحيضة ليست في يدك
   سنن ابن ماجه632عائشة بنت عبد اللهناوليني الخمرة من المسجد فقلت إني حائض فقال ليست حيضتك في يدك

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 261  
´حائضہ عورت مسجد سے کوئی چیز لے اس کے حکم کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دو، تو میں نے عرض کیا: میں حائضہ ہوں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 261]
261. اردو حاشیہ:
 اس حدیث کے الفاظ میں «من المسجد»  کا تعلق دو کلمات سے ہو سکتا ہے  «ناوليني»  سے اس صورت میں ترجمہ ہو گا مجھے مسجد میں سے اٹھا کر لا دو۔ دوسرا  «قال»  سے تو ترجمہ ہو گا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں سے مجھے کہا کہ مجھے چٹائی پکڑا دو۔
مسئلہ: حائضہ یا جنبی اگر ہاتھ لمبا کر کے مسجد میں سے کوئی چیز اٹھائے یا رکھے تو جائز ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 261   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 384  
´حائضہ سے کام لینے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا دو، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 384]
384۔ اردو حاشیہ: امام اسحاق بن ابراہیم اس حدیث میں امام نسائی رحمہ اللہ کے دوسرے استاد ہیں اور انہوں نے یہ حدیث جریر سے بیان فرمائی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ روایت جریر کے علاوہ ابومعاویہ نے بھی اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح بیان فرمائی ہے۔ مزید دیکھیے، حدیث: 274 کے فوائد و مسائل۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 384   
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 272  
´حائضہ سے کام لینے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی دے دو، انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 272]
272۔ اردو حاشیہ: حیض اور جنابت کی حالت میں کسی اشد ضرورت کے تحت مسجد میں داخل ہوا جا سکتا ہے، البتہ اس حالت میں مسجد میں ٹھہرنا نادرست نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: میں حائضہ عورت اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں کرتا۔ [سنن أبي داود، الطھارة، حدیث: 232]
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 272   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث632  
´حائضہ عورت مسجد سے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھا لے تو اس کے حکم کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا کر دے دو، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے حیض کی گندگی تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 632]
اردو حاشہ:
(1)
حیض ونفاس کی حالت میں عورت کے لیے مسجد میں داخل ہونا منع ہے۔

(2)
مسجد سے باہر کھڑے ہوکر مسجد سے ضرورت کی کوئی چیز اٹھا لینا یا مسجد میں کوئی چیز رکھ دینا مسجد میں داخل ہونے کی حکم میں نہیں بلکہ یہ جائز ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 632   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.