🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب : النهى عن تخطي رقاب الناس والإمام على المنبر يوم الجمعة
باب: جمعہ میں امام کے منبر پر ہونے کی حالت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1400
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قال: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَانِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فَقَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيِ اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ".
ابوالزاہریہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے روز عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے بغل میں بیٹھا تھا تو انہوں نے کہا: ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے فلان! بیٹھ جاؤ تم نے (لوگوں کو) تکلیف دی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 238 (1118)، (تحفة الأشراف: 5188)، مسند احمد 4/188، 190 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ اس صورت میں ہے جب اگلی صفوں میں خالی جگہ نہ ہو لیکن اگر لوگوں نے خالی جگہ چھوڑ رکھی ہو تو گردنیں پھلانگ کر جانا درست ہو گا، یا یہ اس وقت کے ساتھ خاص ہے جب امام منبر پر بیٹھا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن بسر النصري، أبو صفوان، أبو بسرصحابي
👤←👥حدير بن كريب الحضرمي، أبو الزاهرية
Newحدير بن كريب الحضرمي ← عبد الله بن بسر النصري
ثقة
👤←👥معاوية بن صالح الحضرمي، أبو حمزة، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newمعاوية بن صالح الحضرمي ← حدير بن كريب الحضرمي
صدوق له أوهام
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← معاوية بن صالح الحضرمي
ثقة حافظ
👤←👥وهب بن بيان الواسطي، أبو عبد الله
Newوهب بن بيان الواسطي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1400
اجلس فقد آذيت
سنن أبي داود
1118
اجلس فقد آذيت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1400 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1400
1400۔ اردو حاشیہ: یہ تب ہے جب آگے صفوں میں جگہ خالی نہ ہو۔ اگر آگے جگہ خالی ہے مگر لوگوں کی گردنیں پھلانگے بغیر وہاں پہنچا نہیں جا سکتا تو گردنیں پھلانگنا جائز ہے کیونکہ اس میں ان لوگوں کا قصور ہے کہ خالی جگہ چھوڑ کر پیچھے بیٹھے۔ اسی طرح امام بھی لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر منبر تک پہنچ سکتا ہے کیونکہ اس کے بغیر چارہ نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1400]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1118
جمعہ کے دن خطبہ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا منع ہے۔
ابوزاہریہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن (مسجد میں) تھے، اتنے میں ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا تو عبداللہ بن بسر نے کہا: ایک شخص (اسی طرح) جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اس شخص سے فرمایا: بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1118]
1118۔ اردو حاشیہ:
➊ جمعہ میں دیر سے آنا اور پھر لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے جگہ لینے کی کوشش کرنا انتہائی مکروہ کام ہے۔ مسلمان کا اکرام واجب ہے اور اسے ایذا دینا حرام ہے۔
➋ ہاں اگر لوگ جہالت کی وجہ سے اگلی صفیں چھوڑ کر پیچھے بیٹھ جائیں تو ایسے لوگوں کی گردنیں پھلانگنا جائز ہو گا۔ کیونکہ انہوں نے از خود اپنی حرمت پامال کی پیچھے بیٹھے اور اگلی صفیں پوری نہیں کیں۔
➌ البتہ خطیب امام کو شرعی ضرورت کے تحت اس عمل کی رخصت ہے۔ ایسے ہی جو بےوضو ہو جائے تو باہر جانا اس کے لئے ضروری ہو جاتا ہے۔ مگر پھر بھی ادب و اکرام سے گزرے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1118]