الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: جمعہ کے فضائل و مسائل
The Book of Jumu\'ah (Friday Prayer)
18. بَابُ : قِيَامِ الإِمَامِ فِي الْخُطْبَةِ
18. باب: امام کے کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔
Chapter: The Imam Should Stand During The Khutbah
حدیث نمبر: 1398
Save to word اعراب
(موقوف) اخبرنا احمد بن عبد الله بن الحكم قال حدثنا محمد بن جعفر قال حدثنا شعبة عن منصور عن عمرو بن مرة عن ابي عبيدة عن كعب بن عجرة قال: دخل المسجد وعبد الرحمن بن ام الحكم يخطب قاعدا فقال انظروا إلى هذا يخطب قاعدا وقد قال الله عز وجل {وإذا راوا تجارة او لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما} ‏.‏
(موقوف) أخبرنا أحمد بن عبد الله بن الحكم قال حدثنا محمد بن جعفر قال حدثنا شعبة عن منصور عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة عن كعب بن عجرة قال: دخل المسجد وعبد الرحمن بن أم الحكم يخطب قاعدا فقال انظروا إلى هذا يخطب قاعدا وقد قال الله عز وجل {وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما} ‏.‏
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں آئے اور عبدالرحمٰن بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے تو انہوں نے کہا: اس شخص کو دیکھو بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» اور جب وہ کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آ جائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں (الجمعہ: ۱۱)۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 11 (864)، (تحفة الأشراف: 11120) (صحیح)»

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

سنن نسائی کی حدیث نمبر 1398 کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1398  
1398۔ اردو حاشیہ: یہ سورۂ جمعہ کی آخری آیت ہے۔ اس میں جمعے ہی کا ذکر ہے۔ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ تجارتی قافلے کی گھنٹیاں بجنے لگیں، لوگ غلہ حاصل کرنے کے لیے آہستہ آہستہ کھسک گئے، چند ایک باقی رہ گئے تھے۔ آپ کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ اسی سے استدلال ہے، آپ کی سنت پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ آپ خطبہ ہمیشہ کھڑے ہو کر دیا کرتے تھے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1398   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.